وزیر اعظم کا اعتراف حقیقت
- تحریر سلمان عابد
- منگل 29 / دسمبر / 2020
- 5180
وزیر اعظم عمران خان ایک روائتی سیاست دان نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ زیادہ تر ایسی باتیں کرجاتے ہیں جو ہماری حکمرانی کے نظام میں عمومی طور پر نہیں دیکھنے کو ملتی۔کوئی بھی حکمران اپنی ناکامی تسلیم کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین یا سابق حکمرانوں پر الزامات لگاکر اپنا دامن بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی ناکامی کے تناظر میں برملا یہ اعتراف کرلیا جس سے اکثر حکمران گریز کرتے ہیں۔حکومت میں بیٹھ کر اپنی ناکامی کا اعتراف اورکہنا کہ حکمرانی کے لیے تیار نہیں تھے، خود ایک بڑا جرم ہے۔ وزیر اعظم عمران خان ان لوگوں میں سے ہیں جو حزب اختلاف کے طور پر یہ دعوی کیا کرتے تھے کہ ان کے پاس ملک میں تبدیلی کے لیے ایک روڈ میپ ہے اور تجربہ کار افراد پر مبنی 200افراد کی ٹیم بھی۔لیکن عمران خان کی حکمرانی میں ان کے اس دعوے کا ایک بڑا واضح فقدان دیکھنے کو ملا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی حکمرانی کے نظام پر نہ صرف ان کے سیاسی مخالفین تنقید کررہے ہیں بلکہ ان کے لیے اچھے خیالات رکھنے والے بھی اب تنقید کرتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی حکومت پر سیاسی و معاشی کارکردگی کے تناظر میں بہت بڑے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
وزیر اعمران خان نے جس ناکامی کا اعتراف کیا ہے، کیا محض وہ عمران خان کی حکومت یا پی ٹی آئی کی حکومت تک ہی محدود ہوکر ہی دیکھنا چاہیے۔کیا یہ ناکامی جس کا اعتراف عمران خان کررہے ہیں وہ پورے سیاسی نظام کی ناکامی نہیں۔ کیا ماضی میں ملک کی دو بڑی مضبوط اور سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ ن سمیت دیگر علاقائی جماعتیں جو اقتدار کی سیاست کا حصہ رہیں، ان کے پاس حکمرانی کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی، حکمت عملی، فہم فراست، پالیسی پیپرز، متبادل حکمرانی کے نظام کے لیے موثر پلان، علمی و فکری بنیادوں پر اپنے سیاسی نظام کو جانچنے کے لیے تحقیقی علم ہمیں دیکھنے کو ملا ہے۔کیا وزیر اعظم عمران خان کا یہ اعتراف حقیقت پر مبنی نہیں کہ ان کی جماعت سمیت دیگر جماعتیں بھی جو اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتی ہیں بغیر کسی ہوم ورک کے اقتدار میں آتی ہیں۔
یہ اعتراف محض عمران خان تک محدود ہے۔ خود تین دفعہ کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بھی یہ اعتراف ہر سطح پر موجود ہے کہ ہمیں اقتدار میں آنے کے بعد ایک سے ڈیڑھ برس تک اقتدار کی سمجھ بوجھ ہی نہیں آتی۔ جب سمجھ آنے لگتی ہے تو یا اقتدار ختم ہوجاتا ہے یا پھر ہمیں نکال دیا جاتا ہے۔بنیادی طو رپر ہمیں اپنے سیاسی و جمہوری نظام کا ازسرنو جائزہ یا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم حقیقی معنوں میں کہاں کھڑے ہیں۔ سیاست ہو یا جمہوریت پر مبنی نظام وہ اپنے اندر اصلاحات اور ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی پچھلی غلطیوں کو چھوڑ کر نظام میں مزید بہتری کے امکانات کو پیدا کرنے کا نام ہوتا ہے۔لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں یا تجربات سے سبق نہیں سیکھتے بلکہ ماضی کی غلطیوں کے مقابلے میں اصلاح کی بجائے اور زیادہ شدت سے غلطیاں کرتے ہیں۔
بنیادی مسئلہ ملک میں گورننس، انصاف اور معاشی ترقی کا ہے۔تحریک انصاف سمیت کوئی بھی جماعت ہو کسی ایک جماعت کے پاس بھی کوئی ایسا تھنک ٹینک موجود نہیں جو قوم کے سامنے مسائل کا حل پیش کرسکے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں بھی حکمت سے عاری نظر آتی ہیں۔کیونکہ یہ جماعتیں ہیں خاندانی نظام زیادہ ہے۔ شخصیات پر مبنی جماعتوں کے پاس کوئی ایسا داخلی نظام یا ادارہ نہیں جو علم یا فکری بنیادوں پر حکمرانی کے نظام کو موثر اور شفاف بنانے میں کردار ادا کرسکے۔
وزیر اعظم عمران خان چین اور امریکہ سمیت دیگر ملکوں کی مثالیں دیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ وہاں حکمرانی تک پہنچنے والے افرادمحض سیاسی تنہائی میں اقتدار کا حصہ نہیں بنتے۔بلکہ ایک وسیع سیاسی تجربہ، مختلف حیثیتوں سے کام، سمجھ بوجھ کی صلاحیت، عالمی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں پر گرفت، داخلی او رخارجی معاملات کی فہم او رپھر درست ٹیم کا انتخاب ہی ان کو حقیقی طور پر حکمرانی کے نظام کو چلانے میں مدد کرتا ہے۔اگر ہم نے اپنا پارلیمانی نظام چلانا ہے تو اس میں بڑے پیمانے پر ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے۔عمران خان نے جہاں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے وہیں اس نظام کی ناکامی کی بھی نشاندہی کی ہے۔
ہماری بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہم حکومت او رحز ب اختلاف کے درمیان نظام کی درستی کی بجائے ایک دوسرے کے وجود کو ہی قبول نہیں کرتے۔ مسئلہ محض حکومت کا ہی نہیں بلکہ حزب اختلاف کی سیاست کا بھی ہے جو جلاؤگھیراؤ یا حکومت گرانے کے کھیل کا حصہ بن کر سیاسی اور معاشی عدم استحکام کو پیدا کرتی ہے۔اس لیے اگر واقعی ہماری سیاست، جمہوریت او ردیگر طاقت کے مراکز نے ریاستی یا حکومتی نظام کو عوامی مفادات یا ملکی ترقی کی بنیاد پر چلانا ہے تو اس کے لیے ہر سطح پر سوچ وبچار کی ضرورت ہے۔ یہ کام حکومت سیاسی تنہائی میں نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے تمام فریقین کو مل بیٹھ کر ایک نیا حکمرانی سے جڑے نظام پر اتفاق کرنا ہوگا۔
ایک ایسا اتفاق رائے ضرور سامنے آنا چاہیے کہ ہم سیاسی محاذ آرائی میں الجھنے کی بجائے ایک ایسے روڈ میپ کو تیار کرنے پر کام کریں جو اس ملک کو صاف اور شفاف حکمرانی جو عوامی مفادات سے جڑی ہو فراہم کرنے میں معاونت کرسکے۔مسئلہ عمران خان کی ناکامی کا نہیں پورے ملک کے سیاسی نظام کی ناکامی کا ہے جس کا بڑا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