وزیر اعظم عمران خان کی کوئٹہ آمد، سانحہ مچھ کے لواحقین سے ملاقات
- ہفتہ 09 / جنوری / 2021
- 4510
وزیراعظم عمران خان مچھ میں قتل کیے گئے کان کنوں کی تدفین کے بعد ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے۔ انہوں نے صوبائی قیادت کے علاوہ مرنے والے کانکنوں کے لواحقین سے ملاقات بھی کی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان کے دارالحکومت آمد کے موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد و دیگر افراد بھی موجود ہیں۔ ایئرپورٹ پر عمران خان کا استقبال وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، صوبائی وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
وزیراعظم نے گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی اور وزیراعلیٰ جام کمال سے ملاقات کی۔ اس دوران کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی بھی موجود تھے۔ اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے مچھ واقعے اور صوبے میں امن و امان سے متعلق اجلاس کی صدارت کی۔
بعد ازاں وزیر اعظم نے ہزارہ عمائدین اور سانحہ مچھ کے لواحقین سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد ہزارہ رہنما آغا رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم نے تمام مطالبات پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہدا کے لواحقین کو فی کس 25 لاکھ روپے دیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ہزارہ برادری پر ایسے واقعات رونما نہیں ہوں گے اور 22 سالوں سے جو ہزارہ قوم کے ساتھ ہو رہا ہے اس کا ازالہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں وزیر اعظم سے بلیک میلنگ والے جملے پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ عمران خان نے وضاحت کی کہ انہوں نے بلیک میلنگ والا جملہ پی ڈی ایم کے قائدین سے متعلق کہا تھا۔
آغا رضا نے کہا کہ وزیر اعظم کو بڑا مان کر شہدا نے انہیں کوئٹہ بلایا تھا۔
قبل ازیں مچھ واقعے میں قتل کیے گئے کان کنوں کی تدفین کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں کردی گئی۔ اس دوران شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کان کنوں کی نماز جنازہ علامہ راجا ناصر عباس نے پڑھائی۔ وفاقی وزیر علی زیدی، معاون خصوصی زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو سمیت صوبائی وزرا ، اراکین اسمبلی اور سماجی رہنما بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔
خیال رہے کہ رات گئے حکومت اور ہزارہ برادری کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد لواحقین نے 6 روز سے جاری دھرنا ختم کرنے اور میتوں کی تدفین کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے جن مطالبات کو تسلیم کیا گیا ان میں جے آئی ٹی کا قیام، عہدیداروں کی معطلی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ہزارہ برادری میتوں کی تدفین کردے میں فوری کوئٹہ پہنچ جاؤں گا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ کوئی وزیر اعظم کو بلیک میل نہیں کرتا ۔ اس لئے آپ میتوں کو دفنا دیں۔ اس بیان پر عمران خان کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والے ظلم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔ قبائلی عمائدین اور ہزارہ لواحقین سے ملاقات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحہ مچھ کے متاثرین کا خیال رکھیں گے اور برداری کو بھرپور تحفظ فراہم کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم داعش کو بھارت کی مکمل اور بھرپور مدد اور حمایت حاصل ہے۔