مولانا شیرانی نے جے یو آئی کا علیحدہ گروپ بنا لیا
- منگل 29 / دسمبر / 2020
- 4580
اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے جمعیت علمائے اسلام (پاکستان) کے نام سے جمعیت علمائے اسلام کا الگ گروپ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہیں چند روز پہلے جمیعت علمائے اسلام (ف) سے نکالا گیا تھا۔
اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ناراض رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں مولانا محمد خان شیرانی نے کہا اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ صداقت اور دیانت سے خالی ہے۔ ہمیں اکابرین سے سیاست وراثت میں ملی ہے۔ فضل الرحمٰن نے جے یو آئی (ف) کے نام سے اپنا گروپ تشکیل دیا جبکہ ہم کبھی بھی جے یو آئی (ف) یا فضل الرحمٰن گروپ کا حصہ نہیں رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ جمعیت علمائے اسلام کے دستور کے مطابق رکن رہے اور رہیں گے۔ ہم تمام ساتھیوں کو ترغیب دلائیں گے کہ وہ جماعت کے ساتھ، جماعتی اداروں کے ساتھ، جماعتی اراکین کے ساتھ رابطے نہ توڑیں اور ضد اور حسد نہ کریں۔ ہماری دعوت میں تین باتیں ہوں گی کہ سچ بولو، جھوٹ نہ بولو، حق کو چھپانے کے لیے اسے باطل کے ساتھ ضم نہ کرو۔
مولانا شیرانی نے کہا کہ جو ساتھی دولت اور عزت کی بھوک سے اجتناب کرتے ہیں اور اپنے سیاسی عمل اور رہنمائی کے بدلے میں کسی مفاد کے خواہاں نہیں ہوں گے تو ایسے ساتھیوں کے لیے رابطے مضبوط بنانے کے لیے مشاورت ہوتی رہے گی۔ موجودہ نظم میں مولانا فضل الرحمٰن کا بھی اپنے پروگرامز میں کسی بھی سطح پر ہمیں دعوت دے گا تو ہم ضرور شریک ہوں گے۔
مولانا شیرانی نے کہا کہ اگر وہ ہمیں دعوت نہیں دیتے تب بھی ہم شرائط کے ساتھ شریک ہوں گے۔ اس انتشار کو وحدت میں تبدیل کرنے کے لیے چند تجاویز ہیں۔ سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ مرکزی مجلس عمومی سے ایک قرارداد منظور کی جائے کہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان فضل الرحمٰن اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن، ان دونوں کے نوٹی فکیشن کو منسوخ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایک نیا نوٹی فکیشن جمعیت علمائے اسلام پاکستان جاری کیا جائے جس طرح ہمارے منشور میں موجود ہے اور الیکشن کمیشن کو پیش کیا جائے۔