کیا یہاں کمزور مذہبی طبقات لاوارث ہیں؟

کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں شہیدوں اور لاشوں کو بھی انصاف کیلئے احتجاج کرنا پڑتا ہے۔

یہاں بنیادی انسانی ضروریات کی اشیا مہنگی ہیں مگر انسانی خون سستا ہے۔ جو ریاست عوامی جان ومال کا تحفظ نہیں کر سکتی اسے ریاست کہلانے کا کوئی حق نہیں ۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے شہدا کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے پوری قوم آپ کے دکھ میں شریک ہے۔ میں گزشتہ پانچ روز سے دیکھ رہی ہوں کہ ہزارہ برادری شدید سردی میں اپنے پیاروں کی میتیں رکھ کر کسی بے حس کو پکار رہی ہے ۔ میں تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وزیر اعظم سے کہتی ہوں کہ آپ کی انا ان مظلوموں کے دکھوں سے بڑی نہیں ہے۔ آپ یہاں آئیں اور ان کے دکھوں پر مرہم لگائیں۔ ریاست تو ماں ہوتی ہے مگر افسوس یہاں اپنے ان بچوں کے ساتھ ماں جیسا سلوک نہیں کیا جا رہا ۔

اپوزیشن قیادت نے دکھ دردکی اس گھڑی میں ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ جس یکجہتی و یگانگت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ قومی تقاضا تھا جو یقیناً قابل تحسین ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے اصل ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ وزیر اعظم جیسا تیسا بھی ہو بہرحال عوام کا نمائندہ کہلاتا ہے۔ مظلومین کا یہ مطالبہ کہ وہ اپنے شہدا کی میتیں تب تک دفن نہیں کریں گے جب تک وزیر اعظم خود آکر ہمارا دکھ نہیں سنتے ، کسی بھی طرح غلط قرار نہیں دیا جا سکتا اور وزیر اعظم کو ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر وہاں پہنچنا چاہئے تھا۔ انہوں نے اپنے جن وزیروں مشیروں کو بھیجا انہوں نے اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے سے بجائے دکھی دلوں پر مرہم لگانے کے الٹی سیدھی کچھ ایسی باتیں کیں جنہیں کانوں سے سنتے ہوئے بھی یقین نہیں آ رہا تھا۔ کہ حکومتی عہدیداران عین شہدا کی میتوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایسی سنگدلی بھی دیکھا سکتے ہیں۔

کہا جا رہا تھا کہ اگر وزیراعظم خود یہاں آتے ہیں تو آپ لوگ ان کو کیا فائدہ دو گے؟ اُف میرے خدایا ! میتوں پر سیاست کا الزام کسی اور پر دھرنے سے پہلے ذرا اپنے گریبانوں میں جھانک کر تو دیکھیں۔ کہا گیا کہ اگر وزیر اعظم آج آپ لوگوں کی شہادتوں پر یہاں آتے ہیں تو کل کو جو اور لوگ شہید ہوں گے پھر تو ان کے لواحقین بھی یہی مطالبہ کریں گے کہ وزیراعظم ہمارا دکھ سننے کے لیے ان کے پاس بھی آئیں۔ کسی دکھی انسان کے ساتھ اس نوع کی گفتگو کرتے ہوئے سینہ کانپ جاتا ہے۔ یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں، ریاست مدینہ کی مثالیں دیتے ہوئے جن کے گلے خشک نہیں ہوتے۔ کیا انہی کا لیڈر نہی تھا جو چند برس قبل پورے زور کے ساتھ چلاتے ہوئے کہتا تھا کہ صدر آصف زرداری کو شہدا کی تعزیت کیلئے یہاں خود آنا چاہئے۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت کو اتنی بڑی نااہلی کے بعد فارغ کر دینا چاہئے حالانکہ پارلیمانی نظام حکومت میں اس نوع کا فریضہ صدر کا نہیں وزیراعظم کا ہوتا ہے۔

کیا آج عامتہ الناس یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب نہیں کہ اگر آپ ڈراموں کے حوالےسے اداکاروں کے ساتھ گھنٹوں طویل نشست کر سکتے ہیں تو اس قدر مظلوم کمیونٹی کے ساتھ اظہار ہمدردی کیلئے کیوں نہیں جا سکتے ؟ ذرا اس منظرنامے کا تصور تو کریں کہ کس طرح شناختی کارڈوں کے ذریعے تصدیق کی جا رہی تھی کہ یہ لوگ واقعی فلاں مذہبی عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں اور پھر ان کے ہاتھ پاؤں باندھتے ہوئے چھریوں اور چاقوؤں کے ساتھ ان کے گلے کاٹے جا رہے تھے۔ جس میں انسانیت کی ذرا سی بھی رمق ہے، وہ اس دردناک صورتحال کا تصور کرتے ہوئے بھی کانپ اٹھتا ہے۔ ایک شیعہ ہزارہ نوجوان مشتاق حسین، جس نے 1053میٹرک کے امتحان میں نمبر حاصل کرتے ہوئے کوئٹہ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی، محض غربت کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ ساتھ مچھ کی ایک کوئلہ کان میں مزدوری کر رہا تھا۔ وہ بھی ہاتھ پاؤں باندھ کر کند چھری سے ذبح کر دیا گیا۔

