لبریشن فرنٹ کیوں بار بار ٹوٹتی ہے؟
چند ہفتوں سے لبریشن فرنٹ کے ایک بار پھر ٹوٹنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ میں نے اس پر خاموشی اختیار کئے رکھی مگر جب میرے آبائی شہر کھوئیرٹہ میں اس صورت حال سے پریشان نوجوانوں نے اجلاس بلایا تو میں نے انہیں صبر اور مصالحت کا مشورہ دیا۔
ہم نے ایک مشترکہ اعلامیہ میں مصالحتی کمیٹی کی تجویز دی مگر خود ساختہ مرکز نے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے کوئی مثبت جواب نہ دیا۔ اس کے باوجود ہم چند پرانے ساتھی خاموش رہے۔ بعض اوقات خاموشی بھی ہزار نعمت ہوتی ہے مگر ضرورت سے زیادہ خاموشی تحریک و تنظیم کے لیے گمرای کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے حال ہی میں فوت ہونے والے لبریشن فرنٹ کے سابق سنئیر وائس چئیرمین عبدالحمید بٹ کے تعزیتی ریفرنس منعقدہ کھوئیرٹہ میں جب نوجوان مقررین نے سپریم کونسل کے نام پر چند افراد کی طرف سے18 نومبر کو تنظیمی باڈی توڑنے کے ا علان کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا تو میں نے بھی اپنے چار دہائیوں کے قریب تحریکی و تنظیمی تجربات کی روشنی میں نوجوانوں کو بتانا ضروری سمجھا کہ آیا بار بار لبریشن فرنٹ کیوں تقسیم ہوتی ہے؟
میرے تجربات کی روشنی میں سب سے پہلی وجہ تنظیمی اور دوسری سیاسی ہے جسے ہم اندرونی اور خارجی بھی کہہ سکتے ہیں۔ تنظیمی لحاظ سے نظریاتی پرکھ اور تربیتی عمل کا فقدان ہے۔ اخلاق اور اخلاص کو بنیادی اصول نہیں بنایا گیا۔ لہذا کاروباری سوچ کے مالک افراد تنظیم پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ اخلاق اور اخلاص کی کمی کے باعث ہی کچھ لوگ معمولی اختلاف رائے پر بد اخلاقی اور بد کلامی پر اتر آتے ہیں جبکہ ہمارا مقدس مشن دلیل سے بات کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ میں لبریشن فرنٹ میں ایک سوچ فکر اور نظریہ لے کر شامل ہوا تھا جس کا ثبوت میں نے نوجوان سامعین کو یہ دیا کہ مقبول بٹ شہید حمید بٹ اور ریاض ڈار کے ساتھ میرا کوئی ذاتی تعلق نہ تھا۔ میں جرمنی میں ایک اکیس سالہ نوجوان کی حیثیت سے آرام کی زندگی بسر کر رہا تھا جب میں نے اخبار میں پڑھا کہ مقبول بٹ شہید تہاڑ جیل نیو دہلی میں مادر وطن کی آزادی کی جد و جہد کی پاداش میں بند ہیں اور ان کے ساتھی حمید بٹ اور ریاض ڈار سرینگر جیل میں ہیں۔ ان کے پتے حاصل کرنے کی ناکامی کی صورت میں میں نے مقبول بٹ تہاڑجیل نیو دہلی اور حمید بٹ اور ریاض ڈار سرینگر جیل لکھ کر خطوط پوسٹ کر دیے۔ تین ہفتے بعد مجھے ان کے جوابات ملے۔
ہم نے ان کی رہائی کے لیے پہلے سیاسی کوششیں کیں پھر امان اللہ خان جرمنی دورے پر آئے تو مقبول بٹ اور ان کے قید ساتھیوں بارے مزید تفصیلات بتائیں۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ ہم نے جماعتی عہدوں سے پہلے اپنے اندر اپنے ان قید ہموطنوں کے لیے درد محسوس کیا۔ میں نے پہلے سٹٹگارٹ جرمنی میں اور پھر پیرس میں لبریشن فرنٹ کی شاخیں قائم کیں۔ برطانیہ بھی آنا جانا رہا پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ مقبول بٹ اور ساتھیوں کی رہائی کی ایک کوشش کے لیے اغواہونے والے بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں میں بھی گرفتار ہو گیا اور 22 سال تک ماورائے عدالت قید رہا۔ یورپ سے اٹھنے والی آزادی کی یہ لہر آزاد کشمیر اور یہاں سے بھارتی مقبوضہ کشمیر داخل ہوئی۔ ہزاروں نوجوان شہید اور قید ہوئے مگر شہیدوں کے وارث اور غازیوں کو ساتھ لے کر چلنے کے بجائے نمائشی لوگوں نے انہیں پس منظر میں دھکیل دیا جس کی وجہ سے لبریشن فرنٹ کے اندر انفلٹریشن آسان سے آسان تر ہوتی گئی۔
