ٹُوٹے ہوئے خوابوں کا ملبہ

پاکستان اس سال  اگست میں چوہتر سال کا ہو جائے گا ۔  ماشا اللہ، چشمِ بد دور۔ اللہ پاکستان کو سچے، کھرے اور وطن سے محبت کرنے والے پاکستانیوں کے لیے  جنّت نظیر بنائے اور اسے ہمیشہ دنیا کے نقشے پر قائم رکھے۔  لیکن  کون سا پاکستان؟

 یہ وہ سوال ہے جو مجھ میں ہمیشہ کلبلاتا رہتا ہے مگر میری  نجی  دلیل بازی  مجھے کبھی  مطمئن نہیں کر سکی ۔ میں خود سے پوچھتا رہتا ہوں کہ کیا وہ پاکستان  جو  1947 میں معرضِ وجود میں آیا تھا  یا وہ پاکستان جس کے بازو  1971 میں ٹوٹ گئے تھے۔ تب بھی ایک نیا پاکستان وجود میں آیا تھا۔ اور اب ایک  اور نیا پاکستان ہے جو  پچھلے ڈھائی برس سے مدینے کی طرف رواں دواں ہے ۔  اِسلام کے نام پر اس طرح کے سیاسی سفر ہوتے آئے ہیں ۔ مجھے کیا سب کو یاد ہوگا کہ جنرل ضیا الحق نے  اپنے عہدِ آمریت میں اسلام کے حق میں ووٹ لے کر پاکستان کو اسلامی آمریت کا چولا پہنایا تھا۔  دس سال گزر گئے مگر  اسلام نہ آیا تو  نیپ کے لیڈر عبدالولی خان نے  اس پر بے حد معنی خیز اور دل چسپ تبصرہ کیا۔  ولی خان نے فرمایا کہ اگر اسلام مدینے سے گدھے پر بھی سوار ہو کر پاکستان کا رُخ کرتا تو اب تک اسلام آباد  پہنچ گیا ہوتا۔ 

ہمارا من حیث القوم  المیہ یہ ہے کہ  ہم نہ پورے پاکستانی ہیں اور نہ ہی پورے مسلمان۔  پاکستانی ہونا ایک سہ جہتی تشخص ہے۔  یہ تشخص  اتحاد، تنظیم اور ایمان کی تری مورتی یا تثلیٹ ہے اور یہ تین اصول  پاکستانیت کے  نظریاتی مسلک کے ارکانِ ثلاثہ ہیں۔  لیکن ہوا یہ کہ تنظیم  کو1958 میں  فوجی بُوٹ نے اپنی جراب بنالیا،  اور جب سے اب تک ہمارا تنظیمی ڈھانچہ  نہ صرف چاروں سرحدوں کی طرف سے خطرے میں ہے  بلکہ داخلی طور پر بھی  شکستہ اور پارہ پارہ ہے۔ اتحاد کا کبوتر ہماری جناح کیپ سے نکل کر اُڑتا ہوا  سندر بن کی طرف نکل گیا اور وہیں  کا ہو کر رہ گیا۔  اور رہا ہمارا  ایمان  تو وہ کرپشن کے کیکر پر بیٹھا  منی لانڈرنگ کی بیٹ کر رہا ہے۔  مجھے اس وقت وہ بزرگ بہت یاد آتے ہیں جو وقتاً فوقتاً  اس قسم کے  دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ  قرار دادِ پاکستان پر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم  کی مہر لگی ہے۔ لیکن وہ قرار داد ایک بنگالی مسلم لیگی مولوی فضل الحق شیرِ بنگال نے پیش کی اور پھر وہ ہمارے بنگالی بھائی  پاکستان کی اکثریت کو اپنے ساتھ لے کر بنگلہ دیش چلے گئے اور ہمارے پاس لاہور رہ گیا جہاں یہ قرارداد 1940 میں پیش ہوئی تھی۔  اب  اس لاہور پر بزدار کا  گھنا سایہ ہے اور ہم  اس کی چھاؤں میں بیٹھے حفیظ جالندھری  کی دھن  پرفارسی آمیز اردو  گیت گا رہے ہیں:

