پاکستان دنیا میں سب سے کم ٹیکس جمع کرتا ہے: وزیراعظم
- سوموار 11 / جنوری / 2021
- 4690
وزیراعظم عمران خان کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں تقریباً سب سے کم ٹیکس اکٹھا کرتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں اسٹیٹ بینک کے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام 'راست' کی افتتاحی قریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ کیش اکانومی 22 کروڑ کے ملک کو فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ ہے۔ کیش اکانومی کا سب سے بڑا نقصان ٹیکس کی وصولی میں ہے، پاکستان دنیا میں تقریباً سب سے کم ٹیکس اکٹھا کرتا ہے۔ہماری 22 کروڑ کی آبادی میں تقریباً 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور 20 لاکھ میں سے 70 فیصد ٹیکس دینے والے صرف 3 ہزار پاکستانی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی لئے ہم اپنا انفراسٹرکچر نہیں بنا سکتے، بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے، ہسپتالوں کو بہتر نہیں کرسکتے ہیں۔ 50 سال پہلے خطے میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک آگے اس لیے نہیں جاسکتا کیونکہ اس کے پاس ملک کی ترقی کے لیے پیسہ نہیں ہے۔ ہم کیش اکانومی سے نجات حاصل کریں گے۔ تاکہ ہم اپنے 22 کروڑ عوام کا فائدہ کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ راست پروگرام کی وجہ سے نچلے طبقے کو بھی ہم اپنی ترقی میں شامل کرسکتے ہیں۔ احساس پروگرام میں غربت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، موبائل والٹ استعمال کر رہے ہیں اور خواتین کے بینک اکاؤئنٹس کی بات کررہے ہیں اس کو راست پروگرام اس کو آگے بڑھائے گا۔ اسٹیٹ بینک نے جس طرح ہمارے سمندر پار پاکستانیوں سے معاملات کیے اس پر مبارک دیتا ہوں۔ ہمارے سرمائے میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا اضافہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بیرون ملک پاکستانیوں نے آفیشل طریقے سے پیسہ بھیجوایا جس کے باعث برسوں سے جاری کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5 مہینے سرپلس میں چلا گیا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے ہمارے روپے پر دباؤ کم ہوا کیونکہ جب کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ ہوتا ہے تو روپے پر دباؤ پڑتا ہے جس سے خاص کر غریب لوگوں پر اثر پڑتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ راست کی اصل کوشش ہماری معیشت کو بہتر کرنے کی ہے۔ ہمیں سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ انفارمل معیشت بہت بڑی ہے جس کی وجہ سے ٹیکس جمع نہیں کرسکتے اور ملک ترقی نہیں کرسکتا۔