کشمیری نوجوان وانی کے دکھ کو تو آپ یو این تک لے گئے، کیا اس شیعہ ہزارہ نوجوان مشتاق حسین کی مظلومیت پر بولنے اور رونے والا کوئی نہیں ہے۔ حمارے حکومتی میڈیا کے لیے کیا اس جواں سال محنتی طالب علم کا خون خون نہیں ہے، اس بدنصیب کی تصویر کیوں اسی جوش و جذبے کے ساتھ نہیں پھیلائی جا رہی۔ کیا کہیں ایسے تو نہیں کہ یہاں پالیسی ساز دو نمبر لوگ ہیں جو مخصوص مقاصد کے تحت مظلومیت کی کہانیاں پھیلاتے ہیں جنہں مخصوص خطوں کی مظلومیت تو دکھتی ہے۔ سنکیانگ میں مسلمان گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے جائیں، ان کی زندگیاں اجیرن بنا دی جائیں ان کی بلا سے، یہاں بات کرتے ہوئے ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ۔

آج یہاں سارا زور اس بات پر ہے کہ ہزارہ شہدا کے ایشو کو کسی بھی طرح فرقہ واریت کے تناظر میں پیش نہ کیا جائے بالکل ٹھیک ہے، بلاشبہ ہمیں مذہبی تقسیم کی بنیاد پر کسی بھی اشتعال انگیزی سے کامل اجتناب کرنا چاہئے۔ لیکن کیا لمحے بھر کیلئے منافقت کو چھوڑ کر سچائی کی بات کی جاسکتی ہے۔ کیا یہ ہمی لوگ نہیں تھے جنہوں نے صدیوں پر محیط تہذیبی یگانگت کے خطے میں مذہبی تقسیم و تخصیص کے نام پر آگ لگائی تھی۔ جو مذہبی منافرت پھیلانے کے حوالےسے دنیا میں اپنا ثانی نہیں رکھتے؟ کون سی مذہبی اقلیت ہے جو یہاں محفوظ رہی ہے ؟ ہزارہ کمیونٹی پر جو قیامت برسوں سے ٹوٹتی چلی آ رہی ہے، اس ملک میں شاید کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ہو گا جو اسے قابل مذمت قرار نہیں دیتا ہو گا۔ لیکن اگر ہم حقیقی معنوں میں اس کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں لازماً اس کی وجوہ سمجھنے اور بیان کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کرنی ہو گی۔

 ہمیں یہ شعوری نقطہ اٹھانا ہو گا کہ اتنی امن پسند اور بے ضرر کمیونٹی پر آئے روز یک  طرفہ ظلم کے پہاڑ کیوں توڑے جاتے ہیں ؟ کیا اس کی واحد وجہ مخصوص مذہبی عقیدے سے منافرت بھری سوچ نھیں ہے ؟ کیا یہاں دیگر کئی مخصوص مذہبی عقائد سے بھی اس نوع کی نفرت روا نہیں رکھی جا رہی جس کی بنیاد پر ان کے لوگ قتل ہوتے رہتے ہیں اور پیہم خوف وہراس کی فضا میں زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں ؟ کیا یہ ریاست کا فریضہ نہیں ہے کہ مذہبی منافرت کی آگ بھڑکانے والوں کے خلاف طے شدہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروائے۔ نہ صرف قومی تعلیمی نصاب کی تطہیر کرے بلکہ مساجد، مدارس اور میڈیا پر لازم ٹھہرائے کہ ایسی بدبو کہیں سے پھوٹنے نہیں پائے گی۔

ریاست اپنے کچھ کمزور بچوں کے لیے سوتیلی ماں یا ڈائن کا روپ نہیں دھارے گی ؟ آپ کو رستے بند ہونے پر تو مشکلات کا احساس ہے، جن کی سانسیں بند کر رکھی ہیں ان کے دکھوں کا ادراک کیوں نہیں ہے ؟ کیا ہزارہ شیعہ یا ان جیسے دوسرے طبقات لاوارث ہیں، کیا اس ریاست میں وہ برابر کے شہری نہیں ؟ کیا آئین میں ان کے انسانی حقوق نہیں ؟ براہِ مہربانی وزیر اعظم مزید تاخیر کئے بغیر کوئٹہ جائیں اور ان مظلوموں کے دکھوں کا مداوا کریں۔