ٹرمپ کو صدارت سے علیحدہ کرنے کے مطالبے زور پکڑ گئے
- جمعہ 08 / جنوری / 2021
- 4130
امریکی کانگریس کی عمارت پر مظاہرین کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال میں کئی حلقوں کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ کرنے یا انہیں عہدے سے ہٹانے کے مطالبات مین اضافہ ہؤا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایک ویڈیو میں پر امن انتقال اقتدار کی بات کی تھی۔ اور موجودہ حالات میں قومی مفاہمت کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے حامیوں کو مایوسی ہوئی ہے لیکن حامی جان لیں کہ ہمارے ناقابلِ یقین سفر کا ابھی صرف آغاز ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ کیپٹل ہل پر حملے کے بعد انہوں نے فوری طور پر نیشنل گارڈز اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو عمارت کے تحفظ اور مظاہرین کو وہاں سے نکالنے کے لیے روانہ کیا۔ کانگریس کی عمارت میں تشدد اور ہنگامہ آرائی کرنے والے امریکہ کی نمائندگی نہیں کرتے اور جنہوں نے قانون توڑا وہ اس کی قیمت چکائیں گے۔
کیپٹل ہل پر حملے کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی تنقید کے باوجود صدر ٹرمپ کے بیشتر حامی اب بھی اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم صدر پر مستعفی ہونے یا ان کے مواخذے کے مطالبات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے دو سینئر رہنماؤں نے جمعرات کو مطالبہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹایا جائے۔
امریکہ میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کی صرف دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت کانگریس میں صدر کا مواخذہ ہے جب کہ دوسری صورت میں امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم یہ اجازت دیتی ہے کہ ذہنی صحت خراب ہونے پر نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت صدر کو عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔
اب تک سامنے آنے والے اطلاعات کے مطابق نائب صدر مائیک پینس 25 ویں ترمیم پر عمل درآمد کے حق میں نہیں ہیں۔ مائیک پینس نے بدھ کو کانگریس میں صدارتی انتخاب کی توثیق کے عمل کے دوران صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کو نظر انداز کر دیا تھا کہ نائب صدر انتخاب کی توثیق نہ کریں یا نتائج کو ان کے حق میں کر دیں۔
نائب صدر کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اس مطالبے کو نظر انداز کرنے کے بعد کئی حلقے ان سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے یہ مطالبات ایسے وقت کیے جا رہے ہیں جب ان کے عہدے کی آئینی مدت ختم ہونے میں دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد چک شومر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے بے دخل کرنے کے لیے 25 ویں ترمیم کا استعمال تیز ترین اور مؤثر طریقہ ہے۔ اُن کے بقول موجودہ صدر کو مزید ایک دن بھی وائٹ ہاؤس میں نہیں رہنا چاہیے۔ اگر نائب صدر اور کابینہ ارکان صدر ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہونے سے انکار کر دیتے ہیں تو کانگریس کو صدر کے مواخذے کی کارروائی شروع کر دینی چاہیے۔
ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی جمعرات کو نیوز کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی مدت مکمل ہونے میں صرف 13 روز باقی رہ گئے ہیں لیکن ہر آنے والا دن امریکہ کے لیے بھیانک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نائب صدر اور کابینہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "کیا یہ تیار ہیں کہ آئندہ 13 روز یہ خطرناک شخص ملک کی جمہوریت پر حملے کرتا رہے؟"
دوسری جانب صدر ٹرمپ کی کابینہ میں شامل وزرا اور دیگر عہدوں پر تعینات شخصیات کی جانب سے کیپٹل ہل میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے خلاف بطور احتجاج استعفے دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اب تک وزیرِ تعلیم بیٹسی ڈیووس، وزیرِ ٹرانسپورٹ ایلن چاؤ، محکمہ خزانہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری فار انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی جان کوسٹیلو، چین سے متعلق امور کے نگران صدر ٹرمپ کے مشیر میٹ پوٹنگر، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف اسٹیفنی گریشم، وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکرٹری سارہ میتھیو اور وائٹ ہاؤس کی سوشل سیکرٹری رکی نائسٹا استعفیٰ دے چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اتحادیوں کی تنقید کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید استعفے بھی متوقع ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے استعفوں پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