محترمہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کی جواں عزم قیادت سے توقعات

ہماری منتخب یاعسکری حکومتوں کو جو مشکلات اچھا خاصا دورانیہ گزارنے کے بعد درپیش ہوتی تھیں، موجودہ پی ٹی آئی حکومت کی یہ بد قسمتی ہے یا اناڑی پن کہ ان پر اس ناپسندیدگی و حقارت یاہٹاﺅ گراﺅ کاچیلنج محض ڈھائی سال میں ہی مسلط ہو گیا ہے۔

اس کی بڑی وجہ خود اس کی اپنی قیادت کا غیر ذمہ دارانہ غیر سیاسی رویہ ہے۔ اگرچہ اس کے تناﺅ میں اب اتنا جھکاﺅ آ چکاہے کہ اپنی جن اتحادی پارٹیوں کو وہ ماقبل کسی کھاتے میں نہیں لکھ رہے تھے اب تسبیح تھامے ان کے در دولت پر حاضری دیتے عرض گزار ہیں کہ ہمیں بھی اپنا چھوٹاحقیقی بھائی سمجھ لیں۔ اس اکڑفوں ٹوٹنے کے باوجود بڑے چوہدری صاحب کا جو تازہ بیان سامنے آیا ہے وہ سیاسی بصیرت کے حوالے سے چشم کشا ہے۔ رہ گئی پی ڈی ایم اور اس کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے غیر سیاسی پریشر گروپ کی تمنائیں یا حسرتیں، وقت کے ساتھ وہ بھی محض خوش فہمیاں ثابت ہوں گی۔ کیونکہ سیاسی پختگی و شعور کے حوالے سے نہ تو مولانا کم ہیں اور نہ لندن و لاڑکانہ میں بیٹھے بزرگ ۔ جہاں تک اپوزیشن کی جواں سال قیادت کا تعلق ہے انہوں نے اب تک جو کارکردگی دکھائی ہے، وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ اسے ملاحظہ کرتے ہوئے پورے اعتماد سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”جوانوں کو حکومتی پیروں کا استاد کر“۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت اور سیاسی افکار محض پی پی نہیں تمام اہل وطن کا مشترکہ قیمتی اثاثہ ہیں جسے ہمارے تعلیمی سلیبس میں شامل کیا جاناچاہیے تھا۔ مگر سیاسی نابالغوں یا غیر سیاسی لوگوں نے ان کا نام ہٹا کر ایک طرح سے ان کے چاہنے والوں کے احساسات پر ہی نہیں قومی یکجہتی کے جذبات پر بھی چوٹ لگائی ہے۔ میاں صاحب کی بہادر بیٹی نے محترمہ کی برسی میں شرکت کرتے ہوئے اپنے جن جینوئن خیالات کا اظہار کیا ہے، اس تدبر پر ان کی ستائش بنتی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ محترمہ پر قاتلانہ حملہ ہونے کے بعد میاں صاحب سکیورٹی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس اپنائیت و وارفتگی کے ساتھ ہسپتال پہنچے اور محترمہ کی شہادت کا سن کر وہ جس قدر دکھی ہوئے، اس سے میاں صاحب کے دل میں ان کی عزت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مریم بی بی کو یہ بھی کہناچاہیے تھا کہ اپنی شہادت سے چند لمحات پہلے محترمہ جس شخصیت سے گفتگو کرنا چاہتی تھیں وہ میاں صاحب ہی تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماورائی طاقتوں نے90 کی دہائی میں ہر دو شخصیات کو جس طرح باہم دست وگریبان کیے رکھا اور وہ بچوں کی طرح لڑتے رہے، اسی غلطی سے بعد ا زاں ہر دو شخصیات نے بہت کچھ سیکھا۔ چارٹر آف ڈیمو کریسی ان دونوں بڑے سیاستدانوں کی سیاسی پختگی اور بالغ نظری کا ظہور و ثبوت تھا۔ اگرچہ غلطیاں ما بعد بھی ہوئیں لیکن سیاسی حریف ہونے کے باوجود کم از کم میاں صاحب کی طرف سے اس نوع کی تلخی کبھی نہیں ہوئی ۔ آج ہماری موجودہ سیاسی صورتحال جس سے چھلنی ہے۔ یہ میاں صاحب ہی تھے جنہوں نے ماورائی طاقتوں سے منہ موڑ کربی بی کی قبر پر حاضری دیتے ہوئے یہ کہا کہ محترمہ کا جمہوری مشن ہی میرا مشن ہو گا۔

