خواجہ آصف کو نواز شریف سے غداری نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا: مریم نواز

  • منگل 29 / دسمبر / 2020
  • 5090

پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی سربراہ خواجہ آصف کو گرفتار کر لیا ہے۔  انہیں آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام مین گرفتار کیا گیا ہے۔  مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ خواجہ آصف کو وناز شریف سے راستہ علیحدہ کرنے کے لئے کہا گیا تھا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔

نیب نے خواجہ آصف کو اسلام آباد سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ مریم نواز کی صدارت میں پارٹی اجلاس سے رخصت ہورہے تھے۔  یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ڈی این کی سرکردگی مین اپوزیشن اتحاد حکومت کے خلاف احتجاج کررہا ہے۔ اس سے قبل خواجہ آصف کو پوچھ گچھ کے لیے نیب لاہور میں طلب کیا جا چکا ہے۔

نیب کے  ترجمان نے  خواجہ آصف کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔  ترجمان کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو نے اس سے پہلے خواجہ آصف کو تفتیش کے لیے طلب کیا تھا لیکن وہ مطلوبہ شواہد پیش نہ کرسکے۔ نیب لاہور کے ترجمان کے مطابق خواجہ آصف کے پاس 2004 سے 2008 تک مشرق وسطی کے ایک ملک میں کام کرنے کا اجازت نامہ یا اقامہ تھا۔ خواجہ آصف کے مطابق انہوں نے  قانونی مشیر کی حیثیت سے کام کرکے 136 ملین روپے کمائے تھے۔

خواجہ آصف کی حراست پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ان کی گرفتاری کو اغوا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں نواز شریف سے سیاسی وفاداری تبدیل نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کو پیش کش کی گئی تھی کہ اگر وہ نواز شریف کے بیانیے کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کے  خلاف سارے مقدمات تین ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔ اس پیش کش کو رد کرنے کے چند روز بعد ہی خواجہ آصف کو اغوا کے انداز میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مریم نواز سے جب سوال کیا گیا کہ خواجہ آصف سے یہ بات کس نے کہی تو انہوں نے کہا کہ وہ نام خواجہ آصف کی امانت ہیں اور وہ ابھی اس بارے میں نہیں بتانا چاہتیں۔ مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ نیب عمران خان کی آلہٰ کار بن کر بغیر کسی مقدمے کے لوگوں کو اٹھا رہا ہے۔ یہ گرفتاریاں شکست کے خوف کی وجہ سے کی جارہی ہیں۔  اس قسم کے ہتھکنڈے موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ اس صورتحال میں عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ قوم کو انصاف دینا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ رہنماؤں کی گرفتاری پر پی ڈی ایم کے اجلاس میں لائحہ عمل مرتب کریں گے جو صرف زبانی بیانات پر مبنی نہیں ہوگا۔ مریم نواز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے اکثر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے استعفے پارٹی قیادت کو موصول ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کی گرفتاری سلیکٹرز اور سلیکٹڈ کے گٹھ جوڑ کا انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے۔ ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ نیب کے "اوچھے ہتھکنڈوں" سے اپوزیشن تحریک کو مزید تقویت ملے گی.  نواز شریف نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری جیسی بھونڈی حرکتوں سے حکومتی بوکھلاہٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن ان حرکتوں سے یہ اپنے انجام کو مزید قریب لا رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے خواجہ آصف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی انتقام کی یہ روایت پاکستان کے استحکام کے خلاف ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خواجہ آصف کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور اسے نیب کی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

جے یو آئی کے ترجمان کے مطابق مسلم لیگی رہنما کی گرفتاری کے بعد مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کے درمیان ٹیلی فون پر تبادلہ خیال بھی ہوا ہے۔