کرسمس اور سالِ نو کی مبارک؟

علامہ اقبال کے فرزند جسٹس (ر) جاوید اقبال مرحوم نے ہیپی نیو ایئر منانے کے متعلق یہ کہہ رکھا ہے کہ ”نئے سال کی آمد پر خوشی اس لئے منائی جاتی ہے کہ لوگوں کو نئے سال میں خیر کی توقع ہوتی ہے۔نیوایئر پرخوشی منانے کی رسم قدیم زمانے کی ہے، جب مذاہب میں جبر نہیں ہوتا تھا، تب یہ سمجھا جاتا تھا کہ پچھلا سال گزر گیا اور اگلا سال امید کاہوگا، کیونکہ دنیا امید پر ہی قائم ہے“۔

ڈاکٹر صاحب نے وضاحت کی تھی کہ ”نیوایئر منانے کی رسم مغرب نے شروع نہیں کی، بلکہ یہ یونانیوں اور رومنوں سے شروع ہوئی۔ یہ رسم مسیحیت سے بھی پہلے کی ہے۔ مسلمانوں میں یہ رسم ایران سے آئی ہے، جہاں نوروز کا جشن منایا جاتا ہے“۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے نیو ایئر کے حوالے سے مذہبی تنگ نظری کوتوڑتے ہوئے جو حقائق بیان کئے ہیں،ان پر بحث کی جاسکتی ہے۔ درویش کا ماننا ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی شدت پسندی کے زیر اثر ذہنوں کے عجیب سانچے بن گئے ہیں کہ ہر مباح چیز کو بھی غیر اسلامی قرار دے کر اس کی مخالفت شروع کر دی جاتی ہے، بالخصوص جب سے کتب خانوں اور جدید ذرائع ابلاغ میں ترقی ہوئی ہے۔ متشدد اسلام بھی ملیٹنٹ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آگے بڑھا ہے اور لوگوں کی چھوٹی موٹی خوشیوں کو بھی اسلامی اور غیر اسلامی کے مخصوص پیمانوں سے ماپنا شروع کر دیا ہے۔

کئی باتوں کو ابتداً کفر اور اسلام کے خانوں میں بانٹا جاتا ہے، لیکن جب عامة المسلمین بالفعل انہیں اپنا لیتے ہیں تو پھر اس شدید مخالفت کا زور بھی ہولے ہولے ٹوٹنے لگتا ہے۔ حد تویہ ہے کہ جب چھاپہ خانے جیسی مفید صنعت کا آغاز ہو رہا تھا تو ایسے مفتیان شرح متین موجود تھے جو اسے غیر اسلامی ثابت کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔ بیسیویں صدی کے آغاز میں جتنی بھی عظیم الشان ایجادات ہوئی ہیں، ہمارے روایتی مذہبی علماءو فقہا نے انہیں اپنی قوم کے سامنے ” فتنہ دجال“ کے معنوں میں بیان کیا۔ ٹرین کے سفر کو غیر اسلامی سفر قرار دیا گیا۔ لاﺅڈ سپیکر کی ایجاد کوشیطانی آلہ قرار دیا گیا، اب جس کے بغیر ان حضرات کا خطبہ شروع نہیں ہوتا۔

