پی ڈی ایم قصہ پارینہ بن گئی ہے: شبلی فراز

  • منگل 29 / دسمبر / 2020
  • 3930

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ  کے استعفوں اور جلاؤ گھیراؤ کی باتیں دم توڑ گئی ہیں۔ پی ڈی ایم  قصہ پارینہ بن گئی ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  کابینہ میں مفتی کفایت اللہ کے حوالے سے اہم بات ہوئی۔ پچھلے ہفتوں میں یورپی یونین نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت کے ڈس انفارمیشن ایک نیٹ ورک کو سامنا لایا ہے جس کا مقصد پچھلے 15 سال سے پاکستان کے بارے میں منفی خبریں دینا تھا۔ اس کا مقصد دنیا میں ایسا تاثر دینا کہ ہماری معیشت، ہمارے اداروں، افواج پاکستان کو نشانہ بنایا جا سکے

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت آئی تو پہلے دن سے ہی  پراپیگنڈا شروع ہوا تھا کہ حکومت فیل ہوگئی ہے۔ بھارت نے اس طرح کی غلط خبروں کا کیمپ بھارت نے شروع کیا تھا۔پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھی اسی قسم کی باتیں ہو رہی ہیں۔

ان کا مقصد دانستہ یا غیر دانستہ طور پر جو مہم ڈس انفو لیب کر رہی تھی، وہی بیانیہ ہمارے پی ڈی ایم کے کچھ لوگ لے کر چل رہے ہیں۔ یہ ایک منظم مہم ہے جس کا بنیادی مقصد ریاست پاکستان کو بدنام کرنا اور ملک میں افراتفری پھیلانا ہے۔ تاکہ ملک کو کمزور ہو۔

شبلی فراز نھے کہا کہ حکومت نے اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور ہم چیزوں کو مانیٹر بھی کر رہے ہیں۔ کئی چیزیں آئسولیشن میں ہو نہیں رہی ہیں، کون حسین حقانی سے منسلک ہے اور کون کس کو ایڈوائس کر رہا ہے اس کی رپورٹس ہمیں مل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  مفی کفایت اللہ کی طرح باتیں کرنا انتہائی شرم ناک ہے۔ اس قسم کی گفتگو سے سوائے اپنے دشمن کو خوش کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ جو چیزیں یہاں ہو رہی ہیں وہ بھارت کے میڈیا پر بریکنگ نیوز کے طور پر چلتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ڈی ایم جس طرح شروع ہوئی تھی اب کئی پارٹیوں کے اندر ان کے خلاف تحریک شروع ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت میں ٹوٹ پھوٹ ہوگئی ہے۔ یہ حکومت کو کیا گرائیں گے اور کیا استعفے لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ٹی وی سے پتہ چلا ہے کہ پیپلزپارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے فیصلے بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ استعفوں اور جلاؤ گھیراؤ کی باتیں  دم توڑ گئی ہیں اب پی ڈی ایم باقاعدہ طور پر دم توڑ قصہ پارینہ بن گئی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کچھ باتیں آئین پاکستان میں واضح طور پر لکھی ہوئی ہیں۔ قومی ادارے جس میں عدلیہ اور فوج شامل ہے اور ان کو بدنام کریں گے تو قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور ظاہر اسی طرح ہوا ہے۔

یہاں ایک ایسا سلسلہ شروع کیا گیا کہ ملک مستحکم نہ ہو۔ ایسے حالات میں دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