رویت ہلال کے لئے سائنس سے مدد لی جائے گی: چیئرمین رویت ہلال کمیٹی
- جمعرات 31 / دسمبر / 2020
- 6790
رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین و بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا ہے کہ چاند دیکھنے کے لیے سائنس و تحقیق کی مدد لی جائے گی۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے کوئی تصادم نہیں ہوگا۔
نجی چینل پر انٹرویو میں مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ وہ چاند کی شہادتیں جمع کرنے کے لیے شرعی اصولوں اور اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھیں گے تاہم سائنس و تحقیق کی مدد بھی لی جائے گی۔ پوری کوشش کریں گے کہ عیدیں اور رمضان کے چاند پر قومی اتفاق رائے ہو جبکہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے بھی کوئی تصادم نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پشاور مسجد قاسم خان کے مولانا شہاب الدین پوپلزئی کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے۔ رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین نے کہا کہ انہوں نے کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن کے ساتھ 15 سال تک کام کیا ہے اور اس دوران ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
مفتی منیب الرحمٰن عظیم عالم دین ہیں اور وہ آئندہ بھی ان سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جید علما، ماہرین فلکیات و موسمیات کا تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کی طرف سے اعتماد کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے مفتی منیب الرحمٰن کو رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کو عہدے سے ہٹا کر بادشاہی مسجد لاہور کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد کو کمیٹی کا نیا چیئرمین مقرر کردیا تھا۔ وزارت مذہبی امور سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو کر دی گئی ہے اور کمیٹی میں 19 ارکان شامل ہوں گے۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ مولانا عبدالخبیر آزاد کو کمیٹی کا نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر اراکین میں ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا فضل الرحیم، ڈاکٹر یاسین ظفر، مفتی اقبال چشتی، ڈاکٹر مفتی علی اصغر، مفتی فیصل احمد اور سید علی قرار نقوی شامل ہیں۔ مفتی یوسف کشمیری، حافظ عبدالغفور، مفتی فضلِ جمیل، مفتی قاری میر اللہ، صاحبزادہ سید حبیب اللہ چشتی اور مفتی ضمیر ساجد بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
کمیٹی میں اسپارکو، محکمہ موسمیات، وزارت سائنس ٹیکنالوجی اور وزارت مذہبی امور کا 20 گریڈ کا ایک، ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