پسماندہ ذہنیت کی حد ہے کہ جب ترکی میں پہلا ہسپتال بن رہا تھا تو شیخ الاسلام اس کی مخالفت میں فتاویٰ جاری فرما رہے تھے۔ انتقال خون جیسے زندگی بچانے والے کام کو غیر اسلامی بتایا جاتا رہا۔ اعضاءکی پیوند کاری کی اب تک مخالفت مذہب کے نام پر کی جا رہی ہے۔ یہ مخالفت کرنے والے محض کسی گاﺅں کی مسجدکے امام نہیں ہیں۔ ہمارے معزز قارئین کو حیرت ہوگی کہ مولانا مودودی جیسے جدت کے دعویدار بھی اس میں پیش پیش تھے اور فرما رہے تھے کہ ”اگر آنکھوں کا عطیہ دینے کی اجازت دے دی جائے تو پھر بات تمام اعضا کے عطیات تک پہنچ جائے گی۔ ایسی صورت میں آپ زمین کے اندر دبائیں گے کیا“۔ یعنی انہیں فکر اس بات کی نہیں ہے کہ بہت سے انسان گردے فیل ہونے سے یا ایسی کسی خرابی سے مر رہے ہیں اورعطیات کی صورت میں انہیں نئی زندگی مل سکتی ہے اور یہ کہ کائنات میں زندگی سے بڑی نعمت کوئی نہیں ہے، بلکہ انہیں فکر اس بات کی ہے کہ ”زمین میں دبایا کیا جائے گا“؟ یعنی جو آنکھیں کسی اندھے کی اجڑی دنیا بسا کر اسے روشنی دے سکتی ہیں، مودودی صاحب کو یہ فکر ہے کہ وہ آنکھیں کیڑوں کی خوراک کیوں نہیں بنائی جا رہیں، مٹی میں کیوں نہیں دبائی جا رہیں۔

ہمیں افسوس ہے کہ مسلمان قوم نے سنت اور بدعت کے فرق کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ ہر وہ چیز جو پیغمبر اسلامؑ نے چاہے اپنی سہولت یا مخصوص عرب کلچر کی مناسبت سے کی، یار لوگوں کی اندھی عقیدت مندی نے اسے سنت کارتبہ دے دیا اور ہر نئی چیز کے بارے میں ایک جاہلانہ لفظ رٹ لیا کہ یہ بدعت ہے، حالانکہ بدعت سے مراد ایسی اختراع تھی جو انسانیت کے لئے مضر ہو یا انسانوں کے لئے نقصان دہ ہو۔ اس تنگ نظری پر مبنی اپروچ کا نقصان بھی سب سے زیادہ اس امت مسلمہ نے اٹھایا ہے۔ ہم نے کئی دوستوں کے سامنے یہ سوال رکھا ہے کہ ”بتاﺅ مسلمانوں نے پوری 14 صدیوں میں کوئی قابل ذکر ایجاد کیوں نہیں کی“؟ ساری کی ساری ایجادات غیر مسلموں نے کی ہیں، بالخصوص مغرب کے مسیحیوں نے یا سیکولر لوگوں نے تو اس کی وجہ کیا ہے“؟ اس پر پہلے تو سپین کے چند حکماء کا ذکر شروع کر د یا جاتا ہے، حالانکہ وہ سب بھی اپنے دور کے سیکولر مسلم لوگ تھے، مذہبی لوگ تو ان کی مخالفت میں تب بھی پیش پیش تھے۔ اس کے باوجود ایسے حضرات کسی ایک ٹھوس نئی ایجاد کا نام لینے سے قاصر رہتے ہیں جو مسلمانوں نے کی ہو، لیکن آبا کے تفاخر میں ہم سب سے آگے ہیں۔ اس پر از راہ تفنن ہم یہ کہتے ہیں کہ ”جیسی ٹیوب لائٹس مسلم دور عروج میں تھیں، ویسی ٹیوب لائٹس بھلا آج کہاں، جیسی سواریاں قرون اولیٰ میں تھیں، ویسی سواریاں بھلا آج کہاں، جیسے فرج ،ٹی وی مسلم دور اقتدار میں تھے، ویسے بھلا آج کے یورپ اور امریکہ میں کہاں، ہم تو عظیم لوگ تھے جی ہمارے جیسی حکمرانی بھلا کسی اور نے بھی کی ہے کہیں“؟

