شیعہ ہزارہ کمیونٹی پر ظلم و جبر کب تک ؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 07 / جنوری / 2021
- 10420
نئے سال کا آغاز ہوتے ہی خیر کی خبر کیا آتی بلوچستان کی شیعہ ہزارہ کمیونٹی پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مچھ میں رات گئے منصوبہ بندی کے ساتھ بیس پچیس دہشت گردوں نے ہزارہ برادری کے گیارہ کان کنوں کو پوری پہچان کرنے کے بعد ہاتھ پاﺅں باندھ کر چاقوﺅں اور چھریوں کے ساتھ ذبح کر دیا۔
یہ سفاکیت و یزیدیت ہزارہ شیعوں کے خلاف کوئی پہلا یا آخری سانحہ نہیں ہے۔ اس مظلومیت کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد اب تک سینکڑوں نہیں ہزاروں میں پہنچ چکی ہے اس میں ان مظلوموں کی کسی غلطی یا کوتاہی کا دخل نہیں ہے بلکہ اس ظلم وبربریت کی بنیاد محض مذہبی عقیدے کا اختلاف اور اس کے خلاف پھیلائی گئی منافرت ہے جس کا چلن اس ملک میں کھلے عام ہے۔ کہنے کو تو اس سانحہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے اور فخریہ طور پر اپنے اس کارنامے کی تفصیل فراہم کی ہے۔
داعش یعنی دولت اسلامیہ فی العراق و السوریہ جو خطہ صفین میں کچلے جانے کے بعد اب دیگر اسلامی ممالک کی طرف سرایت کر چکی ہے، اس کے متشدد نظریات اور شیعہ کمیونٹی سے اس کی منافرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس کے بانی ابو بکر البغدادی کے خطبات سب کے سامنے ہیں لیکن مسئلہ داعش تک محدود نہیں ہے۔ اس سے پہلے القاعدہ اور دیگر ناموں سے سرگرم شدت پسند گروہ بھی پیہم اس نوع کی دہشت گردی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اصل ذمہ داری ہماری حکومتوں کی ہے کہ وہ ان بے لگاموں کو لگام ڈالیں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف ابھاری گئی نفرت بھری ذہنیت کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس شعوری اقدامات اٹھائیں۔ ہزارہ شیعہ تو کسی دوسرے مذہب والے بھی نہیں ہیں بلکہ اسی ملت اسلامیہ یا مسلم امہ کا حصہ ہیں۔ لیکن غیر مسلموں کے خلاف پھیلائی گئی منافرت آج ہمیں کہاں سے کہاں تک لے جا چکی ہے۔
کوئٹہ کی منجمد کر دینے والی سردی میں یہ مظلوم کمیونٹی اپنے پیاروں کی میتیں رکھے کتنے دنوں سے دھرنا دیئے بیٹھی ہے جو ہم سب کیلئے بالعموم اور حکومت کے لئے بالخصوص باعث شرم و ندامت ہے۔ صوبائی وزیراعلیٰ اتنے ہولناک سانحہ کے باوجود اپنے بیرونی دورے سے واپس نہیں لوٹ سکے جبکہ دھرنا دینے والے خواتین حضرات کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم دھرنا ختم کرنے کیلئے خود وہاں آئیں۔ تاکہ شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے دکھوں کو براہ راست سنتے ہوئے ان مظلوموں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کی خاطر اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ ایک ہزارہ خاتون جس کے مُردوں کو دفن کرنے کیلئے فیملی میں کوئی مرد نہیں بچا ہے، اس کے دکھ درد کا کوئی ادراک نہیں کر سکتا۔ وہ چلا چلا کر کہہ رہی تھی کہ وزیراعظم کو بلانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے چہرے کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اس سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ کی یہ ریاست مدینہ ہے یا یزیدی ریاست؟ جن کے پیارے بغیر کسی غلطی کوتاہی کے یوں سنت شمر پر عمل کرتے ہوئے ذبح کر دیئے جائیں ان کی تلخ نوائی قابل فہم و بیان ہونی چاہیے۔ آخر ان کے زخموں پر مرہم کون رکھے گا؟ کس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرے اور مذہبی منافرت سے بھرا ریاستی بیانیہ بدلے؟ ان مظلومین کی ہمدردی میں دیگر شہروں میں بھی جو دھرنے دیے جا رہے ہیں وہ قابل فہم ہیں۔
