پاکستان میں منظم دہشت گردوں کا کوئی اسٹرکچر موجود نہیں: ترجمان پاک فوج

  • سوموار 11 / جنوری / 2021
  • 4510

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان میں منظم دہشت گردوں کا کوئی اسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ڈی ایم کا راولپنڈی آنے کا کوئی جواز نہین ہے لیکن اگر وہ آتے ہیں تو انہیں چائے پانی پوچھیں گے۔

میجر جنرل بابر افتخارنے کہا کہ گزشتہ 10 سال ہر لحاظ سے پاکستان کے لیے بہت چیلنجز وقت تھا۔ 2020 میں ہی سیکیورٹی چیلنجز کے علاوہ ٹڈی دل اور کووڈ 19 جیسی وبا نے پاکستان کی معیشت اور خوراک کے تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالے رکھا۔ گزشتہ دہائی میں ایک طرف مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی شرانگیزی جاری تھی تو دوسری طرف مغربی سرحد پر کالعدم دہشت گرد تنظیموں ان کے جوڑ توڑ اور پشت پناہی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جارہا تھا۔

 اس تمام چیلنجز کے باوجود ریاست، تمام قومی اداروں، افواج پاکستان، انٹیلی جنس ایجنسیز اور سب سے اہم پاکستانی عوام نے متحد ہوکر ان مشکلات کا مقابلہ کیا اور بحیثیت قوم اللہ نے ہمیں سرخرو کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سرحد پر قبائلی اضلاع میں امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ سماجی معاشی منصوبوں کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ پاک افغان اور پاک ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے گئے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن سے سیکیورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہوئی۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بھارت کے مذموم عزائم ہوں یا پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وارفیئر کی ایپلی کیشن، خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی ہم نے ہمیشہ ثبوتوں اور حقائق کے ذریعے ان کی نشاندہی کی اور کامیابی سے ان کا مقابلہ کیا۔ سیکیورٹی سے متعلق کیے گئے اقدامات پر انہوں نے بتایا کہ آپریشن رد الفساد میں دہشت گردوں کی سپورٹ بیس، سہولت کاروں اور غیرقانونی اسلحہ و بارود کا بڑی حد تک خاتمہ کیا گیا۔ پاکستان میں اب منظم دہشت گردوں کا کوئی اسٹرکچر موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2007 اور 2008 میں قبائلی اضلاع پر صرف 37 فیصد علاقے میں ریاستی عملداری رہ چکی تھی۔ آج تمام قبائلی اضلاع مکمل طور پر خیبرپختونخوا  کا حصہ بن چکے ہیں۔ دہشت گردی کے بڑے واقعات میں 2019 کی نسبت 2020 میں 45 فیصد کمی آئی۔ 2013 میں سالانہ اوسطاً 90 حملے تھے جو آج گھٹ کر 13 رہ گئے ہیں۔

کراچی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہاں دہشتگردی میں 95 فیصد، ٹارگٹ کلنگ میں 98 فیصد، بھتہ خوری میں 99 فیصد جبکہ اغوا برائے تاوان کے واقعات میں 98 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ مغربی سرحد  پرامن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری لائی گئی ہے۔ 2611 کلومیٹر پر 83 فیصد کام مکمل کرلیا ہے جو سال کے وسط تک مکمل ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان ایران سرحد پر 37 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور امید ہے کہ اگلے ایک سال تک یہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔

بھارت اور لائن آف کنٹرول سے متعلق انہوں نے کہا کہ مشرقی سرحد بالخصوص ایل او سی پر بھارت کی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ برس 3 ہزار 97 جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی جس میں 28 معصوم افراد شہید اور 257 زخمی ہوئے۔

بھارت نے نان کائنیٹک ڈومین یعنی ففتھ جنریشن اور ہابرڈ وار فیئر کا سہارا لیا۔ اس خطرے کے حوالے سے آرمی چیف نے گاہے بگاہی بات چیت بھی کی اور وقتاً فوقتاً ہم اس سے آگاہ بھی کرتے رہے۔  میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ فنانشل کرائم انفورسمنٹ نیٹ ورک، بھارت کے 44 بینکوں کی منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ، یو این ایچ آر سی اور جینوسائڈ واچ کی جانب سے بھارت کی بدترین ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق چشم کشا انکشافات سامنے آچکے ہیں۔

