وقت کی غلامی اور ڈاکٹر طاہر تونسوی

گردش ماہ وسال کی کہانی بہت پرانی ہے۔ انسان وقت کا غلام کب اور کیسے ہوا اور وقت کی غلامی میں آنے کے بعد وہ کن مسائل اور مشکلات سے دوچارہوا۔ اس سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم طاقت ور ملکوں ، طاقت ور طبقوں اور گروہوں کے ساتھ ساتھ وقت کے بھی غلام ہیں اور وقت کی غلامی کا احساس ہمیں سال مکمل ہونے پر ہوتا ہے۔

کسی کی پیدائش یا موت بھی وقت کی گنتی میں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ہر مرتبہ سالگرہوں اوربرسیوں کے موقع پرہم ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہیں اوراپنا یہ جملہ دہراتے ہیں کہ حیرت ہے ایک اور سال بیت گیا۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ ہمارے بچے چلنا سیکھ رہے تھے، بات کرنا سیکھ رہے تھے ۔ اوراب وہ ہمارے برابر آگئے ہیں بلکہ کئی مقامات پر ہم سے دوقدم آگے بھی ہیں۔ وہ ہمیں اچھے اچھے مشورے بھی دیتے ہیں۔ اورہم ان کے مشوروں کو خوش دلی یا مجبوری کے ساتھ قبول بھی کرلیتے ہیں۔

اور یہ بھی تو کل کی بات لگتی ہے کہ ہمارے بہت سے دوست ہمارے ساتھ ہم قدم تھے ، قہقہے لگاتے تھے ، شعر سناتے تھے ، افسانوں پربحث کرتے تھے ،  تقریبات میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے تھے اور ا ج کسی کو ہم سے بچھڑے ایک سال بیت گیا ، کسی کو پانچ اور کسی کودس برس ہوگئے کہ اس سے زیادہ کی گنتی میں کرتا نہیں کہ پھروقت گزرنے کا احساس تکلیف دہ ہوجاتا ہے۔

پچھلے سال یکم جنوری کو ہم نے ڈاکٹر طاہر تونسوی کاجنازہ پڑھا تھا۔ ڈاکٹرصاحب بہت محترک انسان تھے۔ ان کا تونسہ جیسے دورافتادہ قصبے سے تعلق تھا جو بعدازاں شہر اورپھر تحصیل میں بھی تبدیل ہوگیا۔ ڈاکٹرصاحب نے تونسہ سے آکرمسلسل محنت کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی پہچان کرائی۔ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوئے توپرنسپل ، ڈائریکٹر کالجز اور یونیورسٹی کے شعبوں کی سربراہی سمیت محکمہ تعلیم کے تمام اہم عہدوں پر فائزرہے۔ ڈاکٹر وزیرآغا اور ڈاکٹر انورسدید کی مخالفت کو انہوں نے اپنی شہرت کی سیڑھی بنایا۔

جب ڈاکٹر صاحب زندہ تھے تو ہماری ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی چلتی تھی۔ ہم ان کے بارے میں کوئی شرارتی جملہ یا کالم تحریرکردیتے تھے ۔ کسی پریس کانفرنس میں ان کے محکمہ کے وزیر ریاض فتیانہ سے ان کے ادارے کے بارے میں کوئی تلخ سوال بھی کردیتے اور طاہر تونسوی غصے سے جھنجھلاہٹ کا شکارہوجاتے۔ پھروہ شاکر یا حسین سحر سے ہماری شکایت کرتے۔ یہ نہیں کہ ہمارا ان کے ساتھ شکوے شکایت کا ہی تعلق تھا، انہوں نے ہماری بہت سی تقریبات میں بھی شرکت کی۔ کتابوں پرمضمون بھی لکھے۔ لیکن اس کے باوجود ہم انہیں دور سے ہی سلام کرتے تھے۔

آخری باروہ ہمیں ملتان ٹی ہاس کی افتتاحی تقریب میں ملے تھے۔ پھر ان کی علالت کی خبریں آنے لگیں ۔ ذیابیطس کے شدید حملے نے انہیں چلنے پھرنے سے معذور کردیا۔ لیکن اتنامتحرک انسان بھی جب اپنے گھر تک محدود ہوا تو وہ دنیا کی بے اعتنائی کا شکارہوگیا۔ لوگوں نے ان سے ملنا جلنا ترک کردیا ۔ وہ لوگوں کو فون کرکے نہ ملنے کا شکوہ بھی کرتے تھے لیکن لوگوں کے پاس بھلا کسی صاحب فراش سے ملنے کی فرصت کہاں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی نے بہت سے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی لیکن یہ بھلائی بھی نہ جانے کیوں ان کی تنہائی کم نہ کرسکی۔

ہم نے وقت کی غلامی سے بات اسی لیے شروع کی تھی کہ ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ اگر کوئی بھاگ دوڑ کے ذریعے وقت کو اپنی گرفت میں بھی لے لے تو وقت پھربھی اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے ۔ جیسے ڈاکٹر طاہر تونسوی کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور پھر یکم جنوری 2020 کے بعد ایک دو تقریبات کے سوا انہیں کسی نے یاد بھی نہیں کیا۔

(بشکریہ : روزنامہ سب نیوز اسلام آباد)