کورونا ویکسین پاکستان آنے میں وقت لگے گا: اسد عمر
- منگل 12 / جنوری / 2021
- 5360
وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کی ویکسین آنے میں وقت لگے گا۔ ملک کو کورونا وائرس کی تیسری لہر سے ہر صورت بچنے کی کوشش کرنا ہوگی۔
اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی و ترقی نے کہا کہ کورونا آیا اور لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے زیادہ تر کاروباری سرگرمیوں پر بندشیں لگ گئیں اس کا اثر یہ پڑا کہ 2 کروڑ سے زائد لوگوں کا روزگار چھن گیا۔
انہوں نے کہا کہ بے روزگار ہونے والے 2 کروڑ لوگوں میں سے 29 فیصد دیہاڑی دار افراد تھے جن کی نوکری اس نوعیت کی ہوتی ہے کہ اس دن وہ کام پر آتے ہیں تو ان کو پیسہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ جو خود کام کرتے ہیں مثلاً ٹھیلا لگاتے ہیں، چھوٹا کھوکھا چلاتے ہیں اور جن کا شمار غریب لوگوں میں ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بھی 30 فیصد ہے جو اس دوران روزگار سے محروم ہو گئے۔
دو تہائی سے زیادہ تو وہ لوگ متاثر ہوئے جو دیہاڑی دار ہیں، اس دن اگر ان کا کاروبار نہ ہو تو ان کو کچھ مل نہیں سکتا۔ یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم بار بار اس بات کو دہراتے تھے کہ ہم اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ مکمل طور پر اس بات کو نظر انداز کر کے سب کچھ بند کردیں۔
اسد عمر نے روزگار بند ہونے سے مرتب ہونے والے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 54 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ دیگر چیزوں کی خریداری کم کردی لیکن 50 فیصد افراد نے نسبتاً سستی چیز کھانی شروع کردی یا کم خریدنا شروع کردیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ یہ افراد کتنی مشکل میں تھے اور اگر بروقت فیصلے نہ کیے جاتے تو آگے کتنی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا تھا۔ ان فیصلوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ چاہے ورلڈ ہیلتھ فورم ہو، ورلڈ اکنامک فورم، عالمی ادارہ صحت ہو، بل گیٹس ہو، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ہوں، تمام دنیا نے پاکستان کی تعریف کی۔
موجودہ صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا برطانیہ میں پہلی لہر سے کہیں زیادہ اس وقت اموات ہو رہی ہیں۔ یہ دکھاتا ہے کہ جب آپ صحیح فیصلے نہ کر سکیں تو کس طریقے سے یہ وبا آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ہم نے اکتوبر کے شروع میں پہلی مرتبہ یہ وارننگ دینا شروع کی تھی کہ دوسری لہر آسکتی ہے۔ نومبر کے آخری ہفتے میں ہمیں وبا میں بہت زیادہ تیزی نظر آئی تو وہ سرگرمیاں جن سے وبا کے پھیلاؤ میں مدد مل رہی تھی مثلاً بند ریسٹورنٹ، شادیاں اور تعلیم کے نظام کے حوالے سے فیصلے کیے۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں تعداد عروج پر پہنچنے کے بعد کم ہونا شروع ہو گئی، اس سے ایک ہفتے بعد دسمبر کے دوسرے ہفتے میں سب سے زیادہ مریض آکسیجن پر پائے گئے اور اس ہفتے اوسطاً ڈھائی ہزار مریض تھے جبکہ وینٹی لیٹر پر بھی سب سے زیادہ 353 مریض تھے۔
اسد عمر نے عوام سے احتیاط کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑا عرصہ رہ گیا۔ حکومت نے بروقت اچھے فیصلے کیے اور عوام نے ان کا بھرپور مدد کی۔ میڈیا نے اس پیغام کو عوام تک پہنچانے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا۔ اب آخری وقت میں یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم بے احتیاطی شروع کردیں اور خدانخواستہ جیسے دوسرے چند ممالک ہیں جہاں وبا کی دوسری اور کچھ میں تیسری ہر پھیلی ہے، ہمیں اس سے بچنا ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ حکومت کورونا ویکسین حاصل کرنے کیلئے تیزی سے فیصلے کر رہی ہے لیکن ویکسین آنے میں وقت لگے گا۔ کورونا وائرس کی تیسری لہر سے ہر صورت بچنے کی کوشش کرنا ہوگی لہٰذا اس وقت تک ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتیاط کرے۔