چین میں کورونا کی رپورٹنگ پر صحافی خاتون چار سال قید
- سوموار 28 / دسمبر / 2020
- 4760
چین کی عدالت نے ووہان میں گزشتہ سال پھوٹنے والی کورونا وبا سے متعلق رپورٹنگ پر ایک خاتون سٹیزن جرنلسٹ کو چار سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
سینتیس سالہ خاتون جونگ جان نے یو ٹیوب پر ووہان شہر کے رہائشیوں کے انٹرویوز، وی لاگز، قبرستانوں، ٹرین اسٹیشنز سمیت اسپتالوں کی فوٹیجز اپ لوڈ کی تھیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکام وائرس سے متعلق چینی حکومت کے بیانیے سے ہٹ کر حقائق سامنے لانے پر جونگ سے نالاں تھے۔
ووہان کی صورتِ حال سے متعلق جونگ جان کے وی لاگز چینی عوام میں بہت مقبول ہو رہے تھے اور وبا سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات پر تنقید کے بعد اُنہیں مئی میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جونگ کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی مؤکلہ کو عدالت نے فساد اور اشتعال پھیلانے کے جرم میں سزا سنائی ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والی کورونا وبا چین کے شہر ووہان سے پھوٹی تھی۔ جس سے اب تک آٹھ کروڑ سے زائد افراد متاثر اور 17 لاکھ سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جونگ جان ان چند لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے کرونا وبا سے متعلق حالات، مثلاً شہر کی خالی سڑکیں اور اسپتالوں میں رش سے متعلق ویڈیوز اور وی لاگز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کئے۔
جونگ کو چین کے کاروباری مرکز شنگھائی کی عدالت کی طرف سے چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جونگ کے وکیل رین کوانیو کا کہنا تھا کہ وہ اس سزا کے خلاف ممکنہ طور پر اپیل کریں گے۔ سماعت شروع ہونے سے قبل رین کا کہنا تھا کہ جونگ سمجھتی ہیں کہ انہیں آزادی اظہار کو استعمال کرنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
چین میں کورونا وائرس سے نمٹنے سے متعلق کی جانے والی ابتدائی کوششوں پر ہونے والی تنقید کو ملک میں سینسر کیا جاتا رہا ہے اور نشان دہی کرنے والے ڈاکٹرز کو نشانہ بنائے جانے کی شکایات بھی عام رہی ہیں۔
جونگ کو سزا سنائے جانے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ عدالتی اہلکاروں کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے غیر ملکی صحافیوں کو کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