عمر شیخ کو سی سی پی او لاہور کے عہدے سے ہٹا دیا گیا

  • جمعہ 01 / جنوری / 2021
  • 6680

 پنجاب حکومت نے لاہور کے متنازعہ  کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 20 کے عمر شیخ کو اسی تنخواہ پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد کے عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے۔  اب غلام محمود ڈوگر کو سی سی پی او لاہور کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ غلام محمود ڈوگر فیصل آباد کے آر پی او کے علاوہ کیپٹل پولیس افسر لاہور کے عہدے پر فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

سی سی پی او لاہور تعینات ہونے والے غلام محمود ڈوگر کا شمارپاکستان پولیس سروس کے انتہائی پروفیشنل، قابل، ایماندار اور فرض شناس پولیس افسران میں ہوتا ہے۔ وہ ان دنوں سینٹرل پولیس آفس میں ڈی آئی جی ٹیکنیکل پروکیورمنٹ کے عہدے پر کام کررہے ہیں۔ اس سے قبل وہ سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف شہروں میں اہم عہدوں پر فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

غلام محمود ڈوگر1963میں پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بی ایس سی سول انجینئرنگ اور ایم ایس سی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ غلام محمود ڈوگر نے 1993میں بطوراے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی اور انکا تعلق اکیسویں کامن سے ہے۔

سابق سی سی پی او لاہور سینئر افسران کے ساتھ اختلافات اور ماتحتوں سے نامناسب رویوں اور بیانات کے باعث تنازعات میں گھرے رہے تھے۔ عمر شیخ اس وقت خبروں میں نمایاں ہوئے تھے جب اختلاف کی وجہ سے سابق انسپکٹر جنرل پنجاب شعیب دستگیر نے کام کرنے سے انکار کردیا اور ان کا تبادلہ کردیا گیا۔

اکتوبر میں عمر شیخ نے لفظی تکرار کے بعد تفتیشی ایجنسی (سی آئی اے) کے ایس پی عاصم افتخار کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے تھے جنہیں بعد میں انہوں نے اپنے سینئرز کی مداخلت پر واپس لیا تھا۔ اس کے بعد عاصم افتخار کا تبادلہ کیا گیا تھا۔ متعدد پولیس اہلکاروں نے آئی جی سے عمر شیخ کے نازیبا رویہ کی شکایت کی تھی۔

عمر شیخ نے کئی رسمی اور غیر رسمی ملاقاتوں میں سینئر افسران کے خلاف مبینہ طور پر نامناسب الفاظ بھی استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے پولیس کے کچھ عہدیداروں کو گرفتار بھی کیا۔ موٹر وے گینگ ریپ کیس پر ان کے بیانات بھی تنازعہ کا سبب بنے تھے۔