کووڈ 19: سال گزرا خدا خدا کرکے

  • تحریر
  • ہفتہ 02 / جنوری / 2021
  • 4900

نئے  سال کے موقع پر بیشتر لوگوں کو یہ   جاننے  کی  شدید خواہش  ہوتی ہے کہ نیا سال کیسا ہوگا؟  مستقبل شناسی کے ماہرین  کی چاندی ہو جاتی ہے۔  انجانے کو جاننے  کی خواہش کی تکمیل میں پرنٹ اور دیگر میڈیا میں پیشین گوئیوں کا انبار لگ جاتا ہے۔   پیشین گوئیوں کا سلسلہ چند دن خوب رونق لگائے رکھتا ہے۔ مگر اس کے بعد صبح کرنا شام کا  لانا ہے جوئے شیر کا   والی روایتی معرکہ آرائی ایسی شروع ہوتی ہے کہ کم  ہی یاد رہ  پاتا ہے کہ کونسا ستارہ سیدھی چال چلا اور کونسا لگن  کہا ں لگا۔

دور کیا جانا ایک سال قبل  2020 کی آمد پر بھی ایسی ہی پیشین گوئیوں کا  غلغلہ رہا مگر پھر یوں ہو اکہ چین کے ایک شہر ووہان سے ایک نادیدہ وائرس نے  وہ اودھم مچائی کہ بقول  شخصے مینوں بھل گئے سوہرے پیکے  (مجھے  سسرال اور  میکہ سب بھول گیا)۔   ورلڈ  بنک اور آئی ایم ایف  عالمی معیشت میں ایک اور بہتر سال کے اندازے لگا رہے تھے۔ عالمی تجارت میں امریکہ اور چین کی ٹریڈ وار کے سوا تقریباٌ سب خیریت تھی مگر یہ سب کچھ  کسی کچے خواب کی طرح  ٹوٹ گیا۔ وہی ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف  اپنے اندازے بار بار الٹی سمت بڑھاتے چلے گئے۔  عالمی معیشت اور گلوبلائزیشن کی چولیں ہل گئیں۔ کووڈ 19  سال 2020  کا سب سے بڑا سرپرائز ثابت ہوا۔  کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا اور نہ کسی جغادری مستقبل شناس نے سوچا تھا۔ جس تیزی سے یہ وائرس پھیلا اور جس قدر خوفناک ثابت ہوا،  حالیہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔  گزشتہ چالیس سال  کی  گلوبلائزیشن کی تقریبا ٌ سبھی علامتوں کو  اس نظر نہ  آنے  والے وائرس  نے جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔

 ٹورزم، ہوٹلنگ، ریستوران، ایوی ایشن،  بین الملکی سفر،  نمائشیں، تعلیم  سیمینارز  وغیرہ ایک دوسرے سے ملنے  ملانے اور قربتوں کے ذرائع تھے۔  میلے ٹھیلے، فیسٹیول، میوزک، فلمیں اور اجتماعات کی ہر صورت انسانوں کو قریب لانے  پر منحصر تھی مگر کووڈ 19 نے  سوشل لائف کے اصول ہی بد ل ڈالے۔  ہاتھ نہ ملائیں،  گلے نہ ملیں،سماجی  فاصلہ رکھیں، منہ ڈھانپ کر رکھیں،  بار بار ہاتھ دھوئیں،  زیادہ لوگ اکٹھے نہ ہوں، بلا ضرورت سفر نہ کریں۔  کووڈ 19  نے سب بدل دیا۔ دوسری لہر پہلے سے زیادہ خوفناک  ثابت ہو رہی ہے۔ ویکسین کی دستیابی میں سالوں کا سفر مہینوں میں طے ہوا، اب تک نصف درجن سے زائد ویکسینز منظور ہو چکی ہیں مگر  تمام ممالک  کی غالب آبادی تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔مگر امکان ہے کہ 2021  کے  وسط تک زندگی پھر سے اپنی ڈگر پر آنا شروع  ہو جائے گی۔  اللہ کرے ایسا ہی ہو، زندگی اگر دوبار اسی ڈھب پہ آ بھی گئی تو بھی دنیا کے بہت سے معاملات  پرانی ڈگر پر نہیں آئیں گے۔

