قطر اور سعودی عرب کے درمیان برف پگھلنے لگی
- منگل 05 / جنوری / 2021
- 4180
خلیجی ممالک کے رہنما سعودی عرب کے شہر العلا میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت کرنے جمع ہو چکے ہیں جہاں قطر کے خلاف تین سال سے جاری بائیکاٹ کے خاتمے کا اعلان متوقع ہے۔
اس سے قبل پیر کی شب سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنی سرحد دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔ منگل کو قطری امیر شیخ تمیم بن حماد التھانی کا سعودی عرب آمد پر ولی عہد محمد بن سلمان نے استقبال کیا۔ یہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان ساڑھے تین برس قبل منقطع ہونے والے تعلقات کی بحالی کے سلسلے میں پہلا بڑا قدم تھا۔
اس سے قبل قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کی ٹویٹ کے مطابق ’قطر کے امیر قطری ریاست کے ایک وفد کی سربراہی کریں گے جو منگل کے روز خلیج تعاون کونسل کی سپریم کونسل کے 41ویں سیشن میں شرکت کرے گا۔
یہ اعلان قطر کے وزیر خارجہ کی جانب سے کیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ قطر کی زمینی، فضائی اور بحری سرحدیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ قطر کے وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک سعودی عرب میں آج سے شروع ہونے والے اجلاس کے دوران قطر کا بائیکاٹ باقاعدہ ختم کرنے کے بیان پر دستخط کریں گے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون 2017 میں مبینہ طور پر دہشت گردی کی حمایت کرنے اور ایران کے ساتھ روابط رکھنے کی بنا پر قطر سے تعلقات ختم کرلئے تھے۔ قطر ایک چھوٹی لیکن مالدار خلیجی ریاست ہے۔ اس نے ہمیشہ اسلامی جنگجوؤں کی حمایت کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
اس خبر کا سب سے پہلے اعلان کویت کے وزیر خارجہ احمد نصر الصباح نے ٹی وی پر گزشتہ روز کیا تھا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق قطر اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک کویت نے حال ہی میں تھوڑی کامیابی حاصل کی لیکن اس سے پہلے کے کچھ مہینوں تک ’فیس سیونگ‘ کے لیے کسی قرارداد کے آثار بڑھتے دکھائی دے رہے تھے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کی بحالی کے لیے امریکی انتظامیہ کا واضح کردار نظر آتا ہے۔ سینیئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد اور سینیئر مشیر منگل کو قطر اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں شامل ہوں گے۔