اپوزیشن ثابت کرے کہ فوج حکومت کی پشت پناہی کررہی ہے: وزیر اعظم
- جمعہ 01 / جنوری / 2021
- 4800
وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ وہ ثبوت دے کہ فوج کیسے ہماری حکومت کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہو رہی ہے کہ یہ کیا چاہتے ہیں کہ فوج کیا کرے۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’ آن دی فرنٹ‘ کو ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم کا کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مجھے فوج کا کٹھ پتلی کہتی ہے۔ فوج ریاستی ادارہ ہے اور میں ریاست کا منتخب وزیراعظم ہوں۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ حکومت اداروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ 95 فیصد نیب کیسز ہم نے ان کے خلاف نہیں بنائے۔ انہوں نے اپنے ادوار میں ایک دوسرے پر بنائے تھے۔ ہم نیب کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں نہ ججز کو فون کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن رہنماؤں کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج قربانیاں دے رہی ہے، یہ اس کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ کس جمہوریت میں آرمی چیف کو کہا جاتا ہے کہ حکومت کو ہٹائیں۔ نواز شریف نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ پر تنقید کی۔ دھاندلی کا ثبوت نہیں دیا اور کہا گیا کہ فوج نے دھاندلی کرائی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مجھے کٹھ پتلی بھی کہتی ہے اور فاشسٹ بھی۔ اپوزیشن فیصلہ کر لے کہ میں کٹھ پتلی ہوں یا فاشسٹ؟ فوج کو پتا ہے عمران خان کرپشن نہیں کر رہا بلکہ پاکستان کیلئے کام کر رہا ہے۔ فوج ہر اس وزیراعظم کا ساتھ دے گی جو ملک کیلئے کام کرے گا۔ ایک سوال کا جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ میں خواجہ آصف کےخلاف تحقیقات کرنے کا کہا۔ ہم جانتے تھے اقامہ منی لانڈرنگ کا طریقہ ہے۔ خواجہ آصف کو دبئی سے کیش کی صورت میں رقم آ رہی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی بے وقوف ہی ہوگا جسے پتا نہ ہو کہ ملک کے کیا مسائل ہیں۔ میں وزیراعظم بننے سے پہلے کئی انٹرویوز میں کہہ چکا تھا کہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کا کوئی آسان حل نہیں ہے۔ ان مسائل سے نکالنے کیلئے جو حل ہیں، وہ تکلیف دہ ہیں۔جب ایک گھر پر قرضہ چڑھ جائے تو خرچے کم کرنا پڑتے ہیں یا پھر آمدنی میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ مثال صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک پر لاگو ہوتی ہے۔ مجھے وزیراعظم بننے سے پہلے ہی علم تھا کہ سابق حکمران اپنے دور اقتدار میں پاکستان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ ساٹھ سال کی تاریخ میں پاکستان کا ٹوٹل قرضہ 6 ہزار ارب تھا لیکن صرف دس سالوں میں اسے 30 ہزار ارب تک پہنچا دیا گیا۔ انہوں نے ملک کے سارے ادارے دیوالیہ کر دیے۔
تیاری نہ ہونے کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں نے تو اپنی تقریر میں امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی مثال دی تھی ۔ اہییں گزشتہ ڈھائی مہینوں سے تمام اداروں کی جانب سے بریفنگ دی جا رہی ہے۔ وہ جب اقتدار سنبھالیں گے تو ان کی ساری ٹیم تیار ہوگی۔ ہمیں اقتدار سنبھالنے کے بعد پتا چلا کہ پی آئی اے اور سٹیل ملز مقروض ہیں۔ میرے کہنے کا مطب یہ تھا کہ اگر حکومت میں آنے سے پہلے پریزینٹیشنز مل جائیں تو اقتدار سنبھالتے ہی کام شروع کیا جاسکتا ہے۔
حکومت میں شامل دیگر پارٹیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھاہمارے تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ بہت اچھے حالات ہیں۔ میری لڑائی ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف تھی۔ اب باقی ایم کیو ایم اس سے علیحدہ ہو گئی ہے تو اب ہماری ان سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ایم کیو ایم اور ہماری بہت سی چیزیں مشترک ہیں وہ بھی وراثتی سیاست کے خلاف ہیں اور ہم بھی۔ مسلم لیگ ق ہمارے منشور کے ساتھ چل رہی ہے۔
عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ این آر او کیلئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جو مرضی کرے، این آر او نہیں دوں گا۔۔ پہلے دن کہا تھا کہ تمام اپوزیشن اکٹھی ہو جائے گی۔ اپوزیشن کی سیاست اقتدار میں آ کر مال بنانا ہے۔ اپوزیشن کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو سکتا۔ پی ٹی آئی کے سابق رہنما جہانگیر ترین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کی ہماری پارٹی کے اندر پوزیشن تھی۔ جب انہیں نااہل قرار دیا گیا تو آفشیلی طور پر ان کی پوزیشن ختم ہو گئی۔ ہماری حکومت میں ان کا رول صرف ایڈوائزی کا تھا، کیونکہ وہ ماڈرن زراعت کے ایکسپرٹ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف جیسے ہی انکوائری شروع ہوئی ہم نے ان کو تمام ذمہ داریوں سے ہٹا دیا۔ ان کے خلاف انکوائری میرٹ پر ہو رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کبھی عوامی تحریک نہیں چلا سکتی۔ عوام تب نکلتے ہیں جب ان کے مسائل کیلئے تحریک چلائی جائے۔ اپوزیشن اپنی کرپشن بچانے کیلئے سڑکوں پر نکل رہی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے ڈاکو انقلابی بن گئے ہیں۔