مواخذے کی کارروائی اشتعال پیدا کرے گی: صدر ٹرمپ
- بدھ 13 / جنوری / 2021
- 4260
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک ارکان کی جانب سے اُن کے مواخذے کی کارروائی کے عمل کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے کے بعد صدر نے پہلی مرتبہ منگل کو صحافیوں سے گفتگو کی۔ صدر ٹرمپ نے اُن الزامات کو مسترد کیا ہے کہ وہ کیپٹل ہل پر حملے اور اس دوران توڑ پھوڑ اور پانچ افراد کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔
صدر نے اس بات پر زور دیا کہ حملے کے روز انہوں نے وائٹ ہاؤس کے سامنے اپنے حامیوں سے جو خطاب کیا تھا، وہ بالکل مناسب تھا۔ یاد رہے کہ بدھ کو کیپٹل ہل پر حملے سے قبل صدر ٹرمپ کے حامی وائٹ ہاؤس کے باہر جمع ہوئے تھے جہاں صدر نے ان سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ وہ اُن قانون سازوں کے خلاف اپنی طاقت کا مظاہرے کریں جو بائیڈن کی انتخابی کامیابی کی تصدیق کر رہے ہیں۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ کے حامی کانگریس کی عمارت کی جانب بڑھے جہاں نائب صدر مائیک پینس سمیت اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ایوان میں نو منتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کا عمل جاری تھا۔ صدر کے حامیوں کے حملے مین ایک پولیس افسر سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
جو بائیڈن 20 جنوری کو امریکہ کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھائیں گے جس میں ایک ہفتہ باقی ہے تاہم اس سے قبل صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مطالبات میں شدت آتی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے جو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ایوانِ نمائندگان میں ان کے مواخذے کی کارروائی بڑے پیمانے پر غم و غصے کا باعث بن رہی ہے۔ یاد رہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ایوانِ نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے پیش کردہ قرار داد پر آج ووٹنگ ہو گی۔ خیال پے کہ بہت سے ری پبلیکن اراکن بھی مواخذے کی حمایت کریں گے۔
ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ امریکہ، آئین اور امریکی عوام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں جنہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔
پیر کو ایک قرار داد میں نائب صدر مائیک پینس اور کابینہ کے اراکین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ 25 ویں ترمیم کا استعمال کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹا دیں۔ تاہم نائب صدر مائیک پینس نے اس قرار داد کو مسترد کردیا ہے۔