ہزارہ برداری کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے: عمران خان
- بدھ 06 / جنوری / 2021
- 4110
وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان میں ہزارہ برداری کے کان کنوں کی ہلاکت کو افسوس ناک واقعہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ سلسلہ 80 کی دہائی افغان جہاد سےشروع ہوا۔ اس وقت سے فرقہ وارانہ فسادات نے جنم لیا۔
اسلام آباد میں ترکی کے نجی چینل 'اے نیوز' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مذہبی انتہاپسند مسلح افراد اب دہشت گرد تنظیم داعش کا روپ دھار چکے ہیں۔ ہم انہیں مکمل تحفظ اور سیکیورٹی کا یقین دلائیں گے۔ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے حقوق کا تحفظ کرے۔
عمران خان نے کہا کہ مذہبی منافرت کا اور ایک واقعہ خیبرپختونخوا کے علاقے کرک میں پیش آیا جہاں مندر کو نذرآتش کیا گیا۔ حکومت نے فوری طور پرتمام ملزمان کو گرفتار کیا اور وعدہ کیا کہ مندر دوبارہ تعمیر کریں گے۔ اسلامو فوبیا سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے مغرب میں اسلاموفوبیا کا ارتقا دیکھا ہے۔ سلمان رشدی نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ پر توہین آمیز کتاب لکھی جس کے نتیجے میں مسلمانوں کا سخت ردعمل آیا تو مغرب نے سمجھا کہ اسلام آزادی اظہار کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب مذہب کو ہماری طرح نہیں دیکھتا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور مغربی خصوصی طور پر یورپی ممالک کے مابین فاصلے بڑھتے چلے گئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے بارے میں میری معلومات دیگر مسلم رہنماؤں سے اس لیے زیادہ ہے کہ میں مغرب میں رہا ہوں اور فیملی بھی رہی۔
انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد فاصلے مزید بڑھ گئے۔ یہودی مغربی اور یورپی ممالک کو ہولو کاسٹ کے معنیٰ بتانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہودی ہولوکاسٹ کے معاملے میں یکجان ہیں۔ ان کے اتحاد کی وجہ سے مغربی معاشرے اور میڈیا میں ایسی کوئی بات نہیں کی جاتی جو ان کے جذبات کو مجروح کرے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جب نیوزی لینڈ میں ایک سفید فام شخص نے مسجد میں مسلمانوں کو قتل کیا تو کسی نے اسے کرسچن دہشت گردی نہیں کہا اور مغربی میڈیا نے اسے سفید فام انتہا پسند قرا ردیا۔ جب کوئی انتہا پسند مسلمان کسی پرتشدد واقعے میں ملوث ہوتا ہے تو مغربی میڈیا مذہب یعنی اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ دیتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اس وقت بھارت ایک ایسی حکومت ہے جو آر ایس ایس کے نظریات سے متاثر ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کو بہت خطرہ ہے، ہندو توا کے متعدد پرتشدد واقعات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان اور بھارت کے بگڑے ہوئے تعلقات کی بنیادی وجہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نریندرمودی نے دوطرفہ تعلقات کی بحال سے متعلق میری پیشکش پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کی اتنخابی مہم کو پاکستان مخالفت پر تھی۔