معاشی ترقی اور ای کامرس

پاکستان کی ترقی  معاشی ترقی اور نوجوانوں کی معاشی عمل میں موثر شمولیت  سے وابستہ ہے۔ معاشی ترقی کا عمل اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب نئی نسل کے لیے روائتی طور طریقوں کی بجائے نئے جدید خیالات کے ساتھ معاشی ترقی کی  دوڑ میں شامل ہوگی۔ اس وقت دنیا بھر میں  معاشی ترقی  میں ای کامرس  اہم ہے۔  نئی کاروباری سوچ اور فکر  میں  ای کامرس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔

دنیا میں تجارت کو فروغ دینے کاروباری ڈھانچہ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اب ایک بڑا مسئلہ ڈیجیٹل بنیاد پر کاروباری ترقی اور مواقع کا بھی ہے۔تجارت میں نئی نئی جہتیں سامنے آرہی ہیں۔90کی دہائی میں ڈاٹ کام عروج پر آگئی تو اس کی بڑی وجہ اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ تجارت کو گلوبل کرنے کے مواقع سامنے آئے۔  پہلی دفعہ ای کامرس نے ملکی معاشی ترقی میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کیں۔اگرچہ اس وقت ناقدین کا خیال تھا کہ انٹر نیٹ پروٹوکول کے زریعے تجارت کرنا ایک خطرناک رجحان ہوگا۔اسی دور میں 1995میں جیف بیزوزنے ایک گیراج میں بیٹھ کر ای کامرس کی بنیاد پر اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کانام ایمازون تھا۔اس تجربہ کے بعد اور بھی بہت سے لوگوں نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔آج کے دور میں اس طرح کے ای کامرس کے تجربات نے اب پوری دنیا میں ای کامرس کو دنیا کی سب سے بڑی صنعت بنادیا ہے۔

پاکستان میں بھی زمین ڈاٹ کام، دراز ڈاٹ کام، پاک ویلز، جیسے کئی ادارے چند افراد کی مدد سے اربوں روپے کے نہ صرف کاروبار میں مصروف ہیں بلکہ نئے روزگار بھی پیدا کررہے ہیں۔اس لیے انٹرنیٹ سمیت دیگر نئے رجحانات سے ایک نئی کاروباری دنیا سامنے آئی ہے اور پاکستان بھی اس میں آگے بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔پچھلے ایک برس میں پاکستان میں عورتوں اور نئی نسل نے آن لائن شاپنگ سے متعارف کروایا ہے۔ پنجاب کے بڑے شہر فیصل آباد، سیالکوٹ کی بڑی صنعتیں بھی ای کامرس کی بنیاد پر اپنے کاموں کو فروغ دے رہی ہیں۔نوجوان خود چھوٹے چھوٹے کام کی بنیاد پر اپنا روزگار یا کسی کے روزگار سے منسلک ہوکر اس نئی کاروباری جہت کا حصہ بن رہے ہیں۔

نوجوان طبقہ بنیادی طور پر روزگار کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسے یقینی طور پر آگے بڑھنے کے لیے معاشی مواقع کی تلاش ہوتی ہے۔ بالخصوص

جاب کی تلاش میں نوجوان روائتی انداز اختیار کرتے ہیں۔جبکہ رسمی نوکریاں کم ہوتی جارہی ہیں اور اس کے مقابلے میں غیر رسمی انداز میں معاشی ترقی کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔پاکستان میں آن لائن شاپنگ کے رجحان میں  تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے اور لوگ اب گھر بیٹھ کر ہی اپنی مرضی کے مطابق اشیا کی خریداری کررہے ہیں۔خاص طور پر وہ طبقہ جو ای کامرس یا ڈیجیٹل معاملات میں  رسائی رکھتا ہے وہ اس عمل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھارہا ہے۔ صرف اشیا کی خریداری ہی نہیں بلکہ کئی نوجوان خود آگے بڑھ کر ای کامرس کو بنیاد بنا کر اپنا چھوٹا موٹا یا بڑا کاروبار کرکے اپنے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کررہے ہیں۔

