ٹونٹی ٹونٹی ختم
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 28 / دسمبر / 2020
- 14450
بے چارہ تہتر سالہ پاکستان ، اپنی شکستہ کمر کے بل جھُک کر چلتا ہوا ، خوف کے عالم میں اُکھڑی اُکھڑی سانسیں لے رہا ہے کہ نہ جانے اب کون سی قیامت ٹوٹنے والی ہے۔
اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت اور پی ڈی ایم کے کثیر الجماعتی اتحاد کے درمیان جو ٹونٹی ٹونٹی کھیلا جارہا ہے ، اس میں دونوں طرف کے کپتان آخری گیندیں شمار کر رہے ہیں اور نہیں لگتا کہ کرکٹ کا کپتان جمہوریت کا یہ میچ جیت پائے گا ۔ متحدہ اپوزیشن کی طرف سے بار بار تاریخیں دی جا رہی ہیں کہ کہ عمران خان شکست تسلیم کر لے اور بطور وزیر اعظم استعفیٰ دے ۔ وزیر اعظم کے استعفے کے لیے ارکانِ اسمبلی کے استعفوں کا طومار جمع کیا جا رہا ہے۔ اور کھیل دونوں طر سے دل چسپ مرحلے میں دکھائی تو دیتا ہے لیکن پھر بھی یقین سے کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی کہ کیا ہونے والا ہے ۔
عمران خان کے ساتھ چور چور کا شور مچانے والا گروہ اپنے طویل دھرنے کے اختتام پر برسرِ اقتدار آ کر اپنے انتخابی منشور کا کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں کرسکا۔ یہ ایک بے حد حوصلہ شکن صورتِ حال ہے جس نے پوری قوم کو ایک ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں قوم کا لفظ سیاسی گھرانوں ، اُن کی جماعتوں کے لیے استعمال نہیں ہوا بلکہ اں کروڑوں مفلسوں اور خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے ضمن میں ہے جن کو شبینہ پناہ گاہوں کے قیام سے بہلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب یہاں یہ امر وضاحت طلب ہے کہ کیا یہ پناہ گاہیں عورتوں اور بچوں کو بھی پناہ دیتی ہیں یا نہیں؟
آسمان دیکھ رہا ہے کہ بائیس کروڑ لوگوں کی انسانی آبادی دکھ اور اذیت کی چکی میں پس رہی ہے۔ بے چارہ غریب و عوام تو درکنار یہاں سیاست دان دن رات ہذیاں میں مبتلا اول فول بولتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت کرونا کے آسمانی عذاب میں مبتلا پوری قوم نیم پاگل سیاست دانوں کی چیخ و پکار سن کر دہشت زدہ ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کچھ مخبوط الحواس لوگ دن رات اپنے حلق سے مریضوں کی سی ٓآوازیں نکال کر ایک دوسرے کو کوسنے دینے پر مامور ہیں اور بعض اوقات اتنا شور مچتا ہے کہ کان پڑی آوز سنائی نہیں دیتی۔ ایسے میں نیشنل ڈائلاگ کی باتیں کرنے والوں کی معصومیت پر ہنسی آتی ہے کہ یہ کس ناممکن کو ممکن بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
پی ڈی ایم کے اتحاد میں دراڑیں پڑی ہوئی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان پیپلز پارٹی سے ناراض ہیں اور آج وہ گڑھی خدا بخش کے بے نظیر بھٹو کی برسی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ دروغ بر گردنِ منصور علی خان، سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان لاڑکانہ میں اپنی پسند کے کچھ افسران تعینات کروانا چاہتے تھے، جسے پی پی پی نے منظور نہیں کیا اور انکار کردیا، جس پر جے یو آئی کی طرف سے دھمکی دی گئی کہ اگر اُن کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو گڑھی خُدا بخش میں دھرنا دیا جائے گا۔ اس پر اتحاد کے شیشے میں دراڑ پڑ گئی۔ اور مولانا فضل الرحمان تعزیتی جلسے میں شریک نہیں ہوئے۔ یہ ساری صورتِ حال قومی سالمیت کے مونہہ پر ایک طمانچہ ہے۔
لگتا ہے حکومت کی طرح اپوزیشن بھی اپنی داخلی کشمکش کے سبب سیاسی حالات پر اپنی گرفت کمزور محسوس کر رہی ہے تاہم آج آصف علی زرداری کی تقریر سے یہ تاثر ملا کہ پیپلز پارٹی کا ایک زرداری سب پر بھاری ہے۔ جنرل مشرف کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینکنے کی مثال دے کر انہوں نے اپنی قوت کا ببانگِ دہل اعلان کیا ہے ۔ زرداری صاحب کے لہجے کے تیقن سے مریم نواز کے چہرے کا چاند بھی گہنایا سا نظر آیا ہے۔ اپوزیشن کا بیانیہ نہ صرف کرخت اور سنگدلانہ ہے بلکہ توہین آمیز بھی ہے۔ کٹھ پتلی، نا اہل، نالائق اور تابعدار جیسی گالیاں سہنا ایک ملک کے وزیر اعظم کے لیے کافی تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔ مگر دلوں کا حال اللہ ہی جانتا ہے اور میں نہیں کہہ سکتا کہ عمران خان پر یہ سب سن کر کیا گزر رہی ہو گی۔
