اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق
- ہفتہ 02 / جنوری / 2021
- 6960
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی اسکواڈ پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک 22 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا ہے۔ پولیس نے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے 5 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان مطابق پولیس کو رات میں کال موصول ہوئی کہ گاڑی میں سوار ڈاکو شمس کالونی کے علاقہ میں ڈکیتی کی کوشش کررہے ہیں۔ انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) پولیس کے اہلکار جو علاقہ میں گشت پر تھے انہوں نے مشکوک گاڑی کا تعاقب کیا۔ کالے شیشوں والی مشکوک گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تو ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی۔
ترجمان کے مطابق پولیس نے متعدد مرتبہ جی-10 تک گاڑی کا تعاقب کیا۔ تاہم اس کے نہ رکنے پر گاڑی کے ٹائروں پر فائر کیے جس میں سے بدقسمتی سے 2 فائر گاڑی کے ڈرائیور کو لگ گئے جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ آئی جی اسلام آباد نے واقعے کا نوٹس لے لیا اور ڈی آئی جی آپریشنز کی زیرنگرانی ٹھقیقاتی ٹیم بنا دی ہے۔
واقعہ میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ نوجوان کے قتل کا مقدمہ والد کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں درج کیا گیا۔ نوجوان کے والد ندیم یونس ستی نے اپنی شکایت میں کہا کہ میرا جواں سالہ بیٹا اسامہ ندیم ستی میرے ساتھ جی-10 مرکز میں کاروبار کرتا تھا۔ وہ 2 جنوری کی رات تقریباً 2 بجے اپنے دوست کو نسٹ یونیورسٹی چھوڑنے گیا تھا۔ بعض پولیس اہلکاروں نے اس پر حملہ کیا۔ ان سے ایک دن قبل میرے بیٹے کی تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا تھا۔ اس کا ذکر میرے بیٹے نے مجھ سے بھی کیا تھا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اسلام آباد پولیس کے ان ملازمین نے میرے بیٹے کو دھمکی دی تھی کہ تمہیں مزہ چکھائیں گے، جس کے بعد رات 2 بجے ان پولیس اہلکاروں نے میرے بیٹے کی گاڑی کا پیچھا کیا اور ٹکر ماری جس کے بعد انہوں نے روک کر مین شاہراہ پر گاڑی پر 17 گولیاں چلائیں جس سے میرے بیٹے کی جان چلی گئی۔
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میرے بیٹے کی جان معمولی تلخ کلامی کی وجہ سے لی گئی ہے۔ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ میرے بیٹے کو ان پولیس کی وردی میں موجود ’درندوں‘ نے ناحق قتل کیا۔ انہوں نے درخواست میں ان پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
اس سے پہلے نوجوان کے والد نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ رمنا تھانے کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی، ایس پی نے ہمارے سامنے یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ لڑکا بےقصور تھا۔ ہمارے اہلکاروں کی یہ غلطی ہے، تاہم میڈیا کے سامنے انہوں نے مؤقف دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے وزیراعظم، وزیر داخلہ، ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ مجھے انصاف دلایا جائے اور ان اہلکاروں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جائے۔
واقعے سے متعلق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس شمس کالونی خالد اعوان نے لڑکے کے والد ندیم ستی و دیگر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رات ڈیڑھ سے پونے 2 کے قریب یہ کال چلی کہ شمس کالونی میں کسی گھر میں واردات ہوئی ہے اور ڈاکو گھر میں داخل ہوئے ہیں، جس کے تھوڑی دیر بعد یہ کال چلی کہ سفید رنگ کی ایک مشکوک گاڑی نکلی ہے، جس پر پولیس نے ردعمل دیا۔
انہوں نے بتایا کہ تاہم اس دوران نوجوان اسامہ نعیم ستی کی گاڑی بھی اتفاقیہ طور پر اسی جگہ سے نکل رہی تھی اور کسی نے کہا کہ یہ مشکوک گاڑی ہے۔ جس پر انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے اس کا تعاقب کیا اور بچے کو روکنے کی کوشش کی۔ جس پر وہ نہیں رکا۔ لڑکے کے نہ رکنے پر اہلکاروں نے سرینگر ہائی وے کے بالمقابل جی-10/4 پر گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں لڑکا جاں بحق ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس واقعے پر آئی جی اور ڈی آئی جی نے نوٹس لیا اور ہمارے سینئر افسران وہاں پہنچ گئے۔ تحقیق میں یہ معلوم ہوا کہ یہ بچہ بےگناہ ہے اور اس کا اس واقعہ میں کوئی لینا دینا نہیں۔ ڈکیتی کے واقعے کی اطلاع سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہ شمس کالونی کا واقعہ تھا جبکہ لڑکا بھی ایچ 13 میں اپنے کسی رشتے دار کو اتار کر آرہا تھا۔ تاہم گاڑی کا رنگ ایک جیسا تھا۔
ڈی ایس پی شمس کالونی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی تحقیقات کے بعد مدعی سے بھی لڑکے کی شناخت کروائی جس پر انہوں نے بھی پہچاننے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد ہم نے ان اہلکاروں کو اپنی حراست میں لے لیا ہے۔