لاشوں کو دفنا دیں، وزیراعظم کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا: عمران خان
- جمعہ 08 / جنوری / 2021
- 4440
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے ہزارہ برادری کے تمام مطالبات مان لیے ہیں۔ لیکن وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا جاتا کہ آپ آئیں گے تو ہم تدفین کریں گے۔
اسلام آباد میں اسپیشل اکنامک زونز اتھارٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شاید سب سے زیادہ ظلم ہزارہ برادری کے لوگوں پر ہوا۔ گزشتہ 20 برسوں میں 11 ستمبر 2001 کے بعد انہیں دہشت گردی، ظلم اور قتل کا سامنا کرنا پڑا۔ جب بڑے بڑے سانحات ہوئے تو میں وہاں گیا۔ میں نے ان کا خوف دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مچھ میں مزدوروں کا قتل اس سازش کا حصہ ہے جس کا میں نے گزشتہ مارچ میں کابینہ کو بتایا تھا۔ اور اس بارے میں بیانات دیے تھے کہ بھارت پوری طرح پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کروائے اور شیعہ، سنی علما کو قتل کروایا جائے۔
میں ملک کی خفیہ ایجنسی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ 4 بڑے دہشت گردی کے واقعات ہمارے اداروں کی وجہ سے نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود کراچی میں ایک ہائی پروفائل سنی عالم کا قتل کیا گیا۔ جس پر بڑی مشکل سے ہم نے فرقہ وارانہ تقسیم کو روکا۔ مچھ واقعہ کا پہلے سے اندازہ تھا۔ اس واقعے کے بعد میں نے سب سے پہلے وزیر داخلہ کو بھیجا، جنہوں نے بات کی اور اس کے بعد 2 وفاقی وزرا کو وہاں بھیجا یہ بتانے کے لیے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
ان لواحقین کے گھروں میں کمانے والوں کو مار دیا گیا۔ میں نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ہم ان کا پوری طرح خیال رکھیں گے۔ انہوں نے ہم سے جو بھی مطالبات کیے ہم نے تمام مان لیے۔ ان کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں گے تو ہم لاشوں کو دفنائیں گے لیکن میں نے انہیں پیغام پہنچایا ہے کہ جب آپ کے تمام مطالبات مان لیے ہیں تو یہ مطالبہ کرنا کہ جب تک وزیراعظم آئیں گے نہیں ہم تدفین نہیں کریں گے، مناسب نہیں۔
کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح بلیک میل نہیں کرتے ورنہ ہر کوئی بلیک میل کرے گا۔ سب سے پہلے ڈاکوؤں کا ٹولہ کہے گا کہ ہمارے سارے کرپشن کے کیسز معاف کرو نہیں تو ہم حکومت گرادیں گے۔ یہ بھی ڈھائی سال سے بلیک میلنگ چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے کہا ہے کہ جیسے ہی تدفین کریں گے میں لواحقین سے ملوں گا۔ میں آج پھر کہہ رہا کہ اگر آپ آج تدفین کرتے ہیں تو میں آج کوئٹہ جاؤں گا اور لواحقین سے ملوں گا۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ آپ کے سارے مطالبات مان لیے ہیں لیکن یہ شرط لگانا کہ وزیراعظم آئیں گے تو تدفین ہوگی مناسب نہیں ہے۔
واضح رہے کہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں مسلح افراد نے بندوق کے زور پر کمرے میں سونے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔ مسلح افراد نے اہل تشیع ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ان 11 کوئلہ کان کنوں کے آنکھوں پر پٹی باندھی، ان کے ہاتھوں کو باندھا جس کے بعد انہیں قتل کیا گیا۔ واقعے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