ہندو سمادھی نذرآتش پر چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا، 14 افراد گرفتار

  • جمعرات 31 / دسمبر / 2020
  • 5250

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے کرک میں ہجوم کے ہاتھوں ہندو بزرگ کی سمادھی میں توڑ پھوڑ اور نذرآتش کرنے کا نوٹس لے لیا ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں 14 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد سے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر رمیش کمار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ملاقات کی۔ ملاقات میں کرک میں ’ہجوم کی جانب سے ہندو بزرگ شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی (مزار) کی بے حرمتی اور نذرآتش کرنے سے متعلق معاملے پر تبادلہ خیال ہوا۔

اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور رکن قومی اسمبلی کو بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ منگل 5 جنوری 2021 کو اسلام آباد میں اس کی سماعت مقرر کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے اقلیتی حقوق کے ایک رکنی کمیشن، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا اور آئی جی خیبرپختونخوا کو مذکورہ مقام کا دورہ کرکے 4 جنوری 2021 تک رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کراچی رجسٹری کے باہر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک ہجوم نے کرک کے علاقے ٹیری میں ایک ہندو بزرگ کی سمادھی کو نذرآتش کردیا تھا جبکہ اس کے کچھ حصوں کو منہدم بھی کیا تھا۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی نے رپورٹ کیا ہے کہ حکام کا کہنا تھا کہ ہندو بزرگ کی سمادھی کو نذرآتش کرنے کے واقعے کے بعد پولیس نے رات گئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔ مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے رات گئے 14 افراد کو حراست میں لیا اور سمادھی کو نقصان پہنچانے میں ملوث افراد یا ہجوم کو مشتعل کرنے والوں کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے مارے جارہے ہیں۔

سمادھی کو نقصان پہنچانے کا واقعہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے ہندو برادری کے اراکین کو مذکورہ جگہ کی تزئین و آرائش کی اجازت ملنے کے بعد پیش آیا۔

وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ ’خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں مندر کو نقصان پہنچانے کی کوشش، پاکستان کے مذہبی ہم آہنگی کے خلاف سازش اور ناقابل برداشت ہے‘۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ’اس طرح کے رویے دین اسلام کی حقیقی تعلیمات کے خلاف ہیں، اقلیتوں کی مذہبی آزادی کا تحفظ ہماری دینی، آئینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے‘۔

خیال رہے کہ شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی کے معاملے پر دہائیوں قبل تنازع شروع ہوا تھا۔ 1997 میں اس جگہ کو مسمار کردیا گیا تھا تاہم 2015 میں سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کو ہندو سمادھی کو بحال کرنے اور دوبارہ تعمیر کا حکم دیا تھا۔