پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ

  • جمعہ 01 / جنوری / 2021
  • 7480

سالِ نو کے پہلے روز پاکستان اور بھارت میں جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ  ہؤا ہے۔

خیال رہے کہ ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات اور سہولیات پر حملے روکنے کے معاہدے کی دفعہ 2 کے تحت دونوں ممالک کے مابین 1992 سے ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات کی فہرست کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ 31 دسمبر 1988 کو طے پایا تھا، جس پر عمل کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے پاکستان کی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست آج باضابطہ طور پر بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندوں کے حوالے کی۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندوں کو اپنے جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست فراہم کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کو ملک میں قید 319 بھارتی قیدیوں کی فہرست فراہم کی۔ پاکستان میں بھارت کے 49 شہری اور 270 ماہی گیر قید ہیں۔

بھارتی حکومت نے بھی بھارت میں قید 340 پاکستانیوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کی جس کے مطابق بھارت میں پاکستان کے 263 عام شہری اور 77 ماہی گیر قید ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تبادلے کا یہ اقدام 21 مئی 2008 کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت کیا گیا۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک اپنی اپنی جیلوں میں قید ایک دوسرے کے شہریوں کی فہرستوں کا سال میں 2 مرتبہ تبادلہ کرنے کے پابند ہیں۔ قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو کیا جاتا ہے۔