امریکی کانگریس پر دھاوا اور ہم
- تحریر
- ہفتہ 09 / جنوری / 2021
- 4500
مجھے معلوم ہے کہ آپ کو دُکھ ہوا ہے، تکلیف ہوئی ہے۔ ہم سے یہ الیکشن چھینا گیا۔ مگر اب آپ اپنے اپنے گھروں کو جائیں: امریکی کانگریس پر اچانک حملے کے بعد صدر ٹرمپ کا اپنے حامیوں کو مشورہ!
دو روز قبل واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی ایک زبردست ریلی تھی۔ مختلف ریاستوں نے آئے ان کے حامیوں کا پارہ گرم تھا۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر وہی تقریر کی کہ وہ الیکشن جیت چکے ہیں لیکن مقابلہ کریں گے، چھوڑیں گے نہیں۔ ہجوم پہلے ہی غصے میں تھا، دیکھتے ہی دیکھتے ہجوم نے نزدیک واقع امریکی کانگرس کے دفاتر پر ہلہ بول دیا، شیشے اور دیگر اشیا کی توڑ پھوڑ کی، سینیٹ کے جاری اجلاس تک پہنچے۔ ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کو گولی کا سہارا بھی لینا پڑا۔ ہنگامہ فرو ہوا تو چار افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ سب کچھ اس قدر اچانک اور زوردار انداز میں رونما ہوا کہ اپنے پرائے سب حیران پریشان تھے کہ دنیا میں جمہوریت کے سب سے بڑے چیمپئین ملک میں یہ تماشا!
نیو جرسی سے ڈیموکریٹ سینیٹر کوری بوکر نے تاریخ کھنگال کر کہا کہ24 اگست 1814 کو برطانیہ نے کیپیٹل ہل پر حملہ کرکے اسے جلایا تھا، آج ایک بار پھر کیپیٹل ہل کا گھیراؤ کیا گیا اور اس کی تکریم کو تاراج کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو مشتعل کیا اور وہی اس سانحے کے ذمہ دار ہیں۔ انتہائی منقسم امریکی کانگریس جہاں گزشتہ چار سال کے دوران شاذ ہی کبھی اتفاق رائے پیدا ہو سکا، مگر اس شرمناک واقعے کی ری پبلکن اور ڈیموکریٹس ارکان نے یک زبان اور پُرزور مذمت کی۔
امریکہ کی حالیہ تاریخ میں دو الیکشن خاصے متنازع ثابت ہوئے مگر سیاسی بالغ نظری کام آئی اور معاملات آگے بڑھ گئے۔ مگر اب کی بار تاریخ بدل گئی۔ صدر ٹرمپ الیکشن سے قبل ہی یہ عندیہ دے چکے تھے کہ جیتوں تو تجھے پاؤں، ہاروں تو پیا تیری، کے سوا ان کے ذہن میں کوئی اور صور ت نہیں۔ الیکشن نتائج کو درجنوں عدالتوں میں چیلنج کرنے کا بھی فائدہ نہ ہوا، سب مقدمے خارج ہوئے۔ دور روز قبل ان کے نائب صدر اپنے صدر کی خواہش کے برعکس کانگریس اجلاس میں الیکشن کے نتائج کی رسمی توثیق کر رہے تھے۔ عین اسی روز جارجیا ریاست میں دو سینیٹرز کے الیکشن میں بھی میدان ڈیموکریٹس کے ہاتھ رہا جس کے بعد اب سینیٹ کا کنٹرول بھی ری پبلکن کے ہاتھ سے نکل گیا۔ صدر ٹرمپ کا دوبارہ صدر بننے کا خواب چور چور ہو گیا اور ساتھ ہی سینیٹ میں ری پبلکن کا آٹھ سالہ کنٹرول بھی ختم ہو گیا۔ سیاسی بساط اب ڈیموکریٹس کے قبضے میں آگئی ہے۔
