اسلام آباد میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی

  • اتوار 03 / جنوری / 2021
  • 5190

اسلام آباد میں گزشتہ شب انسداد دہشت گردی پولیس کی فایرنگ سے  22 سالہ نوجوان اسامہ ندیم ستی کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے قصور واروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔

جمعے کی شب پیش آنے والے اس واقعے پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد نے واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا اعلان کیا۔ مقتول کے والد کا الزام ہے کہ پولیس والوں کے ساتھ جھگڑے کے بعد ان کے بیٹے کو گولیاں مار کر جان بوجھ کر ہلاک کیا گیا۔

پولیس کی طرف سے فائرنگ کا یہ واقعہ اسلام آباد کے تھانہ رمنا کے علاقہ سیکٹر جی الیون کے قریب پیش آیا تھا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ سیکٹر جی 13 کے رہائشی اسامہ ندیم ستی کو مشکوک سمجھ کر پولیس نے روکا تو اس نے گاڑی بھگا دی۔ گاڑی نہ روکنے پر  پولیس پر فائرنگ کی۔

پولیس کی انسداد دہشت گردی فورس کی طرف سے مقتول کی گاڑی پر 17 فائر کیے گئے۔ ان میں سے بیشتر فائر گاڑی کے ٹائر کی بجائے ونڈ سکرین اور دروازں پر کیے گئے۔  فائرنگ کی زد میں آکر نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔

مقتول کے والد ندیم ستی کی درخواست پر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد نے ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کرانے کا بھی اعلان کیا ہے جب کہ انٹیلی جنس بیورو، آئی ایس آئی اور پولیس پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

مقتول کے اہلِ خانہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نوجوان اسامہ رات کے وقت اپنے دوست کو گھر چھوڑ کر آرہا تھا کہ گاڑی پر سوار 5 پولیس اہلکاروں نے اسامہ ستی کی گاڑی کا پیچھا کیا۔  پولیس پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اہلکاروں نے گاڑی کے ٹائروں پر فائر کیے۔ لیکن بدقسمتی سے فائر ڈرائیور کو لگ گئے۔

پولیس کو دی جانے والی درخواست کے مطابق مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے پانچ اہلکاروں نے میرے بیٹے کا قتل کیا ہے۔ ندیم ستی کا کہنا تھا کہ دو روز قبل میرے بیٹے کا پولیس والوں کے ساتھ جھگڑا بھی ہوا تھا۔ جس کے متعلق میرے بیٹے نے مجھے آگاہ کیا تھا۔ ان کے بقول پولیس اہلکاروں نے جان بوجھ کر ان کے بیٹے کو قتل کیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بھی بتایا ہے کہ یہ نوجوان اسلام آباد کے مختلف تعلیمی اداروں میں آئس منشیات سپلائی کرتا تھا اور پولیس کے راڈار پر تھا۔ واقعہ کے روز بھی اسے روکنے کی کوشش کی گئی اور روکنے کے لیے فائرنگ کی گئی۔ لیکن فائر ٹائر کے بجائے گاڑی پر لگے اور اسامہ ہلاک ہو گیا۔ اس دعویٰ کی مقتول کے والدین نے سختی سے تردید کی ہے۔ اور کہا ہے کہ اسامہ ایک طالب علم تھا اور اس کا ایسے کسی کام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس واقعہ پر سوشل میڈیا پر پولیس پر تنقید کا ایک طوفان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جن میں مقتول اسامہ کی تصاویر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔ مقتول کی وہ تصاویر بھی سامنے آرہی ہیں جن میں وہ تحریک انصاف کی طلبہ تنظیم ‘انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن’ کی ٹوپی پہن کر جلسوں میں شریک تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اس واقعہ کے حوالے سے کہا ہے کہ اسامہ کے قاتلوں کو کسی صورت  نہیں چھوڑا جائے گا ۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اسلام آباد میں مقتول اسامہ ندیم کے گھر بھی گئے۔ اورپولیس کی فائرنگ سے قتل ہونے والے  مقتول اسامہ ندیم کے والد سے ملاقات کی۔

اسامہ کے گھر پر  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں  کسی صورت کسی کو مجرم کو نہیں چھوڑوں گا۔

ملزموں کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل ہوگی۔