 بحیثیت مسلم ہمارا قومی رویہ اس قدر تنگ نظری پر مبنی ہے کہ جس کی مثال شاید یہودیوں میں بھی نہ ڈھونڈھی جا سکے۔ ہم مذاہب و اقوام دیگر کا ذکر اس حقارت و اجنبیت سے کرتے ہیں، جیسے وہ سب کمتر اور گھٹیا لوگ ہیں۔ ایک ہم ہی ہیں جو دنیا کی اعلیٰ ترین اور خدا کی سب سے پیاری قوم ہیں۔ اپنی مسلمانی کا تفاخر ہمارے رگ و ریشے میں یوں سرایت کئے ہوئے ہے کہ اس کا تنقیدی جائزہ لینا بھی ہم حرام سمجھتے ہیں۔ ہم یقین رکھیں کہ ہمارا یہ خود پسندی کا وصف ہمیں کبھی اقوام عالم کے ساتھ دنیا میں سچی اشتراک باہمی پر مائل نہیں کر سکے گا۔ ہم یا تو دیگر اقوام و مذاہب سے اشتراک کریں گے ہی نہیں اور اگر کریں گے تو اول و آخر منافقت کے ساتھ، کیونکہ دل سے ہم خود کو اعلیٰ امت اور دوسروں کو جہنمی سمجھ رہے ہوں گے۔

ابھی پچھلے دنوں عید میلاد مسیح یعنی کرسمس پر بہت سے احباب نے ہمیں پیغامات بھیجے۔ ہم نے بھی کئی احباب کو عید کرسمس اور نیو ایئر کا مشترکہ پیغام بھیج دیا تو چند ” زیادہ دینداروں“ نے جواب بھیجا کہ توبہ کرو کرسمس اور نیو ایئر تو مسیحیوں کے تہوار ہیں۔ اہل اسلام کا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ توبہ کرو ایسے پیغام سے۔ یعنی ہمارے دماغ کے اندرونی خلیوں کی تہوں میں یہ چیز بٹھا دی گئی ہے کہ اہل اسلام اونچے رتبے کے لوگ ہیں، وہ دیگر اہل مذاہب کے ساتھ زیادہ قربت بڑھائیں گے تو ان کا مذہب میلا ہو جائے گا بلکہ راسخ العقیدہ لوگ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دیگر مذاہب والے کافر و مشرک ، نجس لوگ ہیں، ان کے زیادہ قریب ہونے سے ہم بھی اپنی پاکیزگی کھو بیٹھیں گے۔ اس سلسلے میں کئی آیتوں اور حدیثوں کے حوالے بھی انہیں طوطے کی طرح رٹائے گئے ہیں۔  انہیں ان کے نہ آگے پیچھے کی سمجھ نہیں ہے۔

ہم نے پوچھا کہ ”بتاﺅ کرسمس کس طرح غیر اسلامی تہوار ہے؟ وہ تہوار جو خدا کے سیکنڈ لاسٹ پرافٹ سیدنا مسیحؑ سے منسوب ہے، وہ کس طرح غیر اسلامی ہے“؟ جواب ملا کہ ”اس لئے غیر اسلامی ہے کہ مسیحی حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کابیٹا مانتے ہیں“۔ ہم نے پوچھا کہ ”وہ جو بھی مانتے ہیں آپ بتائیں آپ کیا مانتے ہیں“؟ ”ہم انہیں خدا کا پیارا پیغمبر مانتے ہیں جو صاحب کتاب تھا“۔ عرض کی کہ ”جب آپ معمولی پیروں فقیروں یا لیڈروں کے ایام پیدائش منا لیتے ہیں تو اس صاحب کتاب اولوالعزم پیغمبرؑ کا یوم پیدائش منانے میں آپ کو اعتراض کیوں ہے“؟ آپ کی اپنی کتاب (قرآن) جس کی پیدائش کے واقعہ کو بیان کررہی ہے، کیا آپ کی نظروں میں قرآن سے بھی مقدس کوئی کتاب ہے؟ اس پورے قرآن میں پیغمبر آخر سیدنا محمد مصطفی کی پیدائش کے واقعات تو کہیں بیان نہیںہوئے، جبکہ سیدنا مسیحؑ کی پیدائش کے واقعات پوری تفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور کئی مقامات پران کا ذکر موجود ہے۔ جب قرآن ان کی پیدائش کو ایک عظیم واقعہ کہہ کر بیان کررہا ہے تو مسلمان زیادہ اس بات کے مکلف ہیں کہ کرسمس یعنی عید میلاد مسیحؑ منائیں، اُلٹا آپ مجھ سے لڑ رہے ہیں کہ کرسمس کا ذکر ہی کیوں کیا؟

