بھارتی سپریم کورٹ نے زرعی قانون پر عمل درآمد روک دیا

  • منگل 12 / جنوری / 2021
  • 4210

بھارتی سپریم کورٹ نے کسانوں کے احتجاج کا باعث بننے والے نئے زرعی قانون پر سماعت کے لیے پینل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے نئے زرعی قانون پر غیر معینہ مدت تک حکم امتناع بھی جاری کردیا ہے۔

چیف جسٹس شراد بوبدے نے سماعت کے دوران کہا کہ کسانوں کے خدشات سنے جائیں گے۔اس مقصد کے لئے سپریم کورٹ ایک پینل تشکیل دے گی۔ خیال رہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں ہزاروں کسانوں نے حکومت کی اصلاحات کے خلاف احتجاجی کیمپ لگا رکھا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ نیا قانون نجی خریداروں کو فائدہ اور کسانوں کے لیے نقصان کا باعث ہے۔

چیف جسٹس شراد بوبدے کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار ہے اور کمیٹی ہمیں رپورٹ دے سکتی ہے۔ انہوں نے ستمبر 2020 میں جاری ہونے والے قانون پر غیر معینہ مدت کے لیے اسٹے آرڈر جاری کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسانوں کو تحفظ دیں گے۔

سپریم کورٹ نے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ قانون کا مقصد زرعی نظام کو جدت بخشنا ہے تاکہ رسد میں حائل رکاؤٹوں کا توڑ کیا جاسکے۔ کسانوں کی جانب سے اس قانون کو واپس لینے کے لیے شدید احتجاج کیا گیا۔

خیال رہے کہ بھارت میں زرعی اصلاحات کے قانون کو ستمبر میں منظوری دی گئی تھی اور اس وقت سے کسانوں کا احتجاج جاری ہے جس میں شدت اس وقت آئی تھی جب احتجاج کرنے والوں نے بھارتی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کی۔ حالیہ برسوں میں خشک سالی اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی وجہ سے ہزاروں کسان خودکشی کرچکے ہیں۔

گزشتہ برس کے ابتدا میں قانون سازی کی گئی تھی جس کے مطابق کسانوں کو اپنی فصل ریاست کے مقرر کردہ نرخوں پر مخصوص مارکیٹس میں فروخت کرنے کے بجائے اپنی مرضی سے کسی کو بھی کسی بھی قیمت پر فروخت کرنے کی آزادی ہوگی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اسے زراعت کے شعبے میں مکمل تبدیلی قرار دیتے ہوئے سراہا تھا کہ قانون لاکھوں کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ضروری سرمایہ کاری اور جدت پسندی کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ تاہم پنجاب میں حکومت کرنے والی اور اپوزیشن کی اہم جماعت کانگریس نے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس تبدیلی نے کسانوں کو بڑی کارپوریشن کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے ستمبر میں پارلیمنٹ میں معمولی بحث کے بعد منظور کیے گئے ان قوانین نے زرعی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ کے سیاسی طور پر بااثر کسان گروپوں کو خاص طور پر مشتعل کردیا تھا۔ ان قوانین سے چھوٹے کاشتکاروں کو خدشہ ہے کہ جب بڑے کارپوریٹ کھلاڑی مارکیٹ میں داخل ہوں گے تو انہیں قیمتوں کے حوالے سے سرکاری کی جانب سے کوئی تحفظ نہیں ملے گا۔