سینیٹ انتخابات پر صدارتی ریفرنس میں پورے آئینی ڈھانچے کو جانچنا پڑے گا: چیف جسٹس
- سوموار 11 / جنوری / 2021
- 5670
سینیٹ انتخابات اوپن بیلیٹ کے ذریعے کروانے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہمیں پورے آئینی ڈھانچے کو جانچنا پڑے گا۔ عدالت پورا جائزہ لےکر ہی فیصلہ کرے گی۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ 5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد کے ساتھ جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل ہیں۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان، ایڈووکیٹ جنرلز و دیگر لوگ پیش ہوئے۔ خیال رہے کہ 4 جنوری کو سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات کرانے سے متلعق صدارتی ریفرنس کے معاملے پر پہلی سماعت کے بعد چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی و صوبائی اسمبلیز، الیکشن کمیشن، وفاقی و صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے تھے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرلز کو تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ نوٹس اخبارات میں بھی شائع کیا جائے تاکہ جو اس معاملے پر رائے دینا چاہے، وہ دو ہفتوں میں تحریری معروضات عدالت میں جمع کرائے۔ مذکورہ معاملے پر آج جمعیت علمائے اسلام (ف) کے وکیل کامران مرتضیٰ پیش ہوئے اور کہا کہ ہم تحریری معروضات جمع کرانا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ دفتر ہمارا تحریری جواب وصول نہیں کر رہا۔ اس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ آپ تحریری جواب داخل کرا دیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے صدارتی ریفرنس کی مخالفت کی اور تحریری درخواست میں کہا ہے کہ صدارتی ریفرنس ناقابل سماعت ہے۔ یہ ریفرنس پارلیمنٹ کی توہین کے مترادف ہے۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ ملک قمر افضل اور مدثر حسن نے بھی مقدمے میں فریق بننے کی استدعا کی جسے عدالت نے قبول کرلیا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ بطور سینیٹر مقدمے میں فریق بننا چاہتا ہوں اور اس سلسلے میں ایک درخواست بھی دائر کی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو فریق بننے کی اجازت ہے۔ تحریری جواب داخل کرائیں۔
سماعت کے دوران سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے صوبائی حکومت کے جواب جمع کرانے سے متعلق جب کہا گیا تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا سندھ حکومت کا جواب میٹھا ہوگا؟ جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔ بعد ازاں بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگرچہ جواب جمع کرانے کے لیے 2 ہفتوں کی مہلت تھی آپ اس ہفتے جمع کرادیں۔
اس موقع پر وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ میں نے جواب جمع نہیں کرایا لیکن جواب تیار ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ابھی عدالت میں جمع کرادیں، سارے جوابات آجائیں تو پھر معاملے کو دیکھتے ہیں۔
چیف جسٹس کے ریمارکس کے بعد بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحس نے پوچھا کہ کیا قانون کے مطابق کوئی عام شہری آزادانہ سینیٹ الیکشن لڑسکتا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل کوئی قانونی قدغن نہیں۔ کوئی بھی شہری الیکشن لڑسکتا ہے، قومی اسمبلی کے الیکشن براہ راست ہوتے ہیں۔
بعد ازاں اٹارنی جنرل نے تحریری معروضات جمع کرائیں اور کہا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے تحت قابل سماعت ہے۔ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 226 کے اسکوپ سے متعلق ہے جبکہ سپریم کورٹ صدر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے۔ عدالت عظمیٰ مستقبل کی قانون سازی سے متعلق بھی رائے دے سکتی ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر قانونی سوال پر سپریم کورٹ کی رائے لے سکتے ہیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے سوال قانونی یا عوامی مفاد کا ہے یا نہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں بھی قوانین پر سپریم کورٹ سے رائے لی گئی ہے۔ کئی بار قانون سازی سے قبل صدر نے عدالتوں سے رائے لی۔ عدالت ماضی میں بھی صدارتی ریفرنسز قابل سماعت قرار دے چکی ہے۔