ہم یہاں یہ تذکرہ کر دیں کہ خود مسلمانوں کے اندر عید میلاد النبی منانے کی روایت یا رسم عید میلاد مسیحؑ کے حوالے سے ہی داخل ہوئی ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ روایت جب مسلمانوں میں شروع کی جا رہی تھی تو خود مسلمانوں کے اندر اس کی سخت مخالفت ہوئی تھی۔ بہت سے ”راسخ العقیدہ صالحین“ نے اسے بدعت کے معنوں میں لیتے ہوئے گمراہ کن قرار دے ڈالا تھا اور اب بھی خال خال ایسے راسخ العقیدہ مسلمان مل جاتے ہیں جو یہ کہیں گے کہ عید میلاد النبی نہیں منانی چاہئے۔ یہ بدعت ہے دین میں نئی اختراع ہے۔ صلیبیوں کی اتباع ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن مسلمانوں کی بھاری اکثریت جسے سواد اعظم کہا جاتا ہے، اب اسے اپنا چکی ہے۔ اس لئے مخالفانہ جذبات رکھنے والے لوگ دب کررہ گئے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ برصغیر جنوبی ایشیا میں عید میلاد النبی کو عام کرنے میں سب سے زیادہ رول ان کے والد حضرت علامہ اقبالؒ کا ہے۔ اس سے پہلے یہاں کے علماء میں اس تہوار کی زیادہ مخالفت کی جاتی تھی۔ ہم یہاں اہل علم کے ذوق سلیم کی نذر یہ بھی کرنا چاہیں گے کہ پاک پیغمبر کے پیارے گنبد خضریٰ کی شبیہ بھی مسیحیوں سے مستعار لی گئی ہے، اس کی ہسٹری کیا ہے؟ یہ پھر کسی وقت بالتفصیل بیان کریں گے۔

 درویش سے کئی نوجوان یہ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی نئے سال کی خوشی منانا یا مبارکباد کے پیغامات بھیجنا غیر اسلامی فعال ہیں؟ ناچیز کا جواب ہوتا ہے کہ دیکھیں ہر چیز اسلامی یا غیر اسلامی کے خانوں میں نہیں ہوتی۔ بہت سی باتیں ہیں جو مباح ہوتی ہیں۔ آپ کے ذوق پر ہے کہ آپ کریں ، بے ذوق ہیں توبھلے نہ کریں۔ مہینے یا سال اسلامی ہوتے ہیں نہ غیر اسلامی.... مسئلہ صرف یہ ہے کہ اسلام جس خطے میں پروان چڑھا، وہ عرب خطہ تھا تو لازمی بات ہے کہ عربوں کے مذاق اور کلچر کی بہت سی باتیں اس کا حصہ بن گئیں۔ حالانکہ اگر تجزیہ کیا جائے تو ان میں سے بہت سی چیزیں یونیورسل نہ تھیں۔ جن کو ہم اسلامی مہینے کہتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر قمری مہینے ہیں اور جن کو ہم عیسوی مہینے یا سال کہتے ہیں، وہ بنیادی طور پر شمسی مہینے یا سال ہیں۔ یہ پوری کائنات اگر خدا کی ہے تو چاند اور سورج دونوں اسی پروردگار عالم کی تخلیق ہیں، اس لئے دونوں میں سے جس کے مطابق بھی حساب کتاب کر لیا جائے، وہ سب کا سب جائز و مستحسن ہے۔ اگر ایرانی لوگ نو روز مناتے ہیں تو وہ بھی مستحسن ہے۔ قمری مہینوں کو ہی اسلامی قرار دینے پر ضد کرنے والے غور فرمائیں کہ اگر ان کی بات کو درست مان لیا جائے تو پوری دنیا کے انسان متفقہ تاریخوں سے محروم ہو جائیں گے۔ امریکہ میں کوئی اور تاریخ ہو گی تو یورپ میں کوئی اور۔ افریقہ اور ایشیا میں کوئی اور حتیٰ کہ صرف ایک ایشیا میں آباد مختلف ممالک کوئی ایک متفقہ تاریخ طے نہیں کر پائیں گے۔

