انڈونیشیا: لاپتا طیارے کے پرزے اور انسانی اعضا سمندر سے مل گئے

  • اتوار 10 / جنوری / 2021
  • 4690

انڈونیشیا میں حکام کو ہفتے کو دارالحکومت جکارتا سے پرواز کے کچھ ہی دیر بعد راڈار سے غائب ہونے والے طیارے کے پرزے اور انسانی اعضا سمندر سے مل گئے ہیں۔

ہفتے کو انڈونیشیا کی مقامی ایئر لائن 'سری وجائیا' کا طیارہ 62 مسافروں کو لے کر پونتیانک جا رہا تھا کہ اُڑان بھرنے کے کچھ ہی دیگر بعد راڈار سے غائب ہو گیا۔  طیارے کے لاپتا ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا تھا جب کہ درجنوں غوطہ خوروں نے سمندر میں تلاش کا کام بھی شروع کر دیا تھا۔

'انڈونیشیا سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی' کے سربراہ باگس پورہیتو کا ملٹری شپ پر صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ انہیں دو مقامات سے سگنلز موصول ہوئے ہیں۔ جو کہ ان کے بقول بلیک باکس کے ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف بحریہ کے عہدیدار وحی الدین عارف نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں جہاز کے تین فٹ لمبے ٹکڑے، ٹائر کے کچھ حصے اور انسانی اعضا ملے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق انسانی اعضا کی شناخت کے لیے اسپتال بھجوا دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سرچ ٹیموں اور مچھیروں کو طیارے کے ملبے کے کچھ حصے بھی سمندر سے ملے تھے۔ انڈونیشیا کی ایئر فورس کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ بہت جلد سارا ملبہ تلاش کر لیں گے۔

'پالویئر میرین پولیس' کے ڈائریکٹر محمد یاسین کا مقامی ذرائع ابلاغ کو کہنا تھا کہ جکارتہ کے ساحل سمندر کے قریبی جزیروں پر وہ اپنی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جہاں سمندر کی گہرائی 65 سے 75 فٹ ہے۔ سرچ آپریشن میں شامل ایک ڈرائیور نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے پاس پانی کے اندر سے بلیک باکس کے سگنلز پکڑنے والے دو آلات موجود ہیں۔

دوسری جانب انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات نے تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کے بارے میں خبردار کیا ہے جس سے تلاش کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ سری وجائیا ایئر لائنز کا یہ طیارہ لگ بھگ 27 سال پرانا تھا۔

طیارے بنانے والی کمپنی 'بوئنگ' کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ وہ حادثے کی تحقیقات کے لیے ایئر لائن اور انڈونیشین حکام کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے۔