سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شیئر کرنے پر 3 افراد کو سزائے موت
- جمعہ 08 / جنوری / 2021
- 5300
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شیئر کرنے کے الزام میں 3 افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔ چوتھے ملزم کو 10 سال قید کی سزا دی گئی۔
اے ٹی سی نے کیس میں مفرور ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے۔ کیس کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق رانا نعمان رفاقت اور عبدالوحید جعلی پروفائلز چلاتے تھے اور سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد پھیلاتے تھے جبکہ ناصر احمد یوٹیوب پر گستاخانہ ویڈیوز اپ لوڈ کرتا تھا۔جج راجا جواد عباس کی جانب سے جمعہ کو کیس کا فیصلہ سنایا گیا اور انہوں نے تینوں ملزمان کو گستاخی کا مرتکب پایا۔
چوتھے ملزم پروفیسر انوار احمد کو 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ ملزم کو اسلام آباد ماڈل کالج میں لیکچر کے دوران گستاخانہ نظریات پھیلاتا تھا۔ وہ وہاں اردو کا استاد تھا۔
سزا پانے والے ان چاروں افراد کو 2007 میں توہین مذہب و رسالت کے کیس میں ابتدائی طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق بہت سے نامعلوم لوگ اورگروپس انٹرنیٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پھیلاتے ہیں۔ اس طرح جان بوجھ کر مذہبی جذبات اور عقیدے کو ٹھیس پہنچائی اور لووگں کو مشتعل کیا۔
ان چاروں ملزمان پر 12 ستمبر 2017 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے فرد جرم عائد کی تھی۔ انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت مذکورہ کیس میں پروفیسر انوار احمد کی ضمانت کی درخواست کو بھی مسترد کردیا تھا۔
3 سال تک جاری رہنے والے مقدمہ کے دوران استغاثہ نے ملزمان کے خلاف 17 گواہان پیش کیے۔ عدالت نے دفاع کے گواہان کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ وہ ملزموں کے رشتے دار تھے۔ واضح رہے کہ پاکستان کا یہ پہلا ایسا کیس ہے جس میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شیئر کرنے پر سزا سنائی گئی ہے۔
انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کو اقلیتوں کے خلاف یا ذاتی دشمنیاں نبھانے کے لئے اکثر غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کے مطابق ملک میں 80 سے زیادہ لوگ ایسے مقدمات میں قید ہیں۔