بلاول اور مریم کی کوئٹہ میں ہزارہ مظاہرین سے ملاقات
- جمعرات 07 / جنوری / 2021
- 5690
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کوئٹہ پہنچے ہیں۔ انہوں نے ہزارہ برادری کے مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا۔
ہزارہ برادری کے لوگ مچھ میں 11 کان کنوں کے قتل کے خلاف پانچ روز سے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے علاوہ وزیر اعلیٰ سندھ، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم آپ کے دکھ میں شریک ہونے اور دہشت گردی کے واقعے کی وجہ سے یہاں آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک بن گیا ہے جہاں شہیدوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے لیکن عوام کا خون سستا ہے۔ 1999 سے 2 ہزار لوگ شہید ہو چکے ہیں لیکن ایک شہید کو بھی انصاف نہیں ملا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں بھی شہیدوں کے خاندان سے ہوں لیکن ہم بھی آج تک اپنے شہیدوں کو انصاف نہیں دلوا سکے۔ یہ کس قسم کا انصاف اور ملک ہے جہاں آئی ڈی کارڈ دیکھ دیکھ کر قتل کیا جاتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے جہاں ہمارے شہیدوں کے لواحقین کو بھی لاشوں کے ساتھ مسلسل احتجاج کرنا پڑتا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کو ضرور باہر سےمدد مل رہی ہوگی لیکن یہ ریاست کی ناکامی ہے کہ بیرون ملک سے سازش ہورہی ہے، ہمارے شہریوں کا قتل ہو رہا ہے اور آپ ان مظلوموں کو انصاف نہیں دلا سکتے۔
بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے مچھ واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ آپ پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس پر میں اپنے والد نواز شریف، شہباز شریف اور اپنی طرف سے دلی تعزیت کرتی ہوں۔ پانچ دنوں سے ہم یہ سب ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں، ہمیں آپ کی تکلیف کا احساس ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اپنی بات کہاں سے شروع کروں اور کن الفاظ میں اپنے دکھ اور غم کو بیان کروں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سب اور پوری قوم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں لیکن مجھے اس بات کا احساس ہے کہ جو آپ پر گزری ہے اور جو مصیبت آپ پر ٹوٹی ہے ہم اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ مجھے وہ تصاویر بھی دکھائی گئیں جو میں نہیں دیکھ پائی۔ ایک بچی کسی بے حس کو کہہ رہی تھی جب تک آپ نہیں آئیں گے میں اپنے والد کو نہیں دفناؤں گی۔ ان میتوں میں ایک ایسے بچے کی میت بھی ہے جو کالج فیس جمع کرنے کے لیے کان میں کام کرنے گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کو یہاں آنا پڑے گا اگر وہ کوئٹہ نہیں آسکتے تو عوام انہیں اسلام آباد میں بھی بیٹھنے نہیں دیں گے۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں مسلح افراد نے بندوق کے زور پر کمرے میں سونے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