جنگ کا خطرہ ملکی سرحدوں پر منڈلا رہا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں سے سی پیک پر مسلسل ضربیں لگائی جا رہی ہیں۔ ابھی آج ہی سات سرحدی محافظ شہادت کے رُتبے پر فائز ہوئے ہیں۔ اسلامی ممالک بالخصوص سعودی اور خلیجی ریاستیں پاکستان کی موجودہ حکومت سے سرد مہری برت رہی ہیں۔ اور عمران خان بہت ذہین اور ایماندار ہوتے ہوئے بھی ایک اچھا پارلیمینٹیرین ثابت نہیں ہوا کہ وہ حزبِ مخالف کے سانپ کو کیل سکتا۔ شاید عمران خان کے پاس وہ سیاسی منتر ہی نہیں جس سے سیاسی دشمنوں اور مخالفوں کو مسخر کیا جا سکے۔ وارث شاہ نے کہا ہے:
وارث بھور، فقیر تے نانگ کالے بنا منتروں مول نہ کیلیے جی
مگر ثابت یہی ہو ا ہے کہ عمران خان سیاسی جادو گری نہیں جانتا۔ یہ الگ بات ہے کہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر وہ اپنے مافی الضمیر کو خوش سلیقگی سے بیان کرسکتا ہے مگر وہ دیسی تھڑے کی سیاست کے داؤ پیچ نہیں جانتا اور اس نے ترجمانوں کے عہدوں پر جن نو آموزوں کو لگایا ہے، وہ اُن گھاگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ، جن کو سیاسی جنم پر نونیوں اور زرداریوں نے شاطرانہ داؤ پیچ کی گھُٹی دے رکھی ہے۔ حزبِ اخلتاف کے جادوگروں کے منتر اُن ترجمانوں پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ پی ڈی ایم کے سامری بڑے معرکے کے جادوگر ہیں جو لاٹھی کو سانپ بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔
عمران خان نے سو دنوں میں ایک کروڑ نوکریوں اور ہزاروں مکانوں کا جو پانسہ پھینکا تھا، وہ اُس کے گلے پڑگیا ہے اور اُس کا مسلسل پیچھا کر رہا ہے۔ تبدیلی کی بیل منڈھے چڑھنا تو درکنار معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔ اور آئیں بھی کیسے۔ ایک بگڑے ہوئے آوے کو بدل کر خوش حالی کا گہوارہ بنانا کوئی کرکٹ کا کھیل تو ہے نہیں۔ اور قوموں کی قیادت وعدوں کے اعلانات سے نہیں وعدوں کی تکمیل سے ہوتی ہے جو کہیں نظر نہیں آتی۔ جو بات حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آ رہی، وہ یہ ہے کہ جس ملک کے ادارے کرپشن کے کیچڑ میں گھٹنوں تک دھنسے ہوں، اُن کو تبدیلی کے میگھ ملہار سے ترقی اور خوش حالی کے بہتے دریاؤں میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان میں سیاست کا اونٹ جیسی بے ڈھنگی چال چل رہا ہے، اُس سے سیاست کا کوئی گرگِ باراں دیدہ بھی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ کس کروٹ بیٹھے گا۔ پوری قوم حکومت کے ساتھ دباؤ کا شکا ہے اور حزبِ اختلاف کے سیاسی گھاگ پورا زور لگا کر عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنے کی مہم میں مصروف ہیں۔
یہ ایک تکلیف دہ اور اذیت ناک صورتِ حال ہے جو ہمیں درپیش ہے۔ اس صورتِ حال میں کوئی بھی فطرت اور قدرت کے قوانین کی پاسداری کرتا نظر نہیں آتا۔ ہمارے سیاستدان نہیں جانتے کہ قانونِ ِ فطرت مادی زندگی کی تخلیق اور تغیر و تبدل کا اساسی قانون ہے ۔ ارض و سما کا سارا کارخانہ فطرت کے اساسی قانون کا پابند ہے۔ یہ قانون زمین اور آسمان کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔ یہ قانون ہر لمحہ تبدیل کا حکم دیتا ہے۔ لیکن ہم چہرے اور نام تو بدل دیتے ہیں مگر اپنے رویے نہیں بدلتے اور نہ ہی فطرت کے اصولوں اور قواعد وضوابط کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔
اس کارخانہ فطرت کو جو توانائی مہیا کرتی ہے وہ قدرت ہے۔ علیٰ کُلِ شیٍ قدیر کی قدرت۔ لیکن ہم جو جدید جمہوری سکولوں سے جعلی اسناد کے بل پر سیاسی بقراط بنے پھرتے ہیں، نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں اور کہاں ہیں۔ اور جو لوگ خود کو نہیں جانتے اُن کی سیاست کیا اور حکومت کیا۔ ہمارے مقدر کا فیصلہ بیرونی حالات کریں گے۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ یہ سیاسی ٹونٹی ٹونٹی ختم ہے:
وہ جو مردم شناس ہے ہی نہیں
اقتدار اُس کو راس ہے ہی نہیں
اور میں یہ سطور لکھتے ہوئے بہت زیادہ دکھی ہوں۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے مگر ہم اپنے حال پر رحم نہیں کرتے۔