ای کامر س کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے  ریاست، حکومت او رہم اہم ادارے کام کررہے ہیں۔ انفرادی سطح پر کچھ نوجوان بھی اس اہم کام کے پھیلاؤ میں  ہاتھ بٹا رہے ہیں۔  ان میں ایک بڑا نام ثاقب اظہر کا  ہے جو ایک معروف ای کامرس کی ترقی سے جڑے ادارے کے سربراہ ہیں۔ ان کا بنیادی کام ملک میں ای کامرس کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دینا ہے تاکہ نئی نسل کے لوگ اپنے کاروبار کو ای کامرس کے ساتھ جوڑ سکیں۔ان کے بقول اس ملک سے اگر واقعی غربت کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کی ایک بڑی بنیاد ای کامرس ہی بن سکتی ہے۔کیونکہ یہ ہی وہ زریعہ ہے کہ جس کی مدد سے آپ گھر بیٹھ کر ہی اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ثاقب اظہر نہ صرف  ای کامرس کی آگاہی دیتے ہیں بلکہ اس کی مدد سے روزگار کمانے کے ہنر  بھی سکھاتے ہیں۔ یعنی وہ تربیت کا اہتمام بھی کررہے ہیں۔

اصل میں سرمایہ دار او رہنر مند افراد کے درمیان ایک مضبوط تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے او ریہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب ہم اپنی سطح پر معاشی ترقی کا ماحول پیدا کریں اور لوگوں میں جدید طریقوں سے معاشی ترقی کے جال کو پھیلانا ہوگا۔ثاقب اظہر  کی کتاب  بھی اس موضوع کا احاطہ کرتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان جب چین اور دیگر ممالک کی مثالیں دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ملک سے خط غربت کو کم کیا ہے تو اس پر عملدرآمد کے لیے بھی ہمیں ای کامرس کو بنیاد بنانا ہوگا۔یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب یہ ہماری نہ صرف پالیسی سازی میں سیاسی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے بلکہ یہ عملی طور پر ہر فرد یا ادارے کو واضح طور پر نظر بھی آنا چاہیے۔ایسے میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شعبہ میں کام کرنے والے لوگوں کی سرپرستی کریں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں ای کامرس کے پھیلاؤ میں کیا ایسے اقدامات کرنے چاہیے جو واقعی ہمارے لیے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرسکیں۔ اول ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ملک کو گلوبل ای کامرس کا حصہ بننا ہے اور یہ ہی ہماری معاشی ترقی کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے اور اس کے لیے  ادائیگیوں کے جدید نظام کو متعارف کروانا ہوگا۔ دوئم انٹرنیٹ فورجی جیسی سہولیات کو عام کرنا ہوگا اور لوگوں کی تربیت سمیت اس پر ا ن کی رسائی کو عام کرنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس معاشی ترقی کا حصہ بن سکیں۔ سوئم ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں مینجمنٹ، مارکیٹنگ، اشتہارات، سیلز کے ساتھ ساتھ ای کامرس کو بھی بنیاد بنانا ہوگا اور نئی نسل میں آگہی پیدا کرنا ہوگی۔چہارم ہمیں اپنی منڈی یا کاروباری مراکز کو ای کامرس کے  نظام میں لانا ہوگا۔اور ای کامرس کی تعلیم یا شرح خواندگی کو عام کرنا ہوگا۔خاص طور پر اگرہم نے واقعی سی پیک سے زیادہ سے زیادہ فادہ اٹھانا ہے تو ہمیں ای کامرس کی بنیاد پر معاشی ترقی کا ایک بڑا روڈ میپ درکارہے جو ہماری معاشی ترقی میں نئی جہتوں کو پیدا کرسکے گا۔