غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے: وزیرمذہبی امور

  • جمعرات 31 / دسمبر / 2020
  • 5740

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

ایک بیان میں وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان بھی غیر مسلم آبادی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر کا یہ بیان گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے علاقے کرک میں ہجوم کی جانب سے ایک ہندو بزرگ شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی کو نذرآتش کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔  واقعے پر چیف جسٹس پاکستان بھی نوٹس لے چکے ہیں اور 5 جنوری کو اس کی سماعت ہوگی۔

پیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ کرک میں کچھ لوگ ایک مندر کو گرانے کی سازش کر رہے ہیں، جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام اور آئینِ پاکستان غیر مسلم اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی کی اجازت دیتے ہیں۔ کرک معاملہ کے پر امن حل کے لئے کام کیا جارہا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور، وزیر زادہ، روی کمار، ایم پی اے، سابقہ ایم این اے مولانا شاہ عبد العزیز کے ذریعے معاملات کو حل کیا جا رہا ہے۔ کرک کی ہندو کمیٹی کی جانب سے مندر سے ملحقہ جگہ خرید کر توسیع کرنے پر مقامی آبادی مشتعل ہوئی تھی۔ تاہم  واقعے میں ملوث افراد کو کرک انتظامیہ گرفتار کررہی ہے۔ انہوں نے مقامی ہندوؤں سے بھی پرامن رہنے کی اپیل کی۔

اپنے بیان میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی کو بھی اقلیتوں کے مقدس مقامات اور عبادت گاہیں گرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مذکورہ واقعے کو پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیا۔ خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں 30 دسمبر کو ایک ہجوم نے ٹیری کے علاقے میں ہندو بزرگ کی سمادھی کو نذرآتش کردیا تھا جبکہ اس کے کچھ حصوں کو منہدم بھی کیا تھا۔

عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ ہجوم کی قیادت ایک مذہبی جماعت کے حمایتوں اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے کی جارہی تھی۔ شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی کو ہندو کمیونٹی  مقدس سمجھتی ہے۔