امریکی کانگرس پر حملے کی وجوہات کیا تھیں؟ سادہ جواب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے مزاج کے الگ سیاست دان ثابت ہوئے، ان کے چاہنے والے ان کی ہر بات کو سچ اور سچ کے سوا کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ ٹرمپ نے اپنے خلاف ہر اسٹوری اور تنقید کو فیک اور جعلی میڈیا کی کارستانی قرار دیا۔ سوشل میڈیا ان کا فیصلہ کن ہتھیار رہا۔ انہوں نے سفید فام برتری کے زعم میں مبتلا گروپس کے دلوں کے تار چھوئے۔ ٹرمپ کا بیانیہ اپنے مخالفین کے بارے میں تضحیک اور طنز پر مبنی رہا ہے۔ دوسری طرف اپنے بارے میں خود پسندی اور خود راستی کے گھمنڈ کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا، اس طرزِ سیاست نے امریکہ میں پہلے سے موجود تقسیم کی دراڑوں کو مزید گہرا اور واضح کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ان کے جارحانہ بیانئے اور مخالفین کے بارے میں بے لچک رویے کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔
جارحانہ بیانئے اور مخالفین کے بارے میں بے لچک روئیے اس وقت پاکستانی سیاست کا بھی رائج چلن ہیں۔ اواخر اسّی کی دہائی میں شروع ہوا ایک دوسرے پر غداری اور ملک دشمنی کے الزامات کا چلن اب ایک عام سے بات ہو چکی۔ تنقید کا جواب نہ بن پائے تو بھارت کے ایجنٹ کا لیبل ٹھک سے حاضر۔ غداری اور ملک دشمنی کے لیبل میوزک چئیر کی طرح باقاعدگی سے ایک دوسرے کے حصے میں آئے ہیں۔ سپریم کورٹ پر حملہ بھی کل کی بات ہے اور پارلیمنٹ پر حملہ بھی۔
جنگ میں پہلی گولی کس نے چلائی؟ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ سوال بے مصرف ہو جاتا ہے، تُرکی بہ تُرکی جواب زندگی اور موت کے درمیان فاصلے کی واحد اسٹر یٹجی رہ جاتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں ایک دوسرے پر تضحیک اور جارحانہ رویئے یوں تو اسّی اور نوّے کی دِہائی میں بھی رائج تھے اور اس کے تباہ کن اثرات بھی ڈھکے چھپے نہیں، مگر گزشتہ آٹھ دس سال سے ایک بار پھر یہ چلن زور شور سے رائج ہوگیا ہے، سوشل میڈ یا اور سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا ونگزنے اس ٹرینٖڈ کو اس قدر پھیلا دیا ہے کہ ایک عام شخص کے موبائل پر روزانہ درجنوں کے حساب سے ایسے ویڈیوز، میم اور تبصرے موصول ہوتے ہیں، فون کی میموری جواب دے جاتی ہے مگر تضحیک اور طعن و تشنیع کا یہ سیلاب تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا۔
چند سال قبل لندن میں پی ٹی آئی کے کچھ جوشیلے کارکن سیاسی نفرت اور غصے میں میاں نواز شریف خاندان کے افراد پر سر عام آوازے کسنے اور اس عمل کی ویڈیوز وائرل کرنے کو کمال سمجھتے۔ چند ہی سال میں اب یہ سلوک پی ٹی آئی کے حصے میں بھی آنا شروع ہو گیا ہے۔ دو روز قبل لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے ڈ اکٹر شہباز گِل پر آوازے کسنے، نعرے لگانے اور کار پر مکے برسانے کا واقعہ اتفاقیہ رونما نہیں ہوا۔ سیاست میں عدم برداشت، طاقت پر مبنی مزاج، خود پسندی کا گھمنڈ اور مخالفین کو دریا برد کرنے کا بیانیہ تقسیم اور منافرت کی پوری فصل کاشت کر چکا ہے۔
مچھ میں ہزارہ برادری کے کارکنوں کے گیارہ لاشے بھی سیاست کے کام آئے۔ گلگت بلتستان الیکشن میں پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے جلسوں میں جوبیانئے سننے کو ملے اور جو روئیے پارلیمنٹ میں ایک دوسرے سے روا رکھے گئے ہیں، ان کی بنیاد پر کل کا تصور کریں تو امریکی کانگریس اور ماضی میں پارلیمنٹ پر حملے جیسے مناظر انہونے نہیں ہوں گے۔ بقول قابل اجمیری:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا