چئیرمین رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ میرٹ پر نہیں ہؤا

ایک شخص نے کابل کے بادشاہ سے کہا کہ میں آپ کو ایک ایسی توپ بنا کر دیتا ہوں جو یہاں سے دِلّی کو تباہ کر دے گی۔ بادشاہ نے اس کو فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کر دی۔ خیر توپ تیار ہو گئی اور ایک دن بادشاہ کے سامنے اس کا مظاہرہ رکھا گیا۔ بادشاہ سلامت تشریف لائے، توپ میں گولا ڈال کر فائر کیا گیا، زبردست دھماکہ ہوا۔ ہر طرف دُھوئیں مٹی کے بادل چھا گئے۔ جب یہ بادل کچھ چَھٹے تو پتا چلا کہ اس دھماکے سے خود وہ توپ ہی اُڑ گئی تھی۔ بادشاہ نے غصے سے اس کاریگر کی جانب دیکھا تو وہ فوراً کورنش بجا لایا اور بولا، دیکھا بادشاہ سلامت! جب یہاں اتنی تباہی ہوئی ہے تو دِلّی کا کیا حال ہوا ہوگا۔

مجھے اس موقع پر یہ لطیفہ اس لیے یاد آیا کہ ابھی چند لمحے قبل خبر آئی کہ مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب کی جگہ مولانا عبدالخبیر آزاد کو چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی تعینات کر دیا گیا ہے۔ اور یہ کارگراں مایہ محکمہ مذہبی امور کی جانب سے سر انجام پایا جس کے سربراہ یعنی وفاقی وزیر علامہ ڈاکٹر پیر نورالحق قادری ہیں۔ یہ پوری کابینہ میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور سنجیدہ فکر وزیر سمجھے جاتے ہیں۔ یہ حال اس محکمے کا ہے تو باقی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

حضرت مفتی منیب الرحمان صاحب  کہ ایک طویل عرصہ اس منصب پر متمکن رہے اور انہوں نے ہمیشہ شریعت مطہرہ کے تقاضوں اور منشا کے مطابق رویت ہلال کے فیصلے کیے۔ اس کا اعلان وہ ببانگ دہل کرتے ہیں۔ اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ غیر مکتب فکر کے بھی کسی عالم دین نے ان کے کسی فیصلے پر اعتراض نہیں کیا۔ سوائے قاسم خان مسجد پشاور کے خطیب صاحب کے۔ ان کے بارے اس باب میں اسی لیے کوئی شکوہ نہیں کہ گزشتہ چھ دہائیوں سے وہ ہمیشہ اپنا فیصلہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے الگ اور مختلف کرتے ہیں۔ وہ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ ہماری ڈوریں کہیں اور سے ہلتی ہیں۔

ہمیں قطعاً اس بات کا اصرار نہیں کہ تاحیات حضرت قبلہ مفتی صاحب اس منصب پر رہیں مگر فیصلہ کرنا ہی ہے تو کوئی ان سے بڑے قد کاٹھ ،علمی رعب اور مسئلہ رویت کو سمجھنے والا آدمی لایا جاتا۔ جس سے اس منصب کے وقار میں اضافہ ہوتا۔ ان سے علمی فوقیت کا حامل نہ سہی، اس پائے کا ہی ہوتا تو لگتا کہ فیصلہ میرٹ پر ہے۔ مولانا عبدالخبیر آزاد سے مجھے ذاتی طور پر کوئی اختلاف نہیں۔ میری ان سے چند ملاقاتیں ہیں اور ان کا میرے دل میں بحیثیت ایک مذہبی شخصیت اور ایک تاریخی مسجد کے خطیب کے مکمل احترام موجود ہے۔ مگر ان سے شناسائی رکھنے والا ہر آدمی جانتا ہے کہ ان کا علمی قد کاٹھ، بالغ فکری، رسوخ فی العلم مفتی منیب الرحمان صاحب کے مقابلے میں بالکل صفر ہے۔ تقابل یا نسبت ایک چیز تو ہوتی جس سے لگتا کہ یہ فیصلہ درست ہے۔

 مجھے یاد آیا مولانا صاحب نے ایک کتاب لکھی اور وہ صوبائی مقابلہ سیرت کیلئے بھیج دی۔ میں اپنے استاذ گرامی جو ان کتب اور مقالہ جات کے منصف تھے، کے پاس گیا تو کہنے لگے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی میں ہنسوں یا روؤں۔ ایسی کتابیں بھی اب مقابلے کیلئے آرہی ہیں جس کا مصنف اپنی کتاب کی ایک بھی عربی عبارت دیکھ کے بھی نہیں پڑھ سکتا ۔ نا اہلی کی انتہا ہے کہ وہ آدمی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا چیئرمین منتخب ہو، وہ بھی مفتی اعظم پاکستان کی جگہ تو پھر داد تو بنتی ہے نا ۔

مولانا موصوف کا معاملہ تو اور بھی دلچسپ ہے کہ کل تک تو وہ بےچارے اپنی ڈگریوں کو روتے رہے کہ کوئی ایک تو اصلی ثابت کر سکیں مگر راوی تاہنوز چین (خاموشی) لکھتا ہے ۔ سو یہ ہے قوت فیصلہ اور میرٹ ؟ اس کی مزید تفصیل کیلئے مبشر لقمان کے ساتھ مولانا عبدالخبیر آزاد کا ٹی وی پروگرام دیکھ لیا جائےکہ ایک سوال کا بھی موصوف جواب نہ دے سکے ۔ یہ تھا انصاف اور میرٹ، جس کے دعوے ہمارے وزیر اعظم اور ملت کے دیگر سقراط و ارسطو کرتے نہیں تھکتے؟ اسی لیے ہمارے ان بزرجمہروں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ صرف ایک منصب نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے روزہ جیسی مقدس ترین عبادت کا مسئلہ ہے۔

باردگر عرض ہے کہ مجھے یہ کسی طور پر کوئی غلط فہمی یا خدانخواستہ مولانا عبدالخبیر آزاد سے اختلاف یا ان کے بارے کوئی ایسی سوچ نہیں کہ وہ اس عبادت کی اہمیت نہیں سمجھتے۔ بلکہ معاملہ اس مقدس ترین اور ہم ترین عبادت کی حساسیت اور رویت ہلال کی باریکیوں کا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ مولانا عبدالخبیر کے بس کی بات نہیں۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے اور ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی موجود کہ کوئی بھی سرکاری ملازم ممبر امن کمیٹی سے لے کر چیئرمین رویت ہلال سمیت کہیں بھی کسی بھی سرکاری عہدہ پر فائز نہین ہوسکتا۔ یعنی اس طرح کی کوئی بھی پوسٹ نہیں لے سکتا۔ سو یہ انصاف ہے تحریک انصاف کا۔ اگر یہ شفافیت ہے تو پھر۔۔ بقول پیر سید نصیر الدین نصیر ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا۔

 اس حکومت کی کئی ناکامیاں ہیں۔ ملکی معاملات بہت واضح ہیں۔ نہ معیشت نہ تجارت، مہنگائی ہے کہ آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ عام آدمی زندگی کا خواب بھی شاید نہ دیکھ پائے۔ دوسری جانب یہ  ایسے ایسے فیصلے کئے جائیں گے تو یہ بربادی نہیں تو اور کیا کہلائے گی ؟ بہت غوروفکر کرنے کے بعد بھی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ فیصلہ اس قدر بھونڈے انداز میں کیوں کیا گیا۔ سوائے اس کے کوئی بات سمجھ میں نہ آئی کہ مفتی منیب الرحمان صاحب کوجی حضوری نہ کرنے کی سزا ملی ہے۔ یہ ان کے لیے تو اعزاز کی بات ہے مگر یہ کالک ریاست مدینہ کی دعوایدار حکومت اپنے منہ پر کیوں ملنا چاہتی ہے؟ وہ بھی ان حالات میں کہ ہر جانب سے اس حکومت کی اہلیت پر انگلیاں اٹھ رہی ہوں ۔

مفتی منیب الرحمان نے ہمیشہ حق بات کو تسلیم کیا اور اسی کی تائید کی۔ انہوں نے حکومتی جی حضوری نہ کرکے یہ ثابت کیا کہ زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لیے عہد کم ظرف کی ہربات گوارا کرلیں۔ ابھی چند دن قبل مولانا شیرانی اورجمعیت علمائے اسلام کے دیگر وہ لوگ حکومتی وزرا کے ہیرو تھے۔ اور مسئلہ تھا کہ مولانا فضل الرحمان پر تنقید کی تو مولانا نے انہیں اپنی جماعت سے نکال دیا۔ تو جناب آپ کا ظرف کتنا ہے اور آپ نے کتنی وسعت ظرفی دکھائی ؟  مفتی منیب الرحمان کی خدمات کا سلسلہ وسیع ترین ہے اور انہوں نے ہمیشہ کلمۃ الحق کیلئے بلاخوف  ذمہ داری نبھائی اور اس منصب کا وقار بلند کیا۔ اب دیکھیے کیا بنتا ہے۔

کہیں تحریک انصاف کے وزرا کو یہ خیال تو نہیں آگیا کہ  یہ منصب کسی اہل شخص کے پاس تھا سو یہ چغلی نہ کھائے کہ ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت اہل لوگوں کی قدر کرتی تھی۔ سو انہوں نے اپنے فیصلے سے یہ ثابت کر دیا کہ نہ کھیڈاں گے نہ کھینڈن دیاں گے۔  تاریخ میں ڈاکٹر نورالحق قادری صاحب بھی یاد رکھے جائیں گے کہ کتنا زبردست فیصلہ کیا، جس کو ملت ہمیشہ یاد رکھے گی۔ سچ ہے کہ سیاست بے رحم ہوتی ہے مگر اس قدر نااہل بھی اس کا اندازہ نہ تھا ۔ پیر نورالحق قادری عالم دین ہیں اور پیر طریقت بھی۔ مفتی منیب الرحمان صاحب بھی ان کی شان میں رطب اللساں رہے اور اس کا اظہار اپنی تقاریر اور مضامین میں کرتے رہے۔ مگر بقول شاعر ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم / پر کیا کریں کہ ہوگئے ناچار جی سے ہم۔

 تو محترم پیر صاحب یہ وزارت کا پنگھوڑا بہت بے رحم ہے۔ یہ جب رکے گا تو صرف رکتا نہیں بلکہ اپنے سوار کو اتار پھینکتا ہے۔ آپ نے بالآخر انہی مساجد اور مدارس کی طرف رخ کرنا ہے تو کیا جواب دیں گے ذرا سوچئے۔