بلوچستان کے علاقے مچھ میں حملہ، ہزارہ کمیونٹی کے 11 کان کن جاں بحق
- اتوار 03 / جنوری / 2021
- 6280
بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 11 کان کنوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ مرنے والوں کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے بتایا جا رہا ہے۔
مقامی لیویز اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے مچھ کے علاقے گیشتری کے کوئلہ فیلڈ میں کام کرنے والے کان کنوں کو آدھی رات کو اغوا کیا۔ مسلح افراد کان کنوں کو قریبی پہاڑوں میں لے گئے۔ جہاں پہلے انہوں نے ان کی شناخت کی اور ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہلاک کیا۔
لیویز حکام کے مطابق پہاڑوں سے آٹھ افراد کے لاشیں ایک جگہ جب کہ 3 لاشیں دوسری جگہ سے ملی ہے۔ واقعے کے بعد فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ زخمی ہونے والے سات دیگر افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
مچھ کا علاقے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر بولان کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ہے۔ یہاں کوئلے کی کانوں کے علاوہ قدیم کوئلہ ڈپو بھی ہے۔ ملک بھر سے کان کن کام کی غرض سے یہاں آتے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں 11 معصوم کان کنوں کا قابل مذمت قتل انسانیت سوز بزدلانہ دہشگردی کا ایک اور واقعہ ہے۔ ایف سی کو حکم دیا گیا ہے کہ تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے قاتل گرفتار اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑے کئے جائیں۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کو بالکل تنہا نہیں چھوڑے گی۔
مچھ میں پیش آنے والے واقع پر گورنر اور وزیر اعلی بلوچستان کی طرف سے بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔ وزیرِ اعلٰی بلوچستان نے متعلقہ حکام سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے باشندوں نے واقعے کے خلاف ہزار گنجی روڈ بلاک کر کے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شامل ہزاہ کمیونٹی کے ایک رہنما خادم حسین ہزارہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے ہزارہ کان کنوں کو بے دردی سے قتل کیا ہے۔ جب تک حکومت واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک نہیں پہنچائے گی، احتجاج جاری رہے گا۔