خواجہ آصف اپنی گرفتاری پر خود ہی وضاحت دے سکتے ہیں: وزیر خارجہ
- بدھ 30 / دسمبر / 2020
- 5610
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی گرفتاری پر وہ خود ہی وضاحت دے سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ نیب قوانین اور اس کے چیئرمین کے انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کا کوئی دخل نہیں ہے۔ لگتا یہ ہے کہ خواجہ آصف نیب کو مطمئن نہیں کرسکے۔ اگر وہ منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات کا تسلی بخش جواب دیتے تو گرفتاری کی نوبت نہ آتی۔
ان کا کہنا تھا جب ہم اپوزیشن سے فیٹف پر قانون سازی کی بات کررہے تھے تب وہ نیب کے قانون میں ترمیم کی بات کررہے تھے۔ ہمیں اس امر پر تعجب ہوتا تھا کہ یہ دونوں ادارے الگ الگ ہیں لیکن اپوزیشن فیٹف کو ڈھال بنا کر نیب قوانین میں ترمیم چاہتی تھی۔ ہمارے اصرار پر اپوزیشن نے موقف اختیار کیا کہ نیب کے قوانین میں رعایت ملے گی تو فیٹف پر ووٹ دیں گے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیب قوانین میں ترمیم کا تقاضہ اس لیے زور پکڑ گیا تھا کہ انہیں آنے والے وقتوں میں کچھ مشکلات نظر آرہی تھیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ کس کی جرات ہوتی ہے کہ ہم سے سوال کرے۔ جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے رہنماؤں کو ثبوت پیش کرتے ہوئے کہنا چاہیے تھا کہ نیب کے الزامات میں وزن نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے مستعفی ہونے کی اپوزیشن کی شرط دراصل ان کے اس ارادے کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ مذاکرات پر آمادہ نہیں ہیں۔ اپوزیشن 31 جنوری کا اتنظار کیوں کررہی ہے، میں واضح کردیتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان مستعفی نہیں ہوں گے۔ اس لیے اپوزیشن اپنا فیصلہ کرے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل پی ڈی ایم کا بیانیہ پی ڈی ایم کی ایک جماعت نے ہی دفن کردیا۔ اسمبلی سے باہر جانا چاہتے ہیں تو ضمنی و سینیٹ انتخابات کی تیاری کیوں کررہے ہیں
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ استعفوں کے سوال پر اپوزیشن کی سب جماعتوں مین اختلافات ہیں۔ اگر وہ واقعی مستفعی ہونا چاہتے ہیں تو ابتدا کریں۔ پیپلز پارٹی نے واضح کردیا ہے کہ وہ استعفی نہیں دیں گے اور لانگ مارچ کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ مسلم لیگ سنجیدہ ہے تو پہل کرے۔
اس موقع پر وزیراعظم عمران خان سے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اپنے والد نواز شریف کو اقامہ میں دی گئی سزا کو نا جائز قرار دیا۔ لیکن وہ بھول گئیں کہ اقامہ ایک رہائشی اجازت نامے کو کہتے ہیں جس کی بنیاد پر بیرون ملک بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت مل جاتی ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ مزدور اقامہ لیتے ہیں اور وہ آمدنی ملک بھیجتے ہیں۔
یہ لوگ ناجائز کمائے گئے پیسے پھر بیرون ملک جاتے ہیں اور کچھ پیسے باہر نکال دیتے انہیں آف شور کمپنی میں رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی والا، پاپڑ والا سنا ہوگا اب میں چاول والا بتا رہا ہوں۔ خواجہ آصف والے کیس میں بغیر کسی بزنس کے کروڑوں روپے کا سودا چاول کی ایکسپورٹ طریقے سے کیا گیا۔
بابر اعوان نے کہا کہ ایک سال میں بغیر کسی بزنس کے 10 کروڑ روپے پہلے یہاں سے ادھر گئے اور پھر ادھر سے منی لانڈرنگ کے ذریعے یہاں آگئے۔ یہ پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدیدار تھے انہیں اقامہ کی کیا ضرورت تھی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے اپوزیشن کو مخاطب کرکے کہا کہ جو قانونی ادارے ہیں اگر وہ سوال کریں گے تو آپ کو جواب دینا پڑے گا۔ قانون کسی کا ماتحت نہیں ہے۔ آپ عام شہری کی حیثیت سے سوالات کا جواب دیں۔