کرک میں ہندو سمادھی دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم
- منگل 05 / جنوری / 2021
- 5710
سپریم کورٹ نے صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے کرک میں ہندو بزرگ کی سمادھی دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دی اہے۔ یہ سمادھی گزشتہ دنوں مظاہرین نے نذر آتش کردی تھی۔
معاملے پر لیے گئے نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک فوری طور پر کرک سمادھی کا دورہ کریں اور اس کی دوبارہ تعمیر شروع کریں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ جن لوگوں نے مندر کو نقصان پہنچایا ان سے یہ مصارف وصول کئے جائیں۔
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کرک میں ہندو سمادھی نذرآتش کرنے کے معاملے پر لیے گئے نوٹس پر سماعت کی۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری، ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا، انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا، متروکہ وقف املاک خیبرپختونخوا کے چیئرمین، اقلیتی کمیشن کے چیئرمین شعیب سڈل، چیئرمین ہندو کونسل رمیش کمار و دیگر پیش ہوئے۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا نے عدالت کو واقعے کی تفصیل بتائی۔ وہاں ایک مذہبی جماعت کا اجتماع تھا۔ مولانا فیض اللہ نے اس اجتماع کو اسپانسر کیا تاہم 6 علما میں سے صرف مولوی شریف نے احتجاج کرنے پر اکسایا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کے کہا کہ بڑا افسوسناک واقعہ ہوا۔ حملہ آور ہر چیز کو تباہ کرتے رہے لیکن پولیس کچھ نہ کرسکی۔ آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ ایس پی اور ڈی ایس پی سمیت ڈیوٹی پر مامور 92 اہلکاروں کو معطل کیا ہے۔ واقعہ میں ملوث 109 افراد گرفتار ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پولیس اہکاروں کو صرف معطل کرنا کافی نہیں ہے۔ اس واقعے سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس حکومتی رٹ قائم رکھنے میں ناکام رہی۔
عدالت میں سماعت کے دوران چیف سیکریٹری نے بتایا کہ سمادھی پر 100 پولیس اہلکاروں کی نئی نفری تعینات کردی ہے اور ہندو سمادھی کو دوبارہ بحال کریں گے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سمادھی کو بحال کرنے کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔ اس پر سیکریٹری نے بتایا کہ صوبائی حکومت مندر کی ازسر نو تعمیر کا خرچ برداشت کرے گی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے مندر کو نقصان پہنچایا ان سے پیسے وصول کریں۔ مندر کی تعمیر کیلئے مولوی شریف سے پیسے وصول کیے جائیں۔ ذمہ داروں کی جیب سے پیسے نکالیں گے تو انہیں احساس ہوگا ورنہ یہ دوبارہ یہی کام کریں گے۔
عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد متروکہ وقف املاک سے ملک بھر کے مندروں اور گوردواروں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے کہا کہ مندروں اور گوردواروں کی زمینوں سے تجاوزات ختم کی جائیں۔ عدالت نے متروکہ وقف املاک خیبرپختونخوا کو اقلیتی کمیشن سے مشاورت کی ہدایت کی ہے۔