نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے انتہائی سنجیدہ کوششیں کررہا ہے: چیئرمین
- بدھ 06 / جنوری / 2021
- 4490
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے انتہائی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں جسٹس (ر) جاوید اقبال کی صدارت میں نیب کا اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں نیب کی مجموعی کارکردگی اور ملک بھر کی مختلف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ریفرنسز کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ نیب کے آپریشنز اور پراسیکیوٹر ڈویژنز نیب مقدمات کے ٹھوس شواہد، مستند دستاویزات اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں پوری تیاری کے ساتھ قانون کے مطابق پیروی کریں گے۔
شکایات کی تصدیق، انکوائریوں، اور انوسٹی گیشنز کے معیار کو مزید بہتر بنانے کا جائزہ لیا گیا۔ نیب کی فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھی مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین نیب نے ہدایت کی کہ مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے جہاں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نیب کے اس وقت ایک ہزار 230 بدعنوانی کے ریفرنسز ملک کی احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی پیروی کے لیے انوسٹی گیشن افسران، پراسیکیوٹرز متعلقہ ڈی جیز کی زیر نگرانی اپنی کارکردگی کو مزید موثر بنائیں۔ بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروانے میں اپنا قومی فریضہ احسن طریقے سے سرانجام دیں۔
جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے انتہائی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ ادارے کی کارکردگی کو معتبر قومی و بین الاقوامی اداروں نے سراہا ہے۔ بدعنوانی سے متعلق موصول ہونے والی شکایات میں اضافہ عوام کے نیب پر اعتماد کا مظہر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے اور اس کا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے۔ نیب افسران قانون کے مطابق زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر سختی سے عمل کریں۔ واضح رہے کہ احتساب کے قومی ادارے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں تنقید میں اضافہ ہے۔
اپوزیشن جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) احتساب بیورو کو حکومت کا آلہ کار قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس کے ذریعے اپنے مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔
نیب کی جانب سے گزشتہ چند سالوں کے دوران اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت کئی ریفرنسز دائر کیے گئے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