تاریک راہوں میں مرتے ہوئے لوگ

مسلمان معاشرے میں  غیر اسلامی رویے ، خود تریدی کا ایک ایسا  بھیانک  عذاب ہیں جو ہماری نسلوں کو گمراہ  کر رہے ہیں۔  ہم جو صفائی کو نصف ایمان کہتے نہیں تھکتے ،  اپنے شہروں کو صاف نہیں رکھ سکتے۔ ہم جو اپنے سیاسی بیانات میں آئین کی پابندی اور آئین شکنی کا رونا روتے ہیں، اپنی روز مرہ زندگی میں آئین اور قانون  کی پابندی نہیں کر پاتے۔

ہمارے ہاں صادق اور امین ہونے کے حوالے سے بڑی بڑی باتیں ہوتی ہیں مگر  ہم کرپشن، منی لانڈرنگ، رشوت ستانی اور  ایک دوسرے  کے حقوق غصب کرنے  میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔  پچھلے چند دنوں میں جو بھیانک واقعات  پاکستانی معاشرے میں رونما ہوئے ہیں  اُن میں سرِ فہرست ایک بھائی کا اپنے سگے چھوٹے بھائی  کو قتل کرنے کا دل دہلا دینے والا اقدام ہے ۔  چوریاں اور مسلح ڈکیتیاں ہمارا روز مرہ ہیں۔  بیٹیاں ماؤں کے ہاتھوں قتل ہو رہی ہیں، نشے کی لت میں مائیں  خود کُشی کے  اقدامات کر رہی ہیں۔  عدالتوں کے احاطوں میں گولیاں چل رہی ہیں۔  اور دوطرفہ انسانی رشتے اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ شہروں، قصبوں اور دیہات میں  ایک ساتھ رہنا مشکل ہوگیا ۔

 ہماری  معاشرتی زندگی  ہمارے  اپنے غیر معاشرتی رویوں کے ہاتھوں  معدوم ہو کر رہ گئی  ہے اور اس کے باوجود مدینے کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔  عجیب مذاق ہے  لیکن یہ مذاق ہمارا مذاق رات کا پروگرام ہے جو جگتوں  کا ایسا بے رحمانہ  سلسلہ ہے جس نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔  کیا یہ ہماری  اجتماعی نالائقی، نا اہلی اور  کاہلی نہیں کہ ہم بہتر سال میں ایک ایسا مستحکم معاشرہ نہیں بنا سکے جہاں لوگ سکھ کا سانس لے سکتے، سب کو دو وقت کی عزت کی  روٹی اور سر چھت میسر ہوتی۔  نہیں ہم یہ  نہیں کرسکے اور فٹ پاتھ نشینوں کے درمیان قوالی جاری ہے کہ:

میرے مولا بلالو مدینے مجھے

لیکن ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ کون سا مونہہ لے کر مدینے جائیں گے۔ کیا ہمارے اعمال ایسے ہیں جن کے بل پر ہم  اپنا سر فخر سے بلند کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مونہہ دکھا سکیں۔ غالب نے ایسے ہی کسی احساس کے تحت کہا تھا:

کعبہ کس مونہہ سے جاؤ گے غالب

شرم تم کو مگر نہیں آتی

نہیں ہمیں بالکل بھی شرم نہیں آتی۔ اسی لیے ہمارے اسمبلی کے ایوان میں یہ نعرہ گونجتا رہتا ہے کہ کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے۔  مگر ہماری بدقسمتی کہ  شرم و حیا جیسی  یہ  قیمتی نعمتیں  ہمارے معاشرے سے ناپید ہوگئی ہیں۔  اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے گھروں کو منافقت کے ادارے بنا رکھا ہے۔ بیٹے باپ کے سامنے  تو ادب و احترام سے  ابا جی ابا جی کرتے ہیں، اور جب دوستوں کے سامنے  باپ کی سخت گیری کی شکایت کرتے ہیں تو ابا جی پیو بن جاتا ہے  اور کہا جاتا ہے کہ میرا  پیو بڑا ڈاڈھا اے۔  جس کا ایک ہی مطلب ہے کہ ہم ایک مستحکم سماجی رویے کے حامل نہیں ہیں۔پل میں تولہ، پل میں ماشہ اور  ہمارے چہرے بدلتے رہتے ہیں۔  اور کسی کے منافق ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ مونہہ پر جی حضوری کرتا ہے اور عدم موجودگی میں تُو تڑاک کرتا ہے۔ اور یہ  رویہ  عمر کے ساتھ پروان چڑھتا ہے اور سکولوں، مدرسوں، دفتروں اور مسجدوں تک میں اسی منافقت کی عملداری ہوتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جو اولاد باپ یا دوسرے بزرگوں  کے سامنے تو اُن کو ادب و احترام سے مخاطب کرتی ہے مگر اُن کی عدم موجودگی میں اُس کا احترام روا نہیں رکھتی،  وہ کس دین پر ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ دینِ منافقت پر ہے۔  جس کا ایک ہی مطلب ہے کہ ہم وہ نہیں ہیں  جو خود کو ظاہر کرتے ہیں۔  منیر نیازی کہا کرتے تھے کہ اس شہر میں وہ آدمی نہیں ملتا جو کسی کی عدم موجودگی میں اُس کے لیے کلمہ ء خیر کہے۔  وہ بالکل درست کہتے تھے کیونکہ  وہ دوست جو دوست کی عدم موجودگی میں بھی دوست ہو ناپید ہے۔ اس کا  ایک ہی مطلب ہے کہ فرد موجود نہیں ہے۔ فرد تو  منفرد ہوتا ہے،اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ وہ منقسم نہیں مکمل ہوتا ہے۔ جو مکمل ہو وہ صحت، ہوش مند اور پاکیزہ باطن ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں اتھارٹی ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کی بنیادی اینٹ ہوتا ہے اور جب معاشرہ ایسے منفرد افراد پر مشتمل ہو تو زندگی ایک خوبصورت گیت بن جاتی ہے  کیونکہ  فرد کا ظاہر باطن ایک ہوتا ہے،  وہ خیر و شر میں بٹا ہوا نہیں بلکہ ان سے ماورا ہوتا ہے۔  مجسم خیر۔ اس  کا مبلغ عمل امن ہوتا ہے۔