محترمہ کی ز ندگی پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ان کی سب سے بڑی سیاسی غلطی 1985 کے مارشل لائی انتخابات کا بائیکاٹ قرار دی جائے گی جس کا انہیں مابعد ادراک بھی رہا۔ اور یہ محترمہ ہی تھیں جنہوں نے 2008 کے الیکشن سے قبل میاں صاحب کو اپنے فکری استدلال کے ساتھ اس بات پر قائل کیا کہ وہ کسی بھی صورت انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ حالانکہ کچھ مذہبی گروہ اس حوالے سے انہیں پوری طرح اکسا رہے تھے۔ سیاست میں حکمت عملی کے لحاظ سے انتخابی بائیکاٹ کوئی شجر ممنوع نہیں ہے مگر درپیش صورتحال کو تدبر کے ساتھ دیکھتے ہوئے آﺅٹ پٹ پر نظر رکھی جاتی ہے کہ وہ سیاست و جمہوریت کے حق میں ہے یا خلاف۔

موجودہ حالات میں مولانا کی تمنائیں جتنی بھی پاکیزہ و بلندتر ہیں، بہت سے عقیدت مندوں کی نظروں میں ان کا جذبہ عزیمت قابل داد ہو سکتا ہے، لیکن پی پی کے جواں سال چیئرمین نے جو کچھ اس حوالے سے کہا ہے غلط وہ بھی نہیں ہے۔ ان کے والد صاحب نے کہا ہے کہ وہ مکھن سے بال یا مکھی کو دودھ سے جس طرح نکال چکے ہیں، وہی کرتب اب بھی دکھائیں گے۔ یہ بحث اپنی جگہ لیکن بلاول کی والدہ محترمہ نے انہیں جو سیاسی پیغام دے رکھا ہے اس پر مریم بی بی کو بھی ضرور غور کرنا چاہیے کہ آپ نے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں اٹھانا جس سے قومی سیاست و جمہوریت کو زک پہنچنے کا قوی اندیشہ وامکان ہو۔ آپ اپنی عزیمت والی جدوجہد ضرور جاری رکھیں جب آخری وار کا مرحلہ آئے تو اس سے بھی گریز نہ کریں۔ لیکن ہر اقدام کا ایک موزوں وقت ہوتاہے۔

سیاسی و جمہوری جدوجہد میں جہاں مولانا صاحب جیسے جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے، وہیں سیاسی حکمت و تدبر کی افادیت سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ تمام کشتیاں جلا کر آگے بڑھنے کی اپنی اہمیت ہو گی مگر فی زمانہ شعوری ترقی نے یہ سمجھایا ہے کہ بڑے رسک سے بچتے ہوئے بہتر آﺅٹ پٹ کیسے حاصل کرنی ہے۔ سینیٹ سے آﺅٹ ہو کر اب تک کی سیاسی جدوجہد پر پانی نہیں پھیرنا چاہیے۔ حساس جمہوری جدوجہد کی راہ میں ایک ایک قدم ناپ تول کر اور دیکھ بھال کر اٹھاناپڑتا ہے۔

یہ محض سیاست یا حصول اقتدار کی جنگ نہیں ہے۔ بائیس کروڑ عوام کی تقدیر کا ایشو ہے اور آپ لوگ یہ فیصلہ کرنے جا رہے ہیں کہ ہم نے اس ملک کو ترقی یافتہ اقوام عالم کی طرح جینوئن جمہوری و آئینی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ نہ کہ چوہے بلی کے روایتی 70 سالہ کھیل کو جاری و ساری رہنے دینا ہے۔ اس عظیم مقصد کی خاطر دس سالہ بیانئے والی سوچ غلط نہیں ہے۔ اسی تدبر اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو ثمرات آپ کے قدموں میں ہوں گے۔ لیکن یہ امر پیش نظر رہے کہ بھاری چیلنج غیر معمولی جدوجہد کا تقاضا کرتاہے۔