پاک سر زمین شاد باد

کشورِ حسین شاد باد

اور یہ  دو مصرعے مجھے عمر بھر رلانے کے لیے کافی ہیں  کیونکہ یہ پاک سر زمین شاد نہیں ہے اور وہ اس لیے کہ یہ فساد فی الارض کی بیمار ہے ،  جس کی وجہ سے اس کا امن  غارت ہو کر رہ گیا ہے۔  امن جو  زندگی  کی اساس ہے اسے قائم رکھنے کے لیے  لا تفسدو فی الارض کا حُکم دیا گیا ہے۔ اور ہدایت کی گئی ہے کہ اللہ کی زمین پر امن قائم رکھو۔ جہاں ا من نہ ہو وہاں نہ  انسانی رویے پنپ سکتے ہیں، نہ ہی  انسانوں کے باہمی تعلقات  متوازن اور مستحکم  رہ سکتے ہیں اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے ۔  اور ہمارے ملک میں یہی ہو رہا ہے۔ یہاں پولیس کا محکمہ جس کا کام معاشرے کی خدمت ہے، لوگوں کا دشمن بن کر رہ گیا ہے۔ سڑکوں پرجس طرح کی دہشت گردی یہ ادارہ کر رہا ہے، وہ اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان  ہے۔ گزشتہ روز  جس سفاکی، بے رحمی اور غیر ذمہ داری سے ستّی نامی   ایک نوجوان کو کار  نہ روکنے پر گولیوں سے چھلنی کردیا گیا تھا، وہ ایک محکمے کے اہلکاروں کے غیر مہذب  اور دہشت گردہونے کا واضح ثبوت ہے۔ 

ہماری بدقسمتی اور ہمارے اربابِ اختیار و اقتدار  و دانش  کی نا عاقبت اندیشی  کی  وجہ سے دہشت گردی ہمارا سماجی رویہ بن گئی  ہے اور ہمیں لینے کے دینے پڑے ہوئے ہیں ۔ ہمارے فوجی آقاؤں نے روس کے خلاف جس طرح امریکی جہاد  کو اسلام کی جنگ بنا کر پیش کیا اور اس کے لیے جیش، جتھے اور لشکر تیار کیے وہ اب ہمارے لیے سوہانِ روح بنے ہوئے ہیں کیونکہ  اب اُن کے پاس افغانستان  میں فوجی اور گوریلا کاروائیوں کا  کوئی براہِ راست ہدف نہیں رہا مگر اپنے جیشوں اور لشکروں کے دم سے وہ  اب بھی ایک  معاشرت دشمن قوت ہیں جو کسی نہ کسی  کے مفادات کی حفاظت اور مقصد براری کے لیے لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج بلوچستان میں درجن بھر مزدوروں کا قتل اُسی  دہشت گردی کا ایک سیاہ  باب ہے جسے آتشیں شعلوں کی زبان میں رقم کیا گیا ہے۔

کیا ہم من حیث الاُمت  عقل و ہوش سے عاری ہو گئے ہیں؟  اور لگتا ہے کہ پورا ملکی معاشرہ اس جہالت کی آگ میں جل رہا ہے جس نے پاک سرزمین کو  جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہم ہر طبقاتی سطح پر ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنما اتنے  بوکھلائے ہوئے ہیں کہ ایک دوسرے پر  ناقابلِ بیان فحش الفاط کے  لسانی بم پھینکتے رہتے ہیں۔  ایک دوسرے کو گالیاں دیتے اور ایک دوسرے کے لتے لیتے رہتے ہیں اور کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کا اثر ہماری نئی نسل پر  کس طرح برق بن کر گر رہا ہے اور اس کے اخلاقی زوال کی بنیادیں استوار سے استوار تر اور مضبوط سے مضبوط ترکر رہا ہے۔  لگتا ہے ہمیں اپنے بچوں سے محبت نہیں رہی۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ عوام کی  نفرتوں کے درمیان  تعمیر کیے ہوئے  محلات ہمیشہ  خطرے میں گھرے رہتے ہیں۔ 

یہ طرزِ عمل جس میں ہمارے سیاسی رہنما  اور کرائے کے ترجمان  گالیاں بکتے  ہیں وہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ غلاظت کے ڈھیر اور کچرا کنڈیاں  ان کے ذہنوں  سے نکل کر معاشرے میں تعفن پھیلا رہی ہیں  جس کی بو سے بچوں اور عورتوں کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہے۔ کرونا کی اس وبا کے زمانے میں کسی معاشرے کو جس تیماری داری اور باہمی رواداری کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہمارے پلے نہیں رہی اور ہم اخلاقی طور پر مفلوک الحال ہو چکے ہے۔ ہمارے کم سن بچے اور بچیاں جنسی درندوں کے ہاتھوں روز  جنسی درندگی اور موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں اور ہم  اقتدار کی جنگ میں لمحہ بھر کے لیے وقفہ لینے کو تیار نہیں ہیں۔ آخر ہمارا کیا ہوگا؟

دل کے ٹُکڑوں کو بغل بیچ لیے پھرتا ہوں

کچھ علاج اس کا بھی اے  شیشہ گراں ہے کہ نہیں