اسلام جب نازل ہوا تو وہ عربستان تک محدود تھا، اس لئے اسے اس نوع کے چیلنج درپیش نہیں تھے۔ مگر مابعد یہ الجھنیں بہرحال پیدا ہونی تھیں، سوان کا سامنا ہم کشادہ ذہن کے ساتھ ہی کر سکتے ہیں۔ عربوں میں تو تعلیم بھی زیادہ نہ تھی، اس لئے وہ تواریخ کا حساب چاند کے گھٹنے بڑھنے سے لگاتے تھے۔ جبکہ آج کی دنیا کے یہ مسائل نہیں، دیگر مسائل ہیں۔ سو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو عالمگیر سچائی کی حیثیت سے پیش کرنا از خود جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دنیاوی معاملات چلانے کے لئے یہ کیلنڈر یا تاریخیں، ہر قوم اپنے حالات کی مناسبت میں جس طرح سہولت محسوس کرے، اسی کیلنڈر کو اختیارکرسکتی ہے (مذہبی عبادات کامعاملہ ایک قطعی الگ مسئلہ ہے)۔ اب اگر ہم سچائی کے ساتھ جائزہ لیں تو ہماری سوسائٹی میں کتنے لوگ ہیں جو اپنے روز مرہ کے معاملات میں چاند کے حساب سے اپنی تاریخوں کا تعین کرتے ہوں گے۔ شاید دیہاتوں کے چند ان پڑھ لوگ ہی ایسے ملیں گے، وہ بھی بالعموم ہندی یا دیسی مہینوں کازیادہ حساب رکھتے ہیں۔ ورنہ ہمارے 99فیصدلوگ عیسوی مہینوں اور سالوں کا ہی روز مرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں، لہٰذا اگر وہ اس کی مناسبت سے سال نو کی تقریبات مناتے ہیں تو کسی مذہبی گروہ، شدت پسند تنظیم یا حکومت کے چہرے پرکو کوئی بل نہیں آنا چاہئے۔

ڈاکٹرجاوید اقبال نے اپنی گفتگو میں مزید یہ کہا تھا کہ اسلام میں شراب نوشی، مردار، خنزیر کھانے اور خون پینے سے منع کیا گیا ہے مگر ہم جو روز چرغے کھاتے ہیں۔ ہمیں کیا پتہ کہ یہ مردار مرغ تھا یا نہیں تھا؟ ایسے فاسٹ فوڈ بھی بازار میں یا مارکیٹ میں موجود ہیں، جن سے خون نہیں نکالا گیا ہوتا مگر لوگ کھاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر کوئی اپنے کمرے میں بیٹھ کر شراب پی لے اور نقص امن کا باعث نہ بنے تو قانون کے تحت اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔ مذہب کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ موجود ہے اور وہ معاف کرنے والا بھی ہے۔

ڈاکٹرصاحب محترم کی یہ گفتگو بھی ایک پورے آرٹیکل کا پیش خیمہ ہے لیکن پہلے ہی ہمارا مضمون خاصا طویل ہو گیا ہے۔ اس لئے ہم اس دلچسپ موضوع کو آئندہ پراٹھائے رکھتے ہیں۔