سینیٹ انتخاب ریفرنس: سپریم کورٹ نے چیئرمین سینیٹ، اسپیکر اسمبلیز، الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیے

  • سوموار 04 / جنوری / 2021
  • 3850

سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات پر متلعق صدارتی ریفرنس کے معاملے میں چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی و صوبائی اسمبلیز، الیکشن کمیشن، وفاقی و صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ/شو آف ہینڈز سے کرانے کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ 5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد کے علاوہ جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے بتایا کہ آرٹیکل 226 کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ریفرنس میں سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری سے نہ کرنے کا قانونی سوال اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا آرٹیکل 226 کا اطلاق صرف آئین کے تحت ہونے والے انتخابات پر ہوتا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال کیا کہ عدالت اس تضاد میں کیوں پڑے۔

سماعت کے دوران عدالتی بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق آئین و قانون کے تحت انتخابات کا مختلف طریقہ کار ہے۔ آپ چاہتے ہیں عدالت آئین اور قانون کے تحت ہونے والے انتخابات میں فرق واضح کرے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا قومی اسمبلی کا انتخاب آئین کے تحت نہیں ہوتا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عام انتخابات الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت ہوئے، آئین کے تحت نہیں۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں سینیٹ اور اسمبلی انتخابات کا ذکر ہے، مقامی حکومتوں کے انتخابات کا آئین میں ذکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کیسے ہونے ہیں یہ بات الیکشن ایکٹ میں درج ہوگی۔ الیکشن ایکٹ بھی آئین کے تحت ہی بنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کیا کوئی قانون آئین سے بالاتر ہوسکتا ہے؟

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آئین یا قانون میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے پاس اختیار ہے۔ سینیٹرز صوبوں کے نمائندے ہوتے ہیں، سینیٹرز کو منتخب کرانے والے ووٹرز اپنی سیاسی جماعتوں کو جواب دہ ہیں۔

بعد ازاں کیس کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن اور الیکٹرورل کالج کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چاروں صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر رہے ہیں، چاروں ایڈووکیٹ جنرلز اور الیکشن کمیشن کے جواب کا جائزہ لیں گے۔

اٹارنی جنرل اور دیگر کو اپنی تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ نوٹس اخبارات میں بھی شائع کیا جائے تاکہ جو اس معاملے پر رائے دینا چاہے وہ دو ہفتوں میں تحریری معروضات عدالت میں جمع کرائے۔

علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینئر ایڈووکیٹ ہادی شکیل کو عدالتی معاون کے طور پر طلب کرلیا۔ کیس کی سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