کانگریس سے بائیڈن کی کامیابی کی حتمی توثیق کردی
- جمعرات 07 / جنوری / 2021
- 3740
امریکی کانگریس نے نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کی تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کر دی ہے۔ بائیڈن 20 جنوری کو ملک کے 46ویں صدر کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
امریکی ایوانِ بالا (سینیٹ) اور ایوانِ زیریں (ایوانِ نمائندگان) کا اجلاس جعمرات کی علی الصبح تک جاری رہا۔ مشترکہ اجلاس کے دوران بائیڈن کی جیت کی توثیق کی گئی۔ امریکہ کی تمام 50 ریاستوں کے الیکٹورل ووٹس کی تفصیل باری باری پیش کی گئی جس کی اراکین کانگریس نے توثیق کی۔ اجلاس کے دوران بعض ری پبلکن ارکان نے بعض ریاستوں میں جو بائیڈن کی فتح اور انہیں حاصل ہونے والے الیکٹورل ووٹ پر اعتراض اٹھائے۔ لیکن یہ تمام اعتراضات ایوان نے کثرتِ رائے سے مسترد کر دیے۔
تین نومبر کے صدارتی انتخاب میں بائیڈن نے 306 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 232 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے تھے۔ امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے لیے کم سے کم 270 الیکٹورل ووٹ لینا لازمی ہے۔ جو بائیڈن نے صدارتی انتخابات میں مطلوبہ تعداد سے زیادہ الیکٹورل ووٹ حاصل کیے تھے اور اب ان الیکٹورل ووٹوں کی کانگریس سے تصدیق کے بعد صدارتی انتخاب کا عمل باضابطہ طور پر مکمل ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں اور انہوں نے بدھ کو بھی اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ صدارتی انتخاب چوری کیا گیا ہے اور وہ شکست تسلیم نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو کانگریس کی عمارت کی جانب مارچ کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی تھی جس کے بعد مظاہرین نے کیپٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول کر وہاں توڑ پھوڑ کی۔
مظاہرین کے کانگریس کی عمارت میں داخل ہونے کے بعد صدارتی انتخاب کے نتائج کی توثیق کے لیے جاری اجلاس معطل کرنا پڑا تھا اور مظاہرین سے بچنے کے لیے ارکان نے عمارت کے مختلف کمروں میں پناہ لی تھی۔ مظاہرین کئی گھنٹوں تک کانگریس کی عمارت میں موجود رہے تھے اور بعدازاں پولیس اور فوج کے اضافی دستوں کی آمد کے بعد عمارت کو کلیئر کرایا گیا تھا جس کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تھا۔