اسامہ ستی کاقتل اور شیخ رشید کی وزارت کامستقبل
- تحریر رضی الدین رضی
- سوموار 04 / جنوری / 2021
- 6110
جب کوئی اداروں کو دہشت گردی کا ذمہ دارقراردیتا ہے اور ان کی دہشت گردی کی بات کرتا ہے تو اسے ملک دشمن اور پاکستان کی سلامتی کے منافی پروپیگنڈے کا ذمہ دارقراردے دیاجاتا ہے۔
لیکن جب دہشت گردی کے خلاف سرگرم ادارے خود دہشت گردی کرتے ہیں تو سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے ۔ محکمہ انسداد دہشت گردی اسلام آباد کے ہاتھوں اسامہ ستی کے قتل پرہمیں حیرت نہیں ہوئی اورایسے واقعات پر حیرت اس لیے نہیں ہوتی کہ یہ اب معمول بن چکے ہیں۔ تین چار روز یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ یہ معاملہ زیربحث رہے گا پھر سب اسے بھول جائیں گے ۔ بس اس کے والدین عمر بھر آنسو بہائیں گے کہ ان کے درد کا تدارک کوئی انکوائری اور کوئی معطلی یا گرفتاری نہیں کرسکتی۔
ایسے واقعات ہر دوسرے تیسرے ہفتے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ کبھی کراچی ، کبھی لاہور اور کبھی کسی اور شہر میں کوئی سڑک کسی کے ناحق خون سے سرخ ہوجاتی ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام اس لیے نہیں ہوتی کہ مارنے والوں کو اپنی طاقت، یعنی بندوق کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ سانحہ ساہیوال کے مجرموں کوعدم ثبوت کی بنا پر نہ صرف بری کیا گیا بلکہ ان میں سے بعض ترقی پا کر اگلے قتل پر ماموربھی ہوگئے۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہماری یاد داشت بہت کمزورہے۔ ہم نے اس اختصاریے کے آغاز میں لکھا ہے کہ چند روز بعد ہم اس واقعے کوبھی فراموش کردیں گے تو اس کی سب سے بڑی مثال دوماہ پہلے سیالکوٹ موٹروے پر رونما ہونے والے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کی ہے۔ اس واقعہ کے ذمہ داروں کی گرفتاری سے پہلے ہی لاہور پولیس کے سربراہ نے انتہائی غیرذمہ داری کامظاہرہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود وزیراعظم سمیت بہت سے وزرا عمرشیخ کی شان میں رطب اللسان رہے اور اس وقت تک انہیں عہدے سے نہ ہٹایا جاسکا جب تک کہ انہوں نے کسی وزیر کو ناراض نہیں کردیا۔
اسامہ ستی جیسے نوجوانوں کا اس کے سوا کوئی قصور نہیں کہ انہوں نے انتہائی جوش وخروش کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا اور اب بے روزگار ہوکر یا اپنی جانیں دے کر کفارہ ادا کررہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جب سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے ہمارے سادہ لوح عوام اور دانشور وزیرداخلہ شیخ رشید کو برا بھلاکہہ رہے ہیں لیکن انہیں موردالزام ٹھہرانے والے بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ جیسے حکومت چلانا ہمارے حکمرانوں کے اختیار میں نہیں اسی طرح سی ٹی ڈی جیسے طاقتور محکمے بھی وزیرداخلہ کے اختیار سے باہر ہیں۔
وزیر داخلہ کی نوکری صرف اتنی ہے کہ وہ پاک فوج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والوں کے خلاف 72گھنٹوں میں مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دیں کہ ملکی سالمیت کا معاملہ اسامہ ستی جیسے بے گناہوں کے قتل سے زیادہ اہم ہوتاہے۔ دوسری جانب شیخ رشید کو وزارت داخلہ سے ہٹائے جانے کی جو باتیں گزشتہ ہفتے سے جاری ہیں اورجن کی جانب مولانا فضل الرحمن نے بھی اشارہ کیا ہے ۔ سوال صرف یہی ہے کہ اسامہ ستی کے قتل کا واقعہ کہیں شیخ رشید کو ان کی وزارت سے ہٹانے کا پیش خیمہ تو ثابت نہیں ہوگا۔
( بشکریہ: روزنامہ سب نیوز اسلام آباد )