فوج کےخلاف بات کرنے پر 72 گھنٹے میں پرچہ کٹے گا: وزیر داخلہ
- ہفتہ 02 / جنوری / 2021
- 4560
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ جب تک میں وزیر داخلہ ہوں جو کوئی بھی فوج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرے گا اس پر 72 گھنٹے میں پرچہ کٹے گا۔
راولپنڈی میں نادرا کے دفتر کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مفتی کفایت اللہ کا کیس خیبر پختونخوا کو بھیج دیا ہے اور جب تک میں وزیر داخلہ ہوں کوئی بھی فوج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرے گا تو 72 گھنٹے میں اس کے خلاف پرچہ دوں گا۔
دوران گفتگو مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی پاکستان واپسی کے لیے وفاقی حکومت کے اقدامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 16 فروری کو نواز شریف کا پاس پورٹ ختم ہورہا ہے، اس میں توسیع نہیں کی جائے گی۔
اپوزیشن جاعتوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لے گی۔ لہٰذا پیپلز پارٹی جیت گئی ہے اور پی ڈی ایم نے شکست تسلیم کرلی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دو ادوار تھے اور اس میں آپ نے نیب کو ختم نہیں کیا، لہٰذا یہ اب بھی ختم نہیں ہوگی۔ ہم نے بھی اقتدار سے جانا ہے۔ ہم کرپشن کریں تو ہمارے خلاف بھی نیب کارروائی کرے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے سارے استعفے لاکر میں ہیں، یہ جھوٹ بول رہے ہیں، لوگوں نے دستخط ہی نہیں کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی بات پر قائم ہوں، استعفے نہیں دیے جائیں گے۔ نہ الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے نہ سینیٹ کا بائیکاٹ کریں گے مگر یہ لانگ مارچ ضرور کریں گے۔ جس دن یہ لانگ مارچ کی تاریخ بتائیں گے اس دن ہم بھی اپنا آئینی و قانونی حق جتائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ستم کریں گے تو ہم بھی ستم کریں گے، وفا کریں گے تو ہم بھی وفا کریں گے، جو یہ کریں گے وہی کام ہم بھی کریں گے تاکہ جمہوریت آئین و قانون پر کوئی آنچ نہ آئے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں۔ انہیں اسلام اور اسلام آباد میں فرق رکھنا چاہیے۔ اسلام کی خاطر جان بھی حاضر ہے مگر اسلام آباد پر قبضے کا خواب وہ دیکھنا چھوڑ دیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری سمجھدار ہے، انہوں نے اچھا کھیلا ہے اور مجھے شک ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے لیے بہتر راستے تلاش کر رہی ہے۔
وزیر داخلہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹکے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں لیکن مذاکرات کس سے کریں۔ جعلی حکومت سے جو عوام کی نمائندہ ہی نہیں ہے۔
انہوں نے وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کے 72 گھنٹے میں مقدمہ درج کرنے کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں آپ نے یہ حرکت کی تو آپ کی وزارت نہیں رہے گی۔ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کے پاسپورٹ منسوخی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ طبی بنیادوں پر یہاں سے گئے ہیں۔ پہلے بھی پاسپورٹ منسوخ ہوئے ہیں۔ نواز شریف کا پوچھنے کی بجائے یہ پوچھیں کہ پرویز مشرف اشتہاری ہے اس کے بارے میں کیا کیا۔ حکومت دوہری پالیسی پر عمل کررہی ہے۔ 3 دفعہ ملک کا وزیراعظم رہنے والے کے ساتھ یہ رویہ جبکہ دوسرا عدالت کے ہاتھوں بغاوت کے جرم میں سزایافتہ اور اشتہاری ہے۔ اس کے بارے میں دوسرا رویہ ہے۔ اس طرح ملک نہیں چلا کرتے، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے‘۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم فوج کے احترام اور تقدس میں کوئی فرق نہیں لانا چاہتے۔ ہم سب جنرلز کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر فوج سیاست میں مداخلت کرے گی تو ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہیں گے کہ تم اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