کسی بھی نظریاتی اور انقلابی تنظیم کو لوگوں کو آزما کر رکنیت دینی چائیے مگر ہمارے ہاں وہی طریقہ رکھا گیا جو انتخابی پارٹیوں کا ہوتا ہے۔ لوگوں کو تھوک کے حساب سے بلا کر تنظیم کے اندر فرضی اعلانات کروائے جاتے رہے۔ کبھی کسی کے ماضی حال پر غور نہیں کیا گیا۔ کئی بار رکنیت سے پہلے عہدہ دے دیا گیا۔ تنظیم جب بھی گروپ بندی کا شکار ہوئی تو اس کی وجوہات پر غور کر نے کے بجائے ہر گروپ نے خود کو وقتی سہارا دینے کے لیے صرف عدد پر زور دیا۔ تحریک کے لیے جانی و مالی قربانی دینے والے نہیں بلکہ اکثر مفت عہدے ملنے والوں اور مال بنانے والے ہی سب سے زیادہ گروپ بندی کا سبب بنے۔ ہم چند ساتھیوں نے تین سال قبل آزاد کشمیر بھر کا دورہ کر کے ایک رپورٹ مرتب کی تھی جس میں تنظیم کو مضبوط و مربوط کرنے کے لیے اداروں کو فعال کرنے اور آئین کے تحت چلانے کی سفارش کی گئی تھی مگر عہدوں کو اپنی جاگیر سمجھ کر اس رپورٹ کا مذاق اڑانے والے آج خود اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔
یہ تو تھی بار بار تنظیم ٹوٹنے کی تنظیمی وجہ۔ سیاسی وجہ یہ ہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ایک قومی تحریک کے طور پر منظر عام پر آئی تھی۔ اسے جموں کشمیر کی وحدت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے تمام قابضین اس کے خلاف ہیں۔ قابضین کا اصل مقصد ریاست جموں کشمیر کو آپس میں بانٹنا ہے۔ اس بند ر بانٹ کی راہ میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کے خلاف خارجی سازشیں ہوں گی جن پر حیرت کی ضرورت نہیں۔ زندگی میں جس کسی کا جتنا بڑا مقصد ہو گا اتنا ہی زیادہ مشکلات اور سازشوں کا سامنا ہو گا لیکن خارجی مخالفتوں کی کامیابی کی اصل وجہ اندرونی کمزوریاں اور اختلافات ہوتے ہیں۔ اس لیے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی صفوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔حیرت صرف ماضی کے تجربات سے سبق نہ حاصل کرنے کی روش ہے یا ان خود غرض کشمیری لیڈروں کی سوچ جو کہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی بنائی جانے والی سیاسی جماعتوں کے زریعے کشمیر آزاد کرائیں گے۔
چئیرمین یاسین ملک قید ہیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں تنظیم کافی عرصہ سے بے عملی کا شکار ہے جبکہ پاکستان میں ایک دو فرد ان کے نام پر من پسند فیصلے کر رہے ہیں۔ جاندار فیصلے ہمیشہ وہیں ہوتے ہیں جہاں اجتماعی قیادت اور اختیارات کا پیرامیٹر اور سیاسی و آئینی طاقت کا توازن ہو۔ جہاں اجتماعی قیادت ہو وہاں کسی جماعت کے سربراہ کے قید ہو جانے یا فوت ہو جانے سے جماعت قید یا فوت نہیں ہوتی۔ جموں کشمیر کو محض ایک اکائی قرار دینا کافی نہیں بلکہ تنظیم کے اندر تمام منقسم حصوں کی مطلوبہ نمائندگی عملی طور پر نظر آنی چائیے۔ تنظیم کے صاحب الرائے، بالغ نظر اور مخلص دوستوں کو چائیے کہ وہ متحد ہو کر اجتماعی قیادت قائم کریں۔ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائیں بلکہ تلافی کریں ورنہ ہم پانچ سال بعد بھی وہیں کھڑے ہوں گے جہاں آج ہیں۔