کیوں؟  کووڈ 19  نے گلوبلائزیشن  میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔  گلوبلائزیشن  کا ایک  انقلابی معرکہ گلوبل سپلائی چین کی تشکیل  اور اس میں نت نئے اضافے تھے۔ کووڈ19  نے گلوبل سپلائی چین کو جھٹکا دیا تو  ترقی یافتہ ممالک کو معلوم ہوا کہ ان کے ہاں تو ٹشوپیپر، سینی ٹائزر حتیٰ کہ ماسک تک بنانے کی  سکت نہیں ہے۔  آپا دھاپی بڑھی تو  ہر ایک کو اپنی اپنی پڑگئی۔ ہیلتھ سسٹم  مریضوں کے بوجھ تلے چرچرانے لگے تو اندازہ ہوا کہ گلو بل ولیج کا دوسرا رخ کتنا  صبر آزما ہے۔  کووڈ19  نے  ترقی یافتہ ممالک میں دولت   کی ناہمواری کو ایک بار پھر نمایاں کیا۔ ایک طرف  لیبر مارکیٹ کی کثیر تعداد بے روزگاری الاؤنس کے لئے  خوار ہورہی تھی مگر دوسری طرف  کھربوں ڈالرز کے امدادی پیکیجز سے مالدار مزید مالدار ہوئے۔  معاشی ناہمواری اور کووڈ کی افتاد نے نچلے طبقات کو سب سے زیادہ متاثر کیا، اس قدر زیادہ کہ جمہوری نظام پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے ہیں۔ عالمی سطح پر کووڈ 19 نے ایسی بنیادی تبدیلیاں  برپا کردی ہیں جیسی نائن الیون نے کیں، گلوبلائزیشن  شاید اب  ویسی نہیں رہے گی۔ 

پاکستان کے لئے بھی گزرا سال کووڈ19  کے حوالے سے اہم رہا۔ پہلی لہر میں اللہ تعالیٰ کا خاص کرم رہا  مگر مجموعی طور پر سماج نے ذمہ داری کا مظاہر ہ کرنے سے گریز ہی کیا۔ اب دوسری لہر پہلی سے زیادہ شدید او رمہلک ہے مگر احتیاط کا عملی جوش  لاپرواہی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے، این سی او سی اپنی جگہ دہائی دے رہی ہے مگر  سائنسی سوچ کی بجائے اب بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کے مطابق کرونا ورونا سب ڈھکوسلا ہے۔  کرونا  کی پہلی لہر کے دوران حکومت  کے انتظامی اور امدادی اقدامات اور اسٹیٹ بنک کی بروقت پالیسیوں  نے معیشت  کو سنبھالا دیا مگردوسری طرف جاری  مہنگائی اور مایوس کن گورننس نے  عوام اور میڈیا میں تنقید کے دفتر کھول دئے۔   پی ڈی ایم کی حالیہ مہم کو بھی اصل کمک مہنگائی، بے روزگاری اور غیر متاثر کن گورننس نے پہنچائی۔  نیا سال کیسا ہوگا؟   اس بابت کئی احباب سے  گفتگو ہوئی، مجموعی تاثر   بے یقینی  اور پریشانی کی طرف پایا۔  سدا کے رجائیت پسند  پاکستان کے ایک انتہائی سینئیر  ٹیکسٹائل ایکسپرٹ اور دانشور  سید محفوظ قطب کے بقول مشکلات  سے راستہ بھرا پڑا ہے مگر اب بھی موقع ہے اگر ہم  اپنے خول سے باہر نکل سکیں۔

کووڈ19 کی دوسری لہر  نے ملک میں تیزی سے سر اٹھایا ہے۔ عوام  کی اکثریت ایس او پی  پر عمل  سے لاپرائی برتنے پر کمر بستہ ہے۔  حکومت نے  بارہ لاکھ ویکسین چین سے  حاصل کرنے بندوبست کیا ہے، نجی شعبے کو بھی امپورٹ کی اجازت  ہوگی۔ منظور شدہ ویکسینز کی امریکہ اور یورپ میں بہت بڑی تعداد بُک ہو چکی۔  نہیں معلوم کہ  نجی شعبے کو کب اور کتنی ویکسین عالمی مارکیٹ سے دستیاب ہوگی۔ بائیس کروڑ کے ملک میں سب کو ویکسین مہیا کرنا  نئے سال کا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ دوسرے یہ  کہ کتنے عرصے میں تمام  لوگوں تک یہ ویکسین پہنچ پائے گی۔  اس دوران کاروبار، تعلیم اور سماجی معمولات  میں حائل مشکلات  جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔  دوسری جانب  ہم      اسّی اور نوے کی دِہائی  جیسے سیاسی  اور معاشی عدم استحکام  میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بظاہر نئے سال کا بیشتر دورانیہ  کووڈ19    اور سیاسی عدم استحکام   کے سائے  میں گزرنے کا اندیشہ ہے۔