وزیراعظم نے اپنا خصوصی طیارہ فراہم کرتے ہوئے پہلے اپنے وزیر داخلہ کو کوئٹہ بھیجا پھر اپنے شیعہ ساتھی مشیروں کو روانہ کیا۔ ان کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا اگر وہ اس سانحہ کے فوری بعد ہزارہ کمیونٹی سے اظہار ہمدردی و یگانگت کیلئے خود ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ انہیں یہ یقین دلاتے کہ آپ لوگ لاوارث نہیں ہیں۔ اگر نیوزی لینڈ کی غیر مسلم خاتون وزیراعظم وہاں کی مسلم کمیونٹی کے خلاف ہونے والے حملے پر دلجوئی کیلئے فوری موقع پر پہنچ سکتی ہیں، اقلیت کے زخموں پر مرہم لگانے والے اقدامات کر سکتی ہیں تو ریاست مدینہ کے دعویدار یا اٹھتے بیٹھتے اس کی مثالیں دینے والے کو لمحہ بھر کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
درویش بارہا یہ سوچتا ہے کہ 1947کی پارٹیشن کروانے کیلئے شروع کی گئی شدید نوعیت کی مذہبی منافرت ہمیں بالآخر کہاں لے جائے گی؟ ا س کا نشانہ کبھی مسیحی برادری بنتی ہے تو کبھی ہندو برادری اورکبھی احمدی کمیونٹی۔ غیر مسلم ہمسایوں کے خلاف لگائی گئی منافرت کی آگ اب بھڑکانے والوں کے اپنے گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ دوسروں کا تماشا بنانے اور دکھانے والے آج پوری دنیا کے سامنے خود تماشا بنے ہوئے ہیں۔ شیعہ سنی منافرت تو چلیں صدیوں پر محیط ہے اب خود ہمارے سنی بھائیوں کے اندر وہابی بریلوی یا دیوبندی بریلوی منافرت پھیلانے کی بنیادیں بھی استوار کی جا رہی ہیں۔ ان کے مرتکبین کوئی غیر نہیں، ان کے اپنے ہی جبے عمامے والے قائدین و محدثین ہیں۔ جسے شک ہے وہ ایک فرقے کی اذان پر دوسرے فرقے کے حضرت صاحب کا بیانیہ وڈیو کی صورت ملاحظہ فرما سکتا ہے۔ ابھی تو اسلامائزیشن کے مقدس نعرے میں کچھ ٹھہراﺅ آ گیا ہے ورنہ یہ سلسلہ یا ولولہ جس طاقت کے ساتھ آگے بڑھتا چلا آ رہا تھا، اس کے مثبت اثرات تو جو ہوتے سو ہوتے، سوسائٹی کی برداشت یا روداری کا جنازہ نکل جاتا۔ مذہب کوئی بھی ہو وہ تو عاجزی و انکساری اور انسانی خدمت و محبت کا استعارہ ہوتا ہے۔ مگر یہ مذہب کے مقدس نام پر کون سا ”ضابطہ حیات“ پیش فرمایا جا رہا ہے جس نے انسانی زندگیاں اجیرن بنا کر رکھ دی ہیں۔
شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے آٹھ مطالبات ہیں یا دس آپ ان کے سامنے ضرور سر تسلیم خم کر دیں مگر پاکستان کا غریب شہری ہونے کے ناتے درویش کا صرف ایک مطالبہ یا درخواست ہے کہ آپ مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا وتیرہ ختم فرما دیں۔ یہ کیا تسبیحات کے ذریعے لوگ مذہبیت کے ڈرامے کرتے پھرتے ہیں۔ اپنی جعلی پارسائی کے ذریعے پاپولیرٹی کے حصول کی خاطر مرے جا رہے ہیں۔ کہا تو یہ گیا تھا کہ اگر کوئی شخص دوسروں کو دکھانے کیلئے یا ان پر اپنی پارسائی کا رعب جمانے کیلئے اپنی نماز کو بھی ذرا بھر طول دیتا ہے تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ جو کام خالص للہیت کا تھا آپ نے بندوں سے اس کا اجر چاہا۔ لہٰذا جو چیز بندے اور خدا کا معاملہ ہے اسے وہیں تک رہنے دیں۔ بندگان خدا سے آپ کا تعلق خدمت اور حقوق العباد یا ہیومن رائٹس کا ہے۔ ان کے سامنے ان کی ادائیگی کریں ریاست بلاامتیاز دکھی اور مظلوم شہریوں کا سہارا بنیں۔ یہی اس کی اولین ذمہ داری ہے۔ جی چاہ رہا ہے کہ یہاں معصوم اسامہ ندیم ستی پر جو ریاستی ظلم و جبر ہوا ہے یا پختون خوا کے ضلع کرک میں جس طرح مندر کو آگ لگا کر توڑا گیا ہے، اس پر بھی اپنا تجزیہ پیش کیا جائے مگر.... آئندہ سہی۔