ہم کیسا معاشرہ چاہتے ہیں؟
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 03 / جنوری / 2021
- 4740
پاکستان بطور ریاست یا معاشرہ لاتعداد مسائل سے دوچار ہے۔ یہ مسائل کسی ایک حکومت یا کسی ایک خاص سیاسی یا فوجی دور کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا یہ مسائل ہماری ریاستی و حکومتی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔
ہم نے معاشرہ بنانے کی بجائے اس میں یا تو بگاڑ پیدا کیا یا اس میں ایک ایسی سیاسی، سماجی، انتظامی، معاشی تقسیم پیدا کی جو قومی اجتماعی عمل کو کمزور کرنے کا سبب بنی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی ریاست، حکومت اور معاشرہ کا باہمی تعلق مضبوط نہیں ہے۔ریاست او ر لوگوں میں جو خلیج بڑھ رہی ہے وہ خود ریاستی نظام او را س کی بقا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہم مجموعی طور پر معاشرے کے مسائل کو دیکھیں تو ان میں انتہا پسندی، دہشت گردی، عدم انصاف پر مبنی نظام، اداروں کی بدحالی، عدم برداشت، سیاسی، سماجی او رمعاشی محرومی کا پہلو، سماجی عدم رواداری، کرپشن، بدعنوانی سمیت معاشی بدحالی کا پہلو نمایاں ہے۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام، کمزور جمہوری وسیاسی نظام اور غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت بھی ریاستی نظام کو کمزور کرتی ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر تدبر، فہم فراست اور بردباری کی ضرورت ہے۔
مسئلہ محض داخلی مسائل کا ہی نہیں بلکہ علاقائی اور خارجی سطح پر بھی ہم کئی بڑے مسائل کا شکار ہیں۔ ان میں پاک بھارت تعلقات اور بالخصوص مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، افغان بحران، سعودی عرب سے تعلقات، سی پیک، چین سے تعلقات میں نیافریم ورک جیسے اہم امور شامل ہیں۔ سیاست میں ایک بنیادی تھیوری ہے کہ آپ علاقائی یا خارجی محاذ پر اسی صورت میں بہتر اور موثر کارڈ کھیل سکتے ہیں جب آپ داخلی محاذ پر سیاسی اور معاشی استحکام رکھتے ہوں۔ یعنی داخلی سیاسی او رمعاشی استحکام ہی ایک مضبوط علاقائی یا خارجی پالیسی کو طاقت فراہم کرتا ہے۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ علاقائی یا خارجی محاذ پر ایسے فریق یا ممالک بھی موجود ہیں جو ہمیں کمزور کرنا چاہتے ہیں۔
معاشرہ میں ایک اتفاق رائے یا معاشرے کا ریاست سے مضبوط تعلق کی بنیاد آئین پاکستان 1973کا پہلا بنیادی حقوق کا باب ہے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ ان میں تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ، انصاف، شیلٹر، آزادی اظہار، نقل وحمل، تنظیم سازی، آزادنہ رائے یا ووٹ، جنس، مذہب، فرقہ کی بنیاد پر عدم تقسیم جیسے دیگر امور شامل ہیں۔جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ ہم کو ریاست اور معاشرہ کے باہمی تعلق کو مضبوط بنانا ہے تو اس کی بنیادی کنجی ان ہی حقوق کی فراہمی سے جڑی ہوئی ہے۔اس معاملہ پر پائی جانے والی محرومی ہی ایک بنیادی چیلنج ہے جو ریاست یا حکمران طبقہ کو درپیش ہے۔ اس کی ایک او ربڑی بنیاد معاشرہ میں موجود طبقاتی تقسیم ہے۔کیونکہ جب لوگوں کی فلاح و بہبود یا ان کے معاملات کو جانچنے یا پرکھنے کی بنیاد طبقات ہوں گے تو محرومی زیادہ بگاڑ پیدا کرتی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ریاست کے اس نظام میں سب سے زیادہ سیاسی، قانونی اور معاشی استحصال کا سبب معاشرے کے محروم طبقات ہی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ہمیں اپنے ریاستی، حکومتی او رمعاشرتی نظام کو ایک درست سمت دینی ہے تو یہ کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے روائتی طریقوں سے تبدیلی کے امکانات محدود ہیں۔ سیاسی و جمہوری نظام میں اصلاحات اہم ہوتی ہیں۔ جمہوریت میں تبدیلیاں انقلاب کی بجائے اصلاحات کی بنیاد پر سامنے آتی ہیں۔ اگر ہمیں اصلاحات کی طرف پیش رفت کرنی ہے تو پورے ریاستی نظام کو تبدیل کرن ااہم ہے۔ اس کے لیے بتدریج آگے بڑھنا ہوگا۔
قومی سطح پر ایک بڑے مکالمہ کی بھی ضرورت ہے۔ طاقت کے مراکز میں یہ مکالمہ ہی ایک بڑے مضبوط او رمربوط روڈ میپ سامنے لاسکتا ہے۔لیکن اس کے لیے طاقت کے مراکز کو اپنا موجودہ رویہ بدلنا ہوگا۔ جب طاقت کے مراکز کا ایک فریق خود کو بالادست سمجھے تو حل ممکن نہیں۔یہ نکتہ سمجھنا ہوگا کہ موجودہ نظام ناکامی سے دوچار ہے۔ہمیں معاشرے کو بھی او راس میں موجود لوگوں کو بھی مضبوط اور مستحکم کرنا ہے۔ یعنی انسانی ترقی او ر بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا اہم ہے۔بنیادی نوعیت کا سوال یہ بھی ہے کہ کیا طاقت کے مراکز واقعی ایک ایسی تبدیلی کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں جس کا براہ راست تعلق عام لوگوں کی ترقی یا خوشحالی سے ہو۔ کیونکہ اہم نکتہ طاقت کے مراکزیا بڑے فیصلہ ساز افراد یا اداروں کا ہے۔عمومی طو رپر یا تو یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اب ایسے حالات بن گئے ہیں کہ تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے او راگر یہ نہ کئی گئی تو خود ان کے اپنے مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دوسری حکمت یہ ہوتی ہے کہ ریاستی یا معاشرہ کی سطح پر ایک ایسا دباؤ بڑھے جو طاقت کے مراکز کو مجبور کرے کہ وہ عام آدمی کو طاقت فراہم کریں۔ عمومی طور پر یہ کام سیاسی جماعتیں ہی کرتی ہیں او ر ادارے ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں عوامی معاملات کم اور اقتدار کی رسہ کشی او رطاقت کے حصول کی لڑائی غالب نظر آتی ہے۔طاقت کا حصول یا اقتدار اہم ہوتا ہے اور سیاسی نظام میں سیاسی جماعتیں اسی کو بنیاد بنا کر جدوجہد کرتی ہیں۔لیکن اگر اس طاقت کی لڑائی سے عوام باہر ہوجائیں او ران کو محض سیاسی استحصال کے لئے استعمال کیا جائے تو پھر لوگوں کا عمومی طورپر سیاست، جمہوریت اور سیاسی و ریاستی نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ طاقت کے مراکز کو اگر اپنے مفادات کو بھی تحفظ دینا ہے تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ موجودہ روائتی سیاست سے باہر نکلیں۔ یہ بات طے ہے کہ جس انداز سے معاشی نظام چلایا جارہا ہے یہ لوگوں کی مایوسی میں اضافہ کررہا ہے۔لیکن سوال یہ ہی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