دوران بریفنگ کورونا وائرس سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم نے بطور قوم اس چیلنج کا حکمت اور دانش مندی سے مقابلہ کیا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹرز، پیرامیڈکس، ہیلتھ ورکرز اور وہ تمام ادارے اور افراد جو اس وبا کے خلاف نبرد آزما ہیں وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ پاکستانی میڈیا کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا نے اس وبا کے دوران عوام کی آگاہی کےلیے اپنے مفادات سے بالاتر ہوکر خدمت کی اور عظیم مثال قائم کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دشمن قوتیں ہمیں ناکام اور تقسیم کرنے کے درپر ہیں۔ ہماری منزل ایک ہے اور پاکستان کو کامیاب بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اس موقع پر سوالات کے سیشن میں بلوچستان اور سابق فاٹا میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ڈی جی آئیس ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں مستقل کمی کا رجحان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان جتنا بڑا صوبہ ہے تو وہاں ہر جگہ نفری کھڑی کرنا ممکن نہیں ہے۔ علاقوں کی سیکیورٹی کو مضبوط کیا جا رہا ہے اور حالات میں مزید بہتری آئے گی۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ بلوچستان محفوظ ہو کیونکہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے۔ ایک سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اسی ہفتے کے دوران کوئٹہ کا دورہ کریں گے۔

فوج کے خلاف بیانیے کے حوالے سے سوال کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ اگر آپ تنقید یا نام نہاد الزامات کی بات کررہے ہیں تو فوج اپنا کام کررہی ہے۔ فوج قربانیاں بھی دے رہی ہے۔ الزامات میں اگر کوئی حقیقت ہو تو ردعمل دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت مصروف ہیں۔ ہم ان چیزوں میں نہیں پڑنا چاہتے ہیں نہ پڑیں گے۔ فوج اپنا کام  کرتی رہے گی، کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔

روالپنڈی کی طرف مارچ کے بارے میں مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر سوال کے جواب میں مجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ مجھے ان کے پنڈی آنے کی کوئی وجہ نظر آنہیں آتی۔ اگر وہ آئیں گے تو ان کو چائے پانی پلائیں گے۔ ان کا خیال رکھیں گے۔

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی قیادت کی جانب سے فوج کو دھمکی اور سلیکٹر کہنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ یہ صحیح بات نہیں ہے اور ہمیں اس حوالے سے تشویش ہے۔ جس نوعیت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں ان میں کوئی وزن نہیں ہے۔  پاکستان فوج کو حکومت وقت نے الیکشن کرانے کا کہا۔ پاک فوج نے اپنی پوری ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ وہ الیکشن کرائے۔ اس کے بعد اگر کسی کو کوئی شک ہے تو پاکستان کے تمام ادارے اپنا کام کررہے ہیں اور انہی سے رابطہ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ فوج حکومت کا ایک ذیلی ادارہ ہے اور جو بھی بات چیت اس ضمن میں کی گئی ہے حکومت پاکستان نے اس کا بہت اچھے طریقے سے جواب دیا ہے اور اس سے نمٹ بھی رہی ہے، فوج کو نہ سیاسی معاملات میں آنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

بھارت کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج نے بھارتی اشتعال انگیزیوں کا ہمیشہ بھرپور طریقے سے جواب دیا ہے اور ہم جواب دیتے رہیں، وہ جو کچھ بھی کریں گے ہم اس کے لیے مکمل تیار ہیں اور وہ بھی اس بات کو جانتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ زمین پر کوئی منظم دہشت گرد گروہ موجود نہیں ہے۔ باڑ بھی ابھی پوری نہیں لگی ہے، لہٰذا کبھی کبھی کچھ مقامات سے کچھ لوگ آجاتے ہیں لیکن وہ وہاں رہ نہیں سکتے۔

علاقے میں داعش کی موجودگی کے حوالے پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ہم نے ڈوزیئر میں بھی اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ داعش کا پاکستان کا دھڑا بنانے اور اس کے ذریعے سرگرمیاں منعقد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ موجودگی زیادہ نہیں ہے، وہ کوشش کررہے ہیں، مختلف آرگنائزیشنز کے باغی گروپ ان کا نام استعمال کررہے ہیں تاکہ کچھ ساکھ بنا سکیں لیکن وہ یہاں مسقل قدم نہیں جما سکیں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم سرکاری اور عسکری سطح پر افغانستان اور ایران سے رابطے میں ہیں۔ افغانستان میں داعش موجود ہے جسے را کی معاونت حاصل ہے جس کے بہت سے ثبوت موجود ہیں۔ ہم نے افغان حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