صدر ٹرمپ کے حامیوں کا کانگریس کی عمارت پر دھاوا، واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو

  • جمعرات 07 / جنوری / 2021
  • 4620

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے بدھ کو کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے بعد دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

مظاہرین نے بدھ کو کیپٹل ہل پر اُس وقت چڑھائی کی جب نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس ہورہا تھا۔ مظاہرین کیپٹل ہل کی حفاظت پر تعینات اہلکاروں کو دھکیلتے ہوئے عمارت کے اس حصے میں داخل ہو گئے جہاں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے اجلاس جاری تھے۔

مظاہرین نے کئی ارکان کے دفاتر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ بھی کی۔ پرتشدد احتجاج کے باعث نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کی فتح کی توثیق کے لئے کانگریس کی کارروائی کو ہنگامی طور پر روکنا پڑا اور ارکانِ کانگریس نے مختلف کمروں اور نشستوں کے پیچھے پناہ لی۔ ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے مظاہرین کی کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے کئی گھنٹوں بعد اعلان کیا کہ پولیس نے عمارت کو محفوظ بنا لیا ہے۔

بعدازاں کانگریس کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا جس میں بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کی گئی۔  نشریاتی اداروں نے کانگریس کی عمارت کے اندر ہونے والی ہنگامہ آرائی کی تصاویر اور ویڈیوز چلائی ہیں جن میں مظاہرین کو عمارت کے مختلف حصوں میں دندناتے دیکھا جا سکتا ہے۔  واشنگٹن ڈی سی  پولیس کے مطابق عمارت میں ہنگامہ آرائی کے دوران ایک خاتون کو گولی بھی لگی جو بعد ازاں دم توڑ گئی۔

ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں سے ایک شخص نے نائب صدر مائیک پینس کی کرسی پر بیٹھ کر اپنے فون سے سیلفیاں بھی بنائیں جب کہ ایک شخص ایوان کی ڈیموکریٹک اسپیکر نینسی پیلوسی کے دفتر میں داخل ہوگیا اور ان کی نشست پر جا بیٹھا۔ مظاہرین نے سینیٹ اور ایوان کے چیمبرز میں داخل ہو کر صدر ٹرمپ کے حق میں نعرے بازی کی۔

بعد ازاں واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ کی درخواست پر دارالحکومت سے متصل ریاستوں ورجینیا اور میری لینڈ سے پولیس اور فوج کے دستے کیپٹل ہل پہنچے اور عمارت کو مظاہرین سے خالی کرایا۔  واشنگٹن ڈی سی کی میئر میوریل باؤزر نے شہر کی کشیدہ صورتِ حال کے پیشِ نظر رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے جب کہ صورتِ حالات پر قابو پانے کے لیے امریکہ کی ریزرو فوج (نیشنل گارڈز) کے اضافی دستے بھی طلب کر لیے ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی کے پولیس چیف رابرٹ کونٹی کا کہنا ہے کہ کیپٹل ہل میں ہونے والی ہنگامی آرائی فسادات تھے جس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بدھ کو کانگریس میں صدارتی انتخابات کی توثیق کے موقع پر صدر ٹرمپ کی حامی تنظیموں نے واشنگٹن ڈی سی میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا تھا جس میں شرکت کے لیے امریکہ بھر سے صدر ٹرمپ کے ہزاروں حامی دارالحکومت پہنچے تھے۔

بدھ کو صدر ٹرمپ نے خود بھی وائٹ ہاؤس کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کیا تھا جس کے دوران اُنہوں نے مظاہرین کی کیپٹل ہل کی جانب مارچ کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ صدر نے کہا تھا کہ اُنہیں عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے حامیوں کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔  ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور شکست تسلیم نہیں کریں گے۔

تاہم مظاہرین کے کیپٹل ہل میں داخل ہونے اور وہاں ہنگامہ آرائی کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے حامیوں سے احتجاج ختم کر کے گھروں کو لوٹ جانے کی اپیل کی۔  لیکن الیکشن چوری ہونے کے دعوے پر قائم رہے۔  بعد ازاں ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ویڈیو یہ کہتے ہوئے ہٹا دی کہ ویڈیو ہنگامہ آرائی کو بڑھاوا دینے کا باعث بن سکتی ہے۔

ٹوئٹر انتظامیہ نے اپنی پالیسی کی خلاف ورزی پر صدر ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی 12 گھنٹے کے لیے بند کر دیا۔ کیپٹل ہل پر مظاہرین کے حملے پر ردِ عمل دیتے ہوئے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اس وقت ہماری جمہوریت غیر معمولی حملے کی زد میں ہے۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ کیپٹل ہل پر ہونے والا حملہ تمام امریکیوں کے رویے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ چند انتہا پسندوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا۔ اس طرح کی افراتفری کو اب ختم ہونا چاہیے۔

دنیا بھر کے لیڈروں نے واشنگٹن کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے لئے برا شگون قرار دیا ہے۔