 امن ایمان کی  ایک صفت ہے جو  افراد کے درمیان ہم آہنگی اور تعلق کا توازن پیدا کرتی ہے۔ جہاں معاشرہ اعتدال اور توازن کا گہوارہ ہو ،  وہاں لوگ  امن، محبت اور دوستی کی  فضا میں  مل جل کر رہتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہوتیں بلکہ مل جل کر ملکی معیشت کی ترقی کے لیے  کام کرتی ہیں، ایک دوسری سے تعاون کرتی ہیں، مگر ہمارے یہاں سیاست  دشمنی کی وہ صورت ہے جسے پنجابی میں شریکا کہا جاتا ہے۔ شریک ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے کی  تاب نہیں رکھتے۔ لڑائی جھگڑا ُن کی گھٹی میں ہوتا ہے اور اب وہ شرکیا اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں غنڈوں کے اکھاڑے بن کر رہ گئے ہیں۔ سیاسی لوگ ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے، ایک دوسرے کو بے آبرو کرنے اور ایک دوسرے  کو ذلیل کرنے پر تُلے رہتے ہیں  اور وہ اتنی سمجھ بوجھ  بھی نہیں رکھتے  کہ خُدا نے انسان کو بنایا ہے اس لیے انسان کا احترام خُدا  کا احترام ہے ۔  حالانکہ مخلوق کا احترام خالق کا احترام ہے  اور  بطور مخلوق  خود اپنا احترام کرنا  اور اپنی ذات اور نفس کو برائی سے آلودہ نہ ہونے دینا  انسانی احترام کی بنیادی شرط ہے۔

 اسی لیے  پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اُنہیں غلافِ کعبہ کی بے حُرمتی سے زیادہ ایک انسان کی بے حُرمتی کا دکھ ہوگا۔  لیکن اس تعلیم  کو  نظر انداز کر کے  ایک دوسرے کو سب  و شتم کا نشانہ باتے رہتے ہیں۔  ہم اپنی اینٹوں سے بنائی ہوئی مسجد کی تو عزت افزائی کرتے ہیں مگر  خُدا کے بنائے ہوئے انسان کو ذلیل و رسوا کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔ کیا ایسا معاشرہ  جس میں بدکلامی اور بد زبانی معمول کی بات ہو،  اسلامی معاشرہ کہلانے کا حق دار ہے؟  بدقسمتی تو یہ ہے کہ لوگ مذہب کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں۔ مذہب کا مزاج آمرانہ، سوفسطائی یا بنیاد پرستانہ نہیں بلکہ غایت  درجہ جمہوری ہے۔ یہ کائنات اور انسان کے درمیان اصولوں کا رشتہ ہے ۔ دو طرفہ ربط و ضبط کا رشتہ جس کے تحت انسان اور کائنات کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہوتی ہے۔ ایسی ہم آہنگی جس میں خدا اپنے بندے کا ذکر ایسے کرتا ہے جیسے بندہ اپنے خُدا کا۔  لیکن افسوس کہ فرقہ واریت کے موجدوں نے  مذہب کے بہتر ٹُکڑے کر دیے ہیں  اور اگر اُنہوں نے یہ ظُلم نہ کیا ہوتا تو  یہ زمین جنت کی جیتی جاگتی تصویر ہوتی ۔

جنت جو محبت، فراوانی، خوش حالی اور خوشی کا استعارہ ہے،لیکم ہم اس جنت سے نکالے ہوئے لوگ ہیں جنہیں پاکستان میں قید کردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جاؤ!  کہ تم ایک دوسرے کے کھلے دشمن ہو۔ اس جیل میں  رہو، لڑو اور مرو  کہ یہی تمہارا مقدر ہے۔  میرے قلم کے مونہہ میں خاک کہ وہ ایسی باتیں لکھ رہی ہے۔ مگر یقین جانیں کہ سیاسی قیادتوں نے پچھلے  بہتر برس میں قوم کو مایوس کیا ہے اور اپنے مفادات کی 

سیاست کو جمہوریت کہا ہے ۔ یہ جمہوریت  جو  ملک کے عام آدمی کو اذیت دینے کا نظام ہے ، ایک ایسے  عفریت کی طرح  ہے جو ایک ایک کر کے ساری انسانی قدروں کو کھاتی چلی گئی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا کل ہمارے لیے کیا پیغام لے کر آئے گا۔  فی الوقت تو پاکستان سیاسی اور انتظامی طور پر مفلوج ہے۔ پاکستان میں ڈمی حکومت موجود ہے جس کے احمقانہ اقدامات سے ملکی مسائل بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ خُدا جانے کیا ہونے والا ہے۔  یہ کوئی نہیں جانتا۔ میں بھی نہیں اور آپ بھی نہیں۔ چلو چائے پیتے ہیں